(v) پاکستان ریلوے.... افکارِ پریشاں (7)

(v) پاکستان ریلوے.... افکارِ پریشاں (7)

                                                                                                    ریلوے ٹریک کے متوازی سڑکوں کی تعمیر نے نہ صرف ریلوے، بلکہ قومی خزانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔ اس عمل میں بیوروکریسی، پلاننگ کمیشن، سیاست دان سب کے سب شامل ہیں۔ سیاست دانوں کو پارلیمنٹ میں اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ ریلوے ، مثلاً روہڑی سے کوہِ تفتان، جس پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے، ٹرےک کو اُکھاڑ پھینکا جائے، تاکہ نقصانات کا ازالہ ہو۔ ایسے تمام سیکشن جن کے آس پاس ترقی یافتہ سڑکیں بنادی گئی ہیں، ہمیشہ کے لئے ختم کردیے جائیں۔ جس طرح برٹش ریلوے بورڈ کے چےئرمین ڈاکٹر پیچنگ نے کیا تھا۔ کراچی،کشمور،کندیاں ریلوے لائن، جو پشاور تک 1973ءکے سیلاب میں ایک متبادل روٹ کے طور پر استعمال کی گئی تھی، سے جان چھڑائی جائے اور خواہ مخواہ کی maintenance cost سے بجٹ کا بوجھ ہلکا کیا جائے۔ یہ فیصلہ سیاست دانوں کی  ذمہ داری ہے۔ ریلوے اپنے تئیں یہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔

(vi)ریلوے پرائیویٹائزیشن کے سلسلے میں سیکرٹری ریلوے نے جائنٹ چیف آف سٹاف ہیڈ کوارٹر میں presentation دی تھی، جس میں راقم واحد شخص تھا، جو سیکرٹری ریلوے کی معاونت کے لئے موجود تھا۔ ریلوے پرائیویٹائزیشن کے فوجی نقل و حمل پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ اس پر کوئی خاطر خواہ فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔ فرض کریں اگر track access پالیسی کے تحت ایک غیر پاکستانی فرم اپنے انجن، کوچز اور مال ڈبے لے آتی ہے اور جنگ چھڑ جاتی ہے، ا ور جیسا عام طور پر ہوتا ہے، غیر ملکی آغاز ہی میں اپنے ملک سدھار جاتا ہے، تو اس پر فوجی سامان کی نقل و حمل کس طرح ممکن ہوگی؟ سوالیہ نشان ہے۔اس پہلو کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

(vii)کئی ادارے، مثلاً PRACS، RAILCOP، کیرج فیکٹری، لوکوموٹِو فیکٹری ریلوے کے اوپر پل رہے ہیں۔ ان کی cost کا ایک objective analysis کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ ریلوے کو اپنا حصہ ادا کرےں۔

(viii)معاشرے میں corruption انتہاءکو پہنچ گئی ہے، اور ریلوے اس سے مبرّا نہیں۔ ایسے عناصر کی بیخ کنی کی ضرورت ہے جو ریلوے میں کرپشن میں ملوّث ہیں۔

(ix)ریلوے کالونیوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کئی جگہ لوگ ان کو خالی کرکے پرائیویٹ طور پر رہ رہے ہیں، اور لوگوں نے ان خالی مکانوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ریلوے اراضی پر نہ صرف لوگوں نے کچی آبادیاں قائم کرلی ہیں بلکہ حکومتوں نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان پر قبضہ پکا کروایا ہے۔ مرکزی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں ریلوے کی مدد کرے اور غیر قانونی قبضوں کو چھڑائے، جس میں کئی صوبائی حکومتیں بھی ملوث ہیں۔

(x)اور آخر میں بُلٹ ٹرین (bullet train)۔ اس کی تفصیل نیچے پڑھ لی جائے۔ ہماری موجودہ مالی حالت کے پیش نظر اگلے پچاس سال میں اتنے بڑے پروجیکٹ کا سوچنا بھی مشکل ہے۔ تاہم کراچی سے لاہور تک ٹریک کو ڈبل کرنے کے بعد کم از کم ویری ہائی سپیڈ (VHS) آپریشن کا سوچا جانا چاہئے، تاکہ ڈبلنگ کے فوائد کو عوام تک منتقل کیا جائے۔

مندرجہ بالا افکار عوام الناس، بیوروکریسی، سیاست دانوں اور ماہرینِ ریلوے کوغور و فکر کی اساس مہیا کرتے ہیں۔ گر قبول اُفتد زہے عِزّ و شرف۔

بُلٹ ٹرین:رفتار انسان کو مسحور کرتی ہے، اور صدیوں سے انسان یہ خواب دیکھتا چلا آیا ہے۔ ستاروں پر کمند۔ ٹائم اور سپیس (time & space) کا تعلق سائنس دانوں کی دلچسپی کا سامان رہا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی مختلف شعبہ ہائے ٹرانسپورٹ میں تیز رفتاری کو فروغ دینا ہے۔ فرانس، سپین اور جاپان اس سلسلے میں legend کے طور پر شمار کئے جاتے ہیں، جنہوں نے بُلٹ ٹرین اور ویری ہائی سپیڈ (VHS) کے کامیاب تجربات کرکے ریل انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا۔

دونوں پارٹیوں کے ہمارے اربابِ اختیار نے اپنے اپنے دور میں بُلٹ ٹرین چلانے کے احکامات جاری کئے۔ شکر ہے کہ اس سے پہلے feasibility study کرانے کا وقت دے دیا گیا۔

ستمبر 1992ءمیں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے فرانس ریلوے کے ایک ذیلی ادارے SOFRERAIL کو feasibility study تیار کرنے کا کام سونپا، جنہوں نے تین متبادل (alternative) تجویز کئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

Alternative A - 1

موجودہ لائنوں پر 120km/h کراچی سے لالہ موسیٰ اور لالہ موسیٰ سے پشاور تک 90km/h۔

Alternative A - 2

موجودہ لائنوں پر سپیڈ لاہور تک 150km/h اور اس کے بعد 120km/h۔

Alternative A - 3

موجودہ لائنوں پر سپیڈ 200km/h، ڈبلنگ آف ٹریک اور electric traction کے ساتھ۔

Alternative - B

نئی لائنوں پر سپیڈ 300km/h.

Alternative - C

جزوی طور پر نئی لائنوں کی تعمیر اور ساتھ ساتھ موجودہ لائنوں کا استعمال۔

SOFRERAIL نے alternatives B&C کی سفارش کی۔ اس پر پیش رفت سے پہلے حکومت تبدیل ہوگئی۔ اگلی حکومت نے مندرجہ ذیل حکم صادر فرمایا کہ فوری طور پر (i) کراچی ،حیدرآباد (ii) لاہور، پشاور (iii) ملتان،لاہور اور (iv) فیصل آباد،لاہور کی feasibility study کی جائے۔ مزید فرمایا کہ اگر کراچی،حیدرآباد قابلِ عمل منصوبہ نہ ہو تو مال کی نقل و حمل کے لئے بُلِٹ ٹرین چلانے کے منصوبے کا جائزہ لیا جائے۔

سیکرٹری ریلوے نے سپین کے چارج ڈی افےئرز سے ملاقات کی، جس نے بتایا کہ چھوٹے فاصلوں کے لئے بُلٹ ٹرین چلانا قابلِ عمل نہیں۔ صورت حال وزیراعظم کو بتلائی گئی تو اُنہوں نے فرمایا کہ چھوٹے فاصلوں کے ساتھ بڑے فاصلوں کے لئے بُلٹ ٹرین چلانے کا جائزہ لیا جائے۔ہم سوچتے تو بہت اونچا ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے وسائل اتنے محدود ہوتے ہیں کہ ہم feasibility study کے لئے قلیل رقم مہیا کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔ اس کے لئے سپین، فرانس اور سویڈن سے فنڈز مہیا کرنے کی درخواست کی گئی، لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔

آخر کار وزیراعظم سیکرٹریٹ نے لکھا کہ اس موضوع کو ریلوے پرائیویٹائزیشن کے ساتھ کیبنٹ میٹنگ میں 08ءمئی 1995ءمیں لایا جائے، جس میں کوئی آرڈر پاس نہ کیا گیا۔ اس طرح یہ منصوبہ اپنی موت آپ مرگیا۔ نئی حکومت پھر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا ذکر کر رہی ہے۔ عاجزانہ درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو موجودہ ریلوے نظام کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر یہ پچھلے بیس سالہ دور کے لیول پر ہی واپس چلی جائے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی  .)ختم شد) ٭

مزید : کالم