افغان فوج کے ہاتھوں گرفتار لطیف محسود کو امریکی چھین کر کے گئے

افغان فوج کے ہاتھوں گرفتار لطیف محسود کو امریکی چھین کر کے گئے

    کابل(این این آئی) ایک افغان افسر نے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے ایک ہفتہ قبل افغانستان سے ایک اعلیٰ پاکستانی طالبان کمانڈر کو حراست میں لیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق لوگار صوبے کے گورنر ارسلہ جمال نے کہا کہ لطیف محسود کو مرکزی ہائے وے سے امریکی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔محسود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے سابق محافظ اور قریبی ساتھی ہیں جبکہ انہیں عسکری گروپ میں ڈپٹی امیر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا۔گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہیں ٹی ٹی پی میرانشاہ کا کمانڈر مقرر کردیا گیا ۔امریکی میڈیا کے مطابق پاکستانی طالبان نے محسود کو حراست میں لیے جانے کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پانچ اکتوبر افغان فوج نے صوبہ خوست سے غلام خان بارڈر کے قریب گرفتار کیا۔پاکستانی طالبان اور انٹیلی جنس ذرائع نے کہاکہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب محسود افغان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک اجلاس میں شرکت کرکے لوٹ رہے تھے۔کمانڈرز اور حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس حوالے سے بات کی کیونکہ انہیں میڈیا سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ مذکورہ کمانڈر افغان فوج کی حراست میں تھا جن سے امریکی فورسز نے چھین کر اپنی حراست میں لے لیا۔افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی نے کہا کہ امریکیوں نے طاقت کے ذریعے زبردستی بگرام منتقل کردیارپورٹ کے مطابق واقعے کے باعث افغان صدر حامد کرزئی شدید غصے کا شکار ہیں۔

مزید : صفحہ اول