ایف بی آر آڈٹ تنازع نمٹنے تک نوٹس کے اجرا سے گریز کرے، کراچی چیمبر

ایف بی آر آڈٹ تنازع نمٹنے تک نوٹس کے اجرا سے گریز کرے، کراچی چیمبر

کراچی(اکنامک رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی) کے صدر افتخار احمد وہرہ نے کمپیوٹرقرعہ اندازی کے ذریعے آڈٹ کے لیے 77 ہزار 500 ٹیکس گزاروں کے انتخاب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈآف ریونیو(ایف بی آر) سے آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس گزاروں (سیلز و انکم ٹیکس)کی مکمل تفصیلات مانگ لی ہیں تاکہ آڈٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد وہرہ نے مطالبہ کیا کہ کراچی سے سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اورایف ای ڈی کی مد میں سال 2013-14 کے دوران جمع کرائے جانے والی رقوم کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر پر کراچی چیمبر سمیت دیگر چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ باڈیز سے مشاورت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک یہ تنازع حل نہیں ہو جاتا اس وقت تک آڈٹ نوٹس کے اجرا اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جائے۔افتخار احمد وہرہ نے کہا کہ ریونیو میں اضافے کے لیے ایف بی آر ایمانداری اور پابندی کے ساتھ پہلے سے ٹیکس جمع کرانے والوں کو مزید نچوڑنے کا آسان راستہ اختیارکررہا ہے۔

 جبکہ ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کرتے ہوئے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے موثر اقدامات عمل میں نہیں لائے جا رہے، کراچی چیمبر کو ایف بی آر کی جانب سے آڈٹ کے لیے منتخب کیے گئے کیسزکی شرح میں 15 فیصد اضافہ کرنے پرشدید تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ایسے افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے گریزاں ہے جو کم اثاثے ظاہر کرنے کے باوجود شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، ایف بی آرنے کئی بار پرتعش زندگی گزارنے والے 7 لاکھ افراد کی فہرست مرتب کرنے کا دعوی کیا جو تمام آسائشوں اور اعلی طرز زندگی کے باوجود کسی بھی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کرتے، ایف بی آر نے نہ تو ان افراد کی فہرست شائع کی اور نہ ہی انکم، ویلتھ ٹیکس کی وصولی اور انہیں رجسٹر کرنے کے اقدامات کیے۔افتخار احمد وہرہ نے کہا کہ آڈٹ کے لیے جن ٹیکس گزاروں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کراچی کے اکثر ٹیکس گزاروں کو نشانہ بنانے کا خدشہ ہے جبکہ انہیں فیلڈ افسران کی جانب سے ہراساں کرنے اور بھتہ خوری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس گزار پہلے ہی پاکستان کے مجموعی ریونیو میں 65 فیصد ریونیو جمع کراتے ہیں جبکہ موجودہ پیچیدہ طریقہ کار اور کاروباری ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے انکم و سیلز ٹیکس میں مزید اضافے کی سکت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس ریونیو دینے کے باوجود کراچی کی ترقی، انفرااسٹرکچر کی بہتری، سیکیورٹی اور صنعتوں کو یوٹیلٹی سہولتوں کی بلاتعطل فراہمی پر معمولی فنڈز خرچ کیے جاتے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر نے اس امرپر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقستمی سے تمام صوابدیدی اختیارات اورقواعد و ضوابط کو کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس گزاروں کے خلاف ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایف بی آر اور دیگر ریجنل افسران ملک کے دیگر حصوں میں ان اختیارات کا استعمال نہیں کر پاتے، اس تاثرکو دور کرنے کے لیے ایف بی آر کو ہر ریجن سے جمع ہونے والے ٹیکس کے اعدادوشمار کی تشہیر کرنا چاہیے۔کے سی سی آئی کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس گزاروں سے امتیازی سلوک اور آڈٹ کے کیسز میں اضافے کو قبول نہیں کرے گا۔ افتخار احمد وہرہ نے کہا کہ اس طرح کے سخت اقدامات عمل میں لانے سے قبل ٹریڈ باڈیز اور ٹیکس گزاروں کے نمائندوں کو آن بورڈ لیا جائے، ایف بی آر کے پاس نہ تو اتنی بڑی تعداد میں آڈٹ کے لیے فیلڈ فورس ہے اور نہ ہی وہ اس کی صلاحیت رکھتا ہے، اس طرح کے طرز عمل اور ٹیکس گزاروں کی طرف سے قانونی چارہ جوئی سے وقت کا ضیاع ہو گا اور نفرت بھی پروان چڑھے گی جبکہ نئے ٹیکس گزاروں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔

مزید : کامرس