ترکی میں کردوں کے پرتشدد مظاہرے جاری،مزید13افرادہلاک

ترکی میں کردوں کے پرتشدد مظاہرے جاری،مزید13افرادہلاک

انقرہ(این این آئی)ترکی کے مختلف شہروں میں کرد نوازوں نے شام کے سرحدی شہر کوبانی میں دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوو¿ں کی چڑھائی اور ان کے خلاف ترک حکومت کے عدم اقدام پر احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں اورتازہ فائرنگ میں مزید 13افرادہلاک ہوگئے یوں گذشتہ چار روز کے دوران ان مظاہروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اکتیس افراد ہلاک اور تین سو ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک وزیرداخلہ افقان علاﺅ نے ایک نیوز کانفرنس میں انتیس مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ جنوبی شہر بنگول میں مسلح افراد نے جمعرات کی شب فائرنگ کرکے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔وہ اس شہر میں مظاہرے کی جگہ کا معائنہ کرنے گئے تھے۔

ان پر فائرنگ کرنے والے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کوبھی ہلاک کردیا گیا ہے۔ترکی کے پانچ صوبوں میں کردوں کے پ±رتشدد مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن وامان کی بحالی کے لیے فوج کو ٹینکوں کے ساتھ تعینات کردیا گیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ان مظاہروں کو کرد باغیوں اور انقرہ حکومت کے درمیان جاری امن عمل کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش قراردیا ہے اور کہا ہے کہ کسی کو ترکی کے امن کو تہ وبالا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔درایں اثناءشام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا نے ترکی سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکاروں کو کوبانی کے تحفظ کے لیے جانے کی اجازت دے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2170 کا حوالہ دیا ہے جس میں ہرکسی سے کہا گیا ہے کہ وہ شام میں قتل عام کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت کوبانی میں پانچ سے سات سو کے درمیان ضعیف العمر افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ دس بارہ ہزار افراد شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر موجود ہیں۔ترک میڈیا کی اطلاع کے مطابق ملک کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقے سمیت چھے شہروں میں کرد نواز مظاہرین سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ کوبانی میں داعش کا مقابلہ کرنے والے محصور کرد جنگجوو¿ں کو مزید اسلحہ اور کمک مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔داعش کے جنگجوو¿ں نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے تباہ کن فضائی حملوں کے باوجود کوبانی (عین العرب) پر ٹینکوں اور توپ خانے کے ساتھ چڑھائی کردی ہے۔انھوں نے اس شہر کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی شہر کے گلی کوچوں میں کرد جنگجوو¿ں سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔بعض یورپی ممالک نے کرد جنگجوو¿ں کو مسلح کیا ہے لیکن مظاہرین نے اس اسلحی امداد کو ناکافی قرار دیا ہے اور وہ ہنگامی بنیاد پر کرد جنگجوو¿ں کو مزید امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہی

مزید : عالمی منظر