عید قرباں کے دن ہیں....اور ہم سوچ رہے ہیں

عید قرباں کے دن ہیں....اور ہم سوچ رہے ہیں
 عید قرباں کے دن ہیں....اور ہم سوچ رہے ہیں

  

                                                                        عیدِ قرباں کے دن ہیں، جنرل پرویز مشرف کبھی رہا ہوتے ہیں اور کبھی گرفتار،مگر ہم عجیب و غریب قصے کہانیوں میں مبتلا ہیں،طرح طرح کے خیالات اور واقعات دل و دماغ پر چھائے ہیں،تاریخ کے کچھ اوراق الٹ پلٹ کر آنکھوں کے سامنے پھیلتے چلے جا رہے ہیں ، بیگم نصرت بھٹو کو پیشکش ہوئی کہ انکے کے خاوندشہید ذوالفقار علی بھٹو کوملک سے باہر بھیج دیتے ہیں ،یوںجان بخشی ہو جائے گی،بیگم صاحبہ راضی ہو گئیں اور اس سلسلے میں متحرک بھی ،ذوالفقار علی بھٹو کو معلوم ہوا تو سخت غصے کے ساتھ اپنی بیوی کو پیغام بھجوایا ۔” آج کے بعد میری طرف نہ آنا، میَں نے عوام کے ساتھ جینا اوریہیں مرنا ہے۔“

کئی سال بعد میاںنواز شریف کے سامنے جیل کی کال کوٹھڑ ی میں ایک دستاویز رکھی گئی،جس پر لکھا تھا ۔”جان بخشی کےلئے آپ کے پورے خاندان کو دس سال تک ملک بدر کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ د ستخط کر دیں۔“میاں صاحب نے دستخط کر دئیے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انہوں نے بھٹو کی طرح خود کشی نہیں کرنی ،یقینا وہ سمجھتے تھے کہ بھٹو اگر جلا وطن ہو جاتے تو کچھ سالوں بعد واپس آکر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے تھے لیکن بھٹو جذباتی ہونے کی بناءپر پھانسی چڑھ گئے اور پاکستان ایک بڑے لیڈر سے محروم ہو گیا ،محترم نوا ز شریف جانتے تھے کہ مشرف ڈکٹیٹر ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتا ہے ،انہیں تختہ دار تک لے جانا چا ہتا ہے ،ایک اور ”شہید“کا کلنک پاکستانی جمہوریت کے ماتھے پر لگانا چاہتا ہے لیکن نواز شریف بھٹو جیسے جذباتی نہ تھے ،جلاوطن ہو کر بھی قوم کی خدمت کر نا چاہتے تھے، جلاوطنی کے اس معاہدہ کےلئے سب سے زیادہ متحرک میاں نواز شریف کی بیگم محترمہ کلثوم نواز تھیں ،جناب نوازشریف نے اپنی بیگم کو احسان مند ی کی نظر سے دیکھا ،دستاویز لانے والے سعد حریری کا شکریہ ادا کیا اور یہ سوچ کر سعودی عرب روانہ ہو گئے کہ ایک دن واپس آکر ملک کو دوبارہ سنبھالیں گے ،سچ ہے کہ کسی کے حصے میں موت آئی ،کسی کو جلا وطنی ملی اور پھر اپنی دھرتی کو چومنے کا مو قع ،بھٹو کی پھانسی پر مخالف بھی ہاتھ ملتے اور آنسو بہاتے ہیں جبکہ نواز شریف کی جلا وطنی پر اپنے او ر بیگانے سبھی خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ نواز شریف ڈکٹیٹر کو چکما دے گئے ،ان کے سامنے آمریت ہار گئی ہے اور جمہوریت کی جیت ہوئی ۔

نواز شریف سپرےم کورٹ سے ملنے والے ”ریلیف“ پر وطن وا پس آنے کا اعلان کرتے ہیں تو ان کی جماعت ایرانی رہنما آیت اللہ خمینی کے استقبال کی ےاد تازہ کرانے کے دعوے کرتی ہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ جب میاں صاحب کی واپسی ہوئی تو کئی جلاوطن عالمی لیڈر وںسے بڑھ کر استقبال ہوا ،میاں نواز شریف 10دسمبر 2007 کووطن واپس آتے ہیں توپورے ملک کے کروڑوں عوام متحرک اور خو ش نظر آتے ہیں ،پورا لاہور استقبال کے لئے امڈآتا ہے اور مشرف کا ایوانِ صدر لرز جاتا ہے ،ا س وقت کے جعلی حکمرانوں نے راستے بند کر دئیے تھے، پُل ”سیل“ کر دیئے تھے ،اس کے باوجود عوام کا سمندر نواز شریف کے استقبال کے لئے ٹھاٹھیں مار رہا تھا جسے روکنے کی جرا¾ت کسی ڈکٹیٹر میں نہیں تھی ،سچ ہے ،جن کا کوئی چاہنے والا ہوتا ہے ،آجاتا ہے مگر جن کو کوئی چاہے ہی نہ، ان کےلئے کون گھر سے نکلے۔؟ آج جنرل مشرف کےلئے کون سڑک پر آنے کو تیار ہے۔؟ ذرا سوچئیے!!

میاں نواز شریف کے جدہ سے واپس آنے پر دنیا جان گئی کہ ا صل لیڈر شپ کیا ہوتی ہے ،جمہوری لیڈروں اور آمروں میں فرق کرنے والے مشرف کی رہائی اور گرفتاری کے بعد بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آمر صرف چھینے ہوئے اقتدار کے باعث طاقتور ہوتا ہے،بعد میں اس کی خیر خبر لینے کےلئے کوئی نہیں آتا،وہ بھی نہیں ،جنہیں وہ اپنے ہاتھوں وزیراعظم اور وزارت اعلیٰ کی کرسیوں پر بٹھاتا ہے ۔

عید قرباں کے دن ہیں اور ہم عجیب و غریب کہانیوں میں مبتلا ہیں ،ہم سوچ رہے ہیں کہ پا کستا ن صرف جمہوریت کےلئے بنا ہے آمریت کے لئے نہیں ،پاکستانی قوم واقعی زندہ قوم ہے،کبھی کسی آمر کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی، کسے یاد نہیں کہ جب جناب نوازشریف نئے نئے سیاسی منظر پر آئے تو انہیں طرح طرح کی باتیں کی جارہی تھیں ،لاہور کے موچی گیٹ میں ایک جلسہ کے دورا ن ہم نے گنہگار کانوں سے خود اعتزاز احسن کی تقریر سنی جس میں وہ نوازشریف کو فلمسٹار بابرہ شریف کے بھائی کہہ رہے تھے مگر آ ج وہی اعتزاز ان کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں ،ایسی ہی باتیں جنرل مشرف نے جناب نوازشریف کی حکومت توڑنے کے بعد تمسخر اڑاتے ہوئے بھی کی تھیںلیکن آج جناب پرویز مشرف کا تمسخر اڑ رہا ہے،پاکستان کابچہ بچہ ان کی رہائی اور پھر پکڑائی پر ہنس رہا ہے،کل تک جناب نوازشریف کو جنرل ضیاءالحق کی گود میں پلا ہوا ایک” بچہ “ تصو ر کیا جاتا تھا مگر آج وہ آمروں کے سب سے بڑ ے مخالف ہیں ،کہا جاتا ہے کہ جب وہ سیاست میں آئے تو ان کے مرحوم والد سخت ناراض ہوئے ، ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ کاروباری لوگوں کو بزنس پر توجہ دینی چاہیئے اور بس ۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ مستقبل میں ان کے بیٹے نے ایٹمی دھماکے کر نے ہیںاور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کےلئے رہ جانا ہے ، نواز شریف نے بطور وزیر ا عظم نہ صر ف ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے بلکہ پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرنا ہے ،اگر ہم ان کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو سے کرنے بیٹھ جائیں تو لمبی بحث چھڑ جائے گی مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ نوازشریف نے سیاست کے داﺅ پیچ اگر جنرل ضیاءالحق جیسے آمر کی گود میں سیکھے توذوا لفقار علی بھٹو کی سیاست کا آغاز بھی تقریباََ ایسا ہی تھا ،یقینابھٹو نے بھی اپنی سیا ست کا آغاز ایک آمر یعنی ایوب خا ن کو ” ڈیڈی“ کہہ کر کیا تھااور عر صہ تک ان کی کابینہ میں شامل رہے تھے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شروع دن سے آمریت کی ستائی ہوئی تھیں اور انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز جرنیلوں کے خلاف نعرے سے کیا تھا مگر نوازشریف نے نہ صرف جرنیلوں کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھا بلکہ ان سے دشمنی ” بیاہ“ کر بھی خوب نفع کمایا ،اگر ہم پرویز مشر ف کے ان کی حکومت پر شب خون مارنے کو نواز شریف کے سرخرو ہو نے کا دن کہیں تو بے جا نہ ہو گا ،یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ پرویز مشر ف نے نہ صرف انہیں اوران کے فیملی ارکان کو جیلوں میں ڈا لا بلکہ جلاوطن کیا ،ان کے خاندان کا کا روبار متاثر ہوا ،ذہنی پریشا نیو ں میں اضافہ ہوا تو دوسری طرف یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ اس جلاوطنی، صعوبتوں اور قربانیوں نے نواز شریف کو ایک بڑ ے لیڈر کے طور پر متعارف کروایا ، جی ہاں! قربانیاں دینے والے ہی عظمت پاتے ہیں۔۔۔عید قرباں کے دن ہیں اور ہم یہی سوچ رہے ہیں ۔     ٭

مزید : کالم