مصر، احتجاجی مظاہرے کرنے کے جرم میں 19 اخوانی کارکن گرفتار

مصر، احتجاجی مظاہرے کرنے کے جرم میں 19 اخوانی کارکن گرفتار

قاہرہ(این این آئی)مصرکے ساحلی شہر اسکندریہ میں موجودہ فوجی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی پاداش میں کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے کم سے کم 19 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ،عرب ٹی وی کے مطابق اسکندریہ شہر میں اخوان المسلمون کے حامی سیکڑوں طلباءنے نئے تعلیمی سال کی تدریسی سرگرمیوں کے آغاز سے قبل جامعات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف جلوس نکالے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ بعد ازاں احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کے الزام میں انیس افراد کو حراست میں لے کر معلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اخوان کے حامی طلباءجامعات میں تدریسی عمل کے بائیکاٹ سے اشتعال پیدا کرنے اور دوسرے طلباءکو حکومت کے خلاف اکسانے کی سازش کر رہے ہیں۔ادھر اسکندریہ میں سابق معزول صدر محمد مرسی کے سیکڑوں حامیوں نے العصافرہ، بنی السیوف، ابو سلیمان، مشرقی اسکندریہ کے شہروں الوردیان، الدخیلہ، العامریہ اور شہر کے وسطی علاقے محرک بک میں جلوس نکالے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

 ان جلوسوں میں طلباءکی بڑی تعداد بھی شریک تھی جنہوں نے فوج کی حکمرانی میں تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ" کے نعروں پر مبنی بینرز اٹھا رکھے تھے۔

مزید : عالمی منظر