کمرتوڑ مہنگائی سے سرکاری ملازمین کی قوت خرید جواب دے گی، ایپکا

کمرتوڑ مہنگائی سے سرکاری ملازمین کی قوت خرید جواب دے گی، ایپکا

لاہور(خبرنگار ) عیدالاضحی سے قبل پیشگی تنخواہ نہ ملنے پر لاکھوں سرکاری ملازمین کے سنت ابراہیمی کی ادائیگی سے محروم رہنے کا خدشہ پیداہو گیاہے جبکہ تمام بڑے و چھوٹے شہروں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قوت خرید کی سکت نہ ہونے کے باعث انفرادی کی بجائے اجتماعی قربانی کے رجحان میں زبردست اضافہ ہو گیاہے ۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان کلاس فور ایمپلائز فیڈریشن کے ترجمان نے میڈیاسے بات چیت کے دوران بتایاکہ موجودہ صورتحال کے دوران کمر توڑمہنگائی کے باعث سفید پوش سرکاری ملازمین کی قوت خرید جواب دے گئی ہے اور چونکہ 16اکتوبر بروز بدھ کو عید الاضحی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو ما ہ اکتوبر کی پیشگی تنخواہ بھی نہ دی گئی ہے لہٰذا اس بار لاکھوں چھوٹے ، متوسط و سفید پوش سرکاری ملازمین سنت ابراہیمی کی انفرادی ادائیگی سے محروم رہ جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ بجلی ، گیس ، پٹرولیم مصنوعات ، جنرل سیلز ٹیکس اور کئی دیگر ٹیکسز کی شرح میں اضافہ نے دنیا جہان کی ضروریات زندگی کی اشیاءکی قیمتوں کو پر لگادیئے ہیں جس کے باعث سفید پوش تنخواہ دار متوسط طبقہ کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بجلی ، گیس ، ٹیلیفون ، پانی کے بلوں اور مہنگی اشیائے خوردونودش کی وجہ سے سرکاری ملازمین انفرادی طور پر سنت ابراہیمی ادا کرنے کی بجائے اجتماعی قربانی کو ترجیح دے رہے ہیں مگر اکثر سرکاری ملازمین کیلئے اجتماعی قربانی میں شرکت بھی ممکن نہ رہی ہے۔دوسری جانب مختلف شہروں میں اجتماعی قربانی کیلئے فی کس شرح 8 سے 12 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ انفرادی کی بجائے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈال رہے ہیںجس کے باعث بکروں ، چھتروں ، دنبوں کی خریداری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4