ذہنی دباﺅ بے شمار امراض کا باعث بن سکتا ہے : حکیم محمد شفیع طالب

ذہنی دباﺅ بے شمار امراض کا باعث بن سکتا ہے : حکیم محمد شفیع طالب

لاہور (پ ر ) ذہنی دباﺅ انسان کی زندگی اور جذباتی صحت کیلئے تباہ کن ہے ۔ہمارے معاشرے میں اسکا شعور نا ہونے کے برابر ہے ۔بہت سے لوگ جو اس کیفیت سے دوچار ہیں وہ اپنی اس حالت کو مرض ہی تصور نہیں کرتے اور روز بروز اسکے مضر اثرات سے انکی صحت بگڑتی چلی جاتی ہے ۔ مریض نہیں جانتا کہ اسکا دماغی تناﺅ اسے بہت سے دوسرے امراض کی طرف دھکیلنے کا باعث بن رہا ہوتا ہے ۔ وہ جسمانی عوارضات جو اس دباﺅ کے سبب پیدا ہوتے ہیں وہ جسم کے مدافعتی نظام میں خلل کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔ اور مدافعتی نظام میں خلل آجائے تو بیماریوں کو جسم پر حملہ کرنے کا موقع با آسانی مل جاتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر حکیم محمد شفیع طالب قادری نے نیشنل ہربل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہورمیں ورلڈ مینٹل ڈے کے حوالہ سے منعقدہ مجلسِ مذاکرہ دوران کیا ۔ اس موقع پر ماہرین ِ علاج بالغذاءکا پینل بھی موجود تھا جن میں حکیم محمد ثنا اللہ حلاج ، حکیم غلام فرید میر ، حکیم محمد عابد شفیع ، حکیم محمد افضل میو، حکیم حامد رشید ڈوگر ، حکیم سہیل شہزاد ، حکیم کیپٹن ریٹائرڈ انور انجم ، حکیم صوفی محمد انور قادری ، حکیم محمد ےونس ، حکیم شہزاد احمد ، صفدر شاہین اور حکیم محمد ساجد قادری شامل ہیں ۔

حکماءنے دماغی امراض کے حوالے سے طلباءکو آگاہ کیا اور ان کے صحت پر پڑنے والے مضر اثرات پر روشنی ڈالی ۔ اسکے علاوہ اس صورت ِ حال سے بچاﺅ کی تدابیر اور انکا غذائی علاج بھی بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی دباﺅ کا شکا ر رہنے والے افراد میں زکام اور سانس کی دوسری تنفسی بیماریوں ( انفیکشنز) میں مبتلا ءہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ نزلے زکام سے بچاﺅ کیلئے صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ۔ سادہ اور معتدل غذاءجسم کے مدافعتی نظام کو تقویت دیتی ہے ۔ معتدل غذاءمیں سبزیاں ، پھل ، سلاد ، سیب اور گاجر کا جوس بے حد مفید اور موثر ثابت ہوتا ہے ۔ ان غذاﺅں سے ایک تو جسم کو طاقت ملتی اور ساتھ ساتھ جسم کا مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روزانہ صبح کی سیر اور ورزش بھی دماغی تناﺅ کو کم رکھنے کیلئے سازگار ثابت ہوتی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4