اخوت، قائدِ اخوت اوراخوت کا سفر

اخوت، قائدِ اخوت اوراخوت کا سفر

                                                                میرے پاس دہائیوں پہلے روزگار کی تلاش میں یو رپ جا بسنے والا ایک پاکستانی دوست بیٹھا تھا ۔ باتوں باتوں میں، مَیں نے اُسے بتا یا کہ پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو غریب، لیکن محنت کر کے اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے خواہش مند بے وسیلہ افراد کو بغیر ایک پائی سود یا سروس چارجز لئے اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے قرض دیتی ہے، یوں اُنہیں اپنے پاﺅںپر کھڑاہونے میں مدد کرتی ہے ۔وہ بہت حیران ہوا اور کہا کہ بغیر سودیا سروس چارجز کے کسی کو قرضہ کیسے دیا جاسکتا ہے اور کون دے سکتا ہے ؟ مَیں نے اسے مزید بتا یا کہ 2001ءمیں اس تنظیم کی طرف سے دس ہزار روپے کا پہلا قرضہ ایک بیوہ کو دیا گیاجو سلائی کڑھائی کر کے اپنے بچوں کی پرورش کا فریضہ سر انجا م دینا چاہتی تھی۔ آج بارہ سال بعد اس تنظیم کی طرف سے پانچ ارب روپے ساڑھے تین لاکھ سے زائد لوگوں میں بانٹے جا چکے ہیں اور اس قرضے کی واپسی کی شرح 99.85فیصد ہے۔ اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ مَیں نے اسے بتا یا کہ قرضے کے خواہش مند شخص کو درخواست دینے کے ایک ہفتے کے اندراندر کسی سفارش اورایک روپیہ بھی کسی جگہ پر خرچ کئے بغیر قرضہ مل جاتا ہے ، جبکہ لاکھوں لوگوں کو قرضہ دینے اور وصول کرنے کے اس سارے کا م میں مصروف ہر سطح کے سینکڑوں لوگوں میں سے ایک دو فیصد کے سوا سب کے سب رضا کارانہ طور پر کام کرتے ہیں.... اس تنظیم کو چلانے کے لئے ایک مرکزی اور جوچند ایک ذیلی دفاتر قائم کئے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام مسجدوں میں یا مسجدوںسے ملحق کسی دکان میں قائم ہیں، جہاں کسی قسم کا کوئی فر نیچر نہیں ہوتا۔ سب لوگ زمین پر دری اور چادر بچھا کر بیٹھتے ہیں۔اس تنظیم کا سر براہ اور اُس کو ملنے کے لئے آنے والے اور عطیات دینے والے انہی دفتروں میں آتے ہیں اور زمین پر بیٹھتے ہیں ۔یہاں کسی بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی سادہ پانی کے ایک گلاس کے سواکچھ پیش نہیںکیا جاتا۔ یہ تنظیم اپنے کارکنان سے رابطہ رکھتی ہے اوروقتاً فوقتاً اُن کے اجلاس بھی کرتی رہتی ہے اور یہ سب کچھ اُسی مسجد میں ہوتا ہے، جہاں اس تنظیم کا ذیلی دفتر قائم ہے۔ میرے دوست کی آنکھیںپھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔

 مَیں نے اسے مزید بتا یا کہ ا س تنظیم کا سربراہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کرنے والا ایک پاکستانی بیوروکریٹ ہے ،جو اپنی مدت ملازمت کے عین درمیان میں،جب وہ منزلوں پر منزلیں مارتا اپنی سروس کی معراج کی طر ف بڑھ رہا تھا، یک لخت سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کرانتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ٹاﺅن شپ لاہور کی ایک کیچڑ بھری بستی میں ایک لکڑی کے کیبن میں اس تنظیم کا دفتر بنا کر اُن غریبوں کا جو بھیک مانگ کر نہیں، بلکہ محنت سے کما کر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوناچاہتے ہیں ، سہارا بننے کے لئے اس پرُ خار وادی میںاُتر گیا اور آج بھی جبکہ یہ تنظیم اپنے پاﺅں پر مضبوطی سے کھڑی ہو چکی ہے اور اربوں کا لین دین کرتی ہے اورجس کو وہ اپنے وقت کا تین چوتھائی حصہ دیتا ہے، وہ اس سے ایک روپیہ بھی بطور تنخواہ یا اعزازیہ نہیں لیتا ۔یہ سب کچھ سن کر میرا دوست جذبات سے مغلوب ہوکرکھڑا ہوگیا اور کہنے لگا ایسا نہیں ہوسکتا ۔ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟یہ کون سی تنظیم ہے اور کون اس کا سربراہ ہے ؟ مَیں نے اسے بتا یا کہ اس تنظیم کا نام اخوت ہے اور اس کے سربراہ کا نام ڈاکٹر محمدامجد ثاقب ہے ۔

 اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب پر اب تک اتنا لکھا جا چکا ہے اور ڈاکٹر صاحب کو اتنے سر کاری ، غیر سر کاری ،قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے اور وہ عزت اور شرف کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ مَیں اب کچھ بھی لکھ دوں تو اُن کی عزت ، شہرت اور مقام میں مزیدکوئی اضافہ نہیں کر سکتا ۔صرف اظہار حقیقت کے طور پرلکھ رہا ہوں کہ مَیں انتہائی ایمانداری کے ساتھ سمجھتا ہوں کہ اخوت ایک معجزہ ہے جو اﷲنے کسی غیر نبی کے ہاتھوںاس دور میں برپا کیا ہے، اور ڈاکٹر امجد ثاقب ایک لازوال کردار اوربامقصدخدمت خلق کا جذبہ رکھنے والوںکے لئے ایک رو ل ماڈل ہیں ۔ہر چند کہ پاکستان میں بے شمار لوگوں نے غریبوں ، مریضوں، یتیموں اور بے وسیلہ لوگوں کے لئے انتہائی قابل قدر کام کئے ہیں اوران کی جتنی بھی ستا ئش کی جائے، کم ہے، لیکن اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب اس لحاظ سے اُن میں نمایا ں اور ممتاز ترہیں کہ انہوں نے ملک کے غریب اور بے وسیلہ لوگوں کی کسی وقتی ضرورت کو پورا کرنے کی بجائے انہیں کوئی کاروبار کرکے اپنے پاﺅں پر کھڑاہونے میںمدد دی تاکہ وہ اپنی اور اپنے بچوںکی ضروریات خود پوری کریں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کا تصور"مواخات مدینہ" سے لیا،جہاں حضوراکرم ﷺ کی تجویز پر انصار مدینہ نے مہاجرین مکہ کو اس طرح اپنا بھائی بنایا کہ اپنے گھر اور مال و اسباب کا نصف اپنے بھائی کو پیش کر دیا ۔ڈاکٹر امجد ثاقب کاکہنا ہے کہ سودی معاشرہ کبھی فلاح نہیںپا سکتا ۔ فلاحی معاشرہ صرف محبت، ایثار اور بھائی چارے سے وجود میں آتا ہے ۔معاشرے کی فلاح اس میںہے کہ جس کے پاس دوروٹیاں ہیں، وہ ایک اُس کو دے دے ،جس کے پاس کوئی نہیں۔جس کے پاس ایک روٹی ہے، وہ آدھی اُس کو دے دے، جس کے پاس آدھی بھی نہیں۔ڈاکٹر امجد ثاقب اس پاکیزہ سوچ کے ساتھ مواخات مدینہ کا فلسفہ اور اصول لے کر چلے اوراتنی نیک نیتی ، محنت ، دیانت اور انتظامی مہارت سے چلے کہ اس کو بیان کرنے کے لئے کوئی مناسب محاورہ اور ضرب المثل نہیں ملتی ۔اﷲاُن سے راضی ہوگیا اورپھراﷲ کے بھیجے ہوئے بندوں کے ذریعے اُن پر عطیات کی اس طرح بارش ہوئی کہ وہ پکار اُٹھے کہ "ہم تو صرف بانٹنے والے ہیں ، دینے والا تو کوئی اور ہے "۔ کتنے اعزاز کی بات ہے کہ اﷲتعالیٰ نے اپنی مخلوق میں اپنا فضل بانٹنے کے لئے ڈاکٹر امجد ثاقب کو منتخب کیا اور یہ عزت وشرف کی معراج ہے کہ اب اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب لازم و ملزوم بن چکے ہیں ۔اخوت کی شناخت ڈاکٹر امجد ثاقب اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی شناخت اخوت ہے، ایک کے بغیر دوسرا نا مکمل اور بے معنی ہے۔

کتاب" اخوت کا سفر" ڈاکٹر امجد ثاقب کی زبان میں اُ ن کی زندہ جاوید تخلیق "اخوت" کی ابتداءسے اب تک کی ایک رودادتو ہے ہی، بنیادی طور پر یہ اُن کے حالیہ دورئہ امریکہ کی روداد ہے ۔جب اُن کی تنظیم اور اُن کے کارناموں کی گونج امریکہ اور یورپ میں بھی سنائی دینے لگی تو مائیکرو فنانس کے بے شمار ماہرین اُن کے کام کو دیکھنے اور سمجھنے کے لئے پاکستان آئے اور پھر مغرب میں یہ بات متعلقہ حلقوں میں پھیلتی چلی گئی کہ پاکستان میں ایک ایسا معجزہ رونما ہوا ہے کہ ماہرین ِ معاشیات اس کی توجیہہ اور تشریح کرنے سے قاصر ہیں ۔مغرب نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے ہاں بلانا شروع کیا کہ وہ اپنے تجربات اور اُن کے نتائج سے مغرب کو آگاہ کریں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ دورہ تھا، جس میں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے تین اہم ترین سکولوں، لاءسکول، بزنس سکول اور کینیڈی سکول، نے اُنہیں رواں سال مارچ اپریل میںاپنے ہاں مختلف موضوعات پر اظہار خیال کے لئے مدعو کیا ۔یہ کتاب ان تین سکولوں میں ڈاکٹر صاحب کے خطابات اور اُس کی پذیرائی کی روداد ہے ۔ان خطابات کے درمیان ہفتوں کاوقفہ تھا ۔ان وقفوں کا ڈاکٹر صاحب نے یہ فائدہ اُٹھایا کہ.... Reaching One Thousand Americans ....کے نام سے امریکہ کے بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے "پاکستانیوں کے دلوں پر دستک دے کر اخوت کا آفاقی پیغام پہنچانے کا پروگرام بنا لیا" اور پھر اس کو کر گزرے ۔

امریکی پاکستانیوں سے ملاقاتوں کے دوران جو دل گداز، فکر انگیزاور چشم کشاحقائق و معارف وا ہوئے، اس کی روداد بھی اس کتا ب کا حصہ ہے ۔تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب اخوت اور صاحب ِاخوت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے، لیکن جوکچھ بھی بتاتی ہے، وہ اصل کا عشرِ عشیر بھی نہیں ۔حقیقت میں اخوت اور صاحب ِاخوت پر درجنوں کتابیں بھی لکھی جائیں تو شاید پھر بھی ان کے کام اور مقام کا مکمل احاطہ نہ ہو سکے ۔اخوت کا سفر پڑھتے ہوئے اگر قاری کچھ دیر کے لئے اخوت اور صاحب ِاخوت کے سحر سے اپنے آپ کو آزاد کر لے تو اس کتاب کا دل کش اندازِ تحریر،واقعات کی جمع بندی اور ترتیب،حال کا ذکر کرتے کرتے اچانک ما ضی کی یادوں کو کرید نا شروع کردینا ، پھر اچانک ز قند لگا کر حال میں واپس آجانے کا ایک بالکل نیا اور دل نشیںانداز، الفاظ کا چناﺅ، اُن کی نشست و بر خاست اور زیرو بم قاری کو مسحور کردیتا ہے اورقاری بے اختیارکہہ اٹھتا ہے کہ یا اﷲ تو نے اپنے اس بندے امجد ثاقب کو کیا کچھ عطا کر رکھا ہے! ڈاکٹر صاحب قاری کو انگلی سے پکڑ ے اپنے گزرے اور گزرتے ماہ و سال کے مشاہدات و تجربات سے کچھ ایسے گزارتے ہیں کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی کسی اورطرف دیکھنے کی فرصت نہیں پاتا، انگلی چھڑانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر امجد ثاقب "اخوت کا سفر"لکھ کر خدمت کی دنیا کے ساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں بھی امر ہو گئے ہیں ،جسے یقین نہ ہو، وہ یہ کتاب پڑھ کر دیکھ لے۔ ٭

مزید : کالم