”اے پی سی “میںجماعت اسلامی کا مو¿قف

”اے پی سی “میںجماعت اسلامی کا مو¿قف

                                                                                            وزیر اعظم میاں نواز شریف کی دعوت پر، 9ستمبر2013ءکو اسلام آباد میں”آل پار ٹیز کانفرنس“ منعقد ہوئی، جس میں تمام پارٹیوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ امن کے قیام کے لئے طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔اس ”اے پی سی “ کے آغاز میں عسکری قیادت نے شرکاءکو ”بریفنگ“ بھی دی۔آخر میں حکومت کو ”امن مذاکرات “ کا مینڈیٹ دینے کے حوالے سے ایک متفقہ قرار داد پاس کی گئی ،جس پر تمام نمائندوں نے دستخط کئے۔توقعات کے مطابق حالات میںیکسر تبدیلی پیدا کی گئی ہے، لیکن اپردیر اور پشاور چرچ قصہ خوانی بازارمیں دہشت گردی کے واقعات نے سب کو پھر تذبذب کا شکار کردیا ہے۔ حالیہ دہشت گردی....” گریٹ گیم.... ماسٹر پلان“، کے مطابق ہورہی ہے۔پاکستان کا دشمن اس سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتاہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے، ا س ”اے پی سی “ میں راقم نے اپنامو¿قف پیش کیاکہ ماضی میں ”اے پی سی “کے تجربا ت ،اس حیثیت سے بہت مایوس کن ثابت ہوئے کہ فیصلے تو اچھی فضا میں کئے گئے، مگر ان پر عمل درآمدنہیں ہوا اور شرکاءکو اعتماد میں لے کر یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ عمل کیوں نہ ہو سکا ۔یہ بھی نہ پوچھا گیا کہ موانع کو کس طرح دور کیا جا سکتا تھا۔ یہ چیز بھی اعتماد کو مجروح کرنے والی ہے۔ حکومت کا کام فیصلے کرنا اور انہیں نافذ کر ڈالنا ہے۔عوام کے مینڈیٹ کو اب عجیب وغریب معنی دیئے جا رہے ہیں۔میڈیا میں ایک مہم یہ بھی چل رہی ہے کہ جوکچھ حلقوں کی طرف سے ایک خاص پالیسی اقدام کو مسلط کرنے کے لئے فضا بنانے کا پتہ دیتی ہیں۔اس مہم کا نوٹس لینے اور اس spoilerسے محفوظ رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ میڈیا پر بیرونی دباو¿ بھی اس مہم کا سبب ہو سکتا ہے،کیونکہ میڈیاکے اندر ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں جو بیرونی قوتوں کے زیر اثر ہیں۔

اصل مسئلہ کوئی خاص آپریشن نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے مختلف پہلوو¿ ں کو متعین کرکے صحیح پالیسی بنانے کا ہے۔ بدقسمتی سے پرویز مشرف دور اور گذشتہ پانچ سال میںپالیسیاں دباو¿ کے تحت بنیں یہ رویہ تبدیل ہونا چاہئے ۔ اس خطے میں امریکہ اپنے ایجنڈے کی بالادستی کے لئے تباہی لایا ہے۔انڈیا نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی جس کی راہ ہماری اندرونِ ملک ،سول اور فوجی غلطیوں نے ہموار کی ،جس سے پاکستان دو لخت ہو ا ۔بھارت آج بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے،لہٰذا قومی سلامتی کی پالیسی کے لئے ضروری ہے کہ اسے عوام کی تائید حاصل ہو۔دہشت گردی کے سلسلے میں پرویزمشرف کے دور سے جو پالیسیاں ملک پر مسلط کی گئی ہیں ، ان کو قوم کی عظیم اکثریت کی تائید حاصل نہیں رہی،انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ کی 22اکتوبر2008 ، 14 مئی2011ءکی قراردادوں میں واضح کیا گیا ہے اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے اس پر ساٹھ نکات سے زیادہ پر مبنی اپنی تفصیلی رپورٹ دی، جسے نظر انداز کیا گیا ۔

آج بھی اگر مسئلے کے اس پہلو کو نظر انداز کر کے کوئی پالیسی بنائی جاتی ہے تو وہ نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔پاکستان میں جس چیز کو دہشت گردی کہا جا رہا ہے، وہ کوئی ایک چیز نہیں ۔افغان طالبان الگ شے ہیں، جنہیںپاکستانی طالبان کہا جاتا ہے ۔وہ بھی مختلف عناصر اور گروہوں کا مرکب ہے،جن میں باہم کوئی ربط اور وحدتِ نظم بھی نہیں ہے۔پھر فرقہ وارانہ تشدد الگ ایک اور شے ہے۔مرکز گریز اور علیحدگی پسندی کے لئے کام کرنے والے گروہ مختلف Phenomenaہیں۔نیز عام مجرموں نے جس طرح اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھایا ہے یا بعض سیاسی اور مذہبی گرہوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لئے جو تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے ،ان کی حقیقت بھی الگ ہے۔ان میں سے ہر ایک کا مقابلہ کرنے کے لئے الگ الگ حکمت عملی اور اقدام کی ضرورت ہوگی۔سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

 کراچی کا مسئلہ اپنا الگ ایک رنگ رکھتا ہے اور اس میں سیاسی اور دوسرے عناصر کوڈیلکرنے کے لئے الگ حکمت عملی کی ضرورت ہو گی۔ مسئلے کا بنیادی حل سیاسی ہی ہے اور اس کے لئے مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ،لیکن دوسرے متعلقہ پہلوو¿ں کے لئے دستور اور قانون کے دائرے میں ریاستی قوت کا صحیح استعمال بھی درکار ہوگا اور اس کے لئے، جن چیزوں کی ضرورت ہے،ان سب کا اہتمام لازم ہے۔پارلیمنٹ کی قراردادوں میں بار بار یہ کہا گیا کہ مسئلے کا اصل حل سیاسی ہے اور اس کے لئے مذاکرات ہی صحیح راستہ ہے۔ ا لبتہ اس کے ساتھ DevelopmentاورDeterenceدونوں ضروری ہیں۔ حکومت کی پالیسی کی سطح کی ناکامی کے ساتھ ساتھ ناکامی کے مزیدپانچ پہلو اور بھی ہیں ، یعنی Intelligence failure ،پولیس،انتظامیہ اور انٹیلی جنس میں سیاسی اثرونفوذ،سیاسی قیادت اور انتظامیہ کی نااہلی ،جانبداری،سیاسی مفاد پرستی یا مفاہمت،مرکز اور صوبوں میں ہم آہنگی کی کمی،سول اور فوجی قیادت میں مکمل ہم آہنگی کی کمی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جواب دہی میں کمی۔کوئی پالیسی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی، جب تک ان پانچوں امور کوصحیح طور پر طے نہ کیا جائے۔

پاکستانی سیاست،دہشت گردی کے خلاف اقدام، مذہبی منافرت،علیحدگی پسندی کی تحریکیں ،ان سب میںبیرونی قوتوں کے کردار کو محض ”سازش “ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مداخلت اور کردار بھی حقیقت ہے اور اسے Square faceکرنا ہوگا۔ فرقہ وارانہ شدت کو ختم کرنے ،بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرنے اور مختلف مذہبی فرقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ناگزیر ہے کہ تمام مسالک کے علماءکو متحد کیا جائے۔ ماضی میںملی یکجہتی کونسل کے فورم پر17 نکاتی ضابطہ اخلاق تشکیل دیا گیا تھا۔اس مقصد کے حصول کے لئے یہ ضابطہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔حکمت،تدبر، اتحاد اور یقین کے ساتھ اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا چاہئے۔ کبر کے ساتھ ظلم کرنے والوں اور محض قوت وطاقت پر یقین رکھنے والوں کے لئے ہے کہ :

اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبو کے دیکھ

اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم، خدا بھی ہے

قرآن کا پیغام ہے ....ترجمہ: ”اور جس نے اللہ کی رسی کو تھام لیا، اس نے ایک بڑے ہی مضبوط سہارے کو تھام لیا“۔ ٭

مزید : کالم