گیس انفراسٹرکچر سیس کا نفاذ انڈسٹریز کو بحران میں مبتلا کردے گا ، افتخار بشیر

گیس انفراسٹرکچر سیس کا نفاذ انڈسٹریز کو بحران میں مبتلا کردے گا ، افتخار بشیر

لاہور(پ ر) تاجر رہنما و صدر گرائنڈنگ ملز ایسوسی ایشن پاکستان چوہدری افتخار بشیرسابق ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرآف کامرس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گیس انفراسٹرکچر سیس کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے آرڈینینس کے ذریعے گیس انفراسٹرکچر سیس کا نفاذ انڈسٹریز کو بحران میں مبتلا کردے گا اس کے نفاذ سے عوام پر 145ارب کا بوجھ پڑے گا۔پیداواری لاگت بڑھنے سے بالواسطہ طور پر عوام پر اس کا بوجھ پڑھے گااور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔افتخار بشیر نے کہا کہ سوئی گیس پاکستان کی قدرتی ذرائع سے حاصل ہورہے ہیں اس لیے اس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ درست نہیںسپریم کورٹ بھی اپنے فیصلے میں لکھ چکی ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا شمار ٹیکس میں نہیں ہوتا اس لیے حکومت اس کا نفاذ فوری طور پر واپس لے۔انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کالعدم ہوچکا ہے اور اس منصوبے کے نام پر اربوںروپے عوام سے وصول کرنا زیادتی ہے اگر منصوبہ فعال بھی ہے تو حکومت اپنے وسائل سے اس کے لیے رقم مختص کرے ۔صنعتکاروں اور عوام پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ حکومت نیلم ڈیم کے نام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے وصول کرچکی ہے لیکن تاحال یہ منصوبہ بھی شروع نہ ہوسکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور گیس انفراسٹرکچر سیس کا تمام تر بوجھ عوام پر پڑے گا اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگا اس لیے حکومت خود اس ٹیکس کی واپسی اور آرڈینینس کالعدم قرار دے۔

مزید : کامرس