پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچیوں کا عالمی دن منایا گیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچیوں کا عالمی دن منایا گیا

لاہور(ذکاءاللہ ملک) گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچیوں کا عالمی دن منایا گیا جسکا مقصد تیسری دنیا کے ممالک سمیت ترقی پذیر ممالک میں لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں سرکاری پرائمری سکولوں کی کم ہوتی تعداد اور لڑکیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی کمزور حکومتی پالیسی کے باوجودجہاں ملک کے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کاسکولوں میں جانے کا رحجان بڑھ رہا ہے وہاں پرائمری سکولوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔سرکاری اعداوشمار کے مطابق پاکستان میں شرع خواندگی60فیصد ہے جن میں سے 16 فیصد ایسے افراد ہیں جو اپنا نام لیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 1لاکھ70ہزار پرائمری سکول ہیں جن میں سے صرف 40ہزار پرائمری سکولز لڑکیوں کے ہیں۔پنجاب میں 15ہزار،صوبہ سندھ میں13ہزار،صوبہ کے پی کے میں 8ہزار اور بلوچستان میں 4ہزار کے قریب سرکاری پرائمری سکولز ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ 2012کے مطابق دیہی علاقوں میں75فیصد لڑکے اور لڑکیاںدسویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے سکول کو خیر باد کہہ دیتے ہیں ،لڑکے روزگار اور مالی تنگدستی کے ہاتھوں جبکہ لڑکیاں سکیورٹی اور دیہی معاشرے سے تنگ آ کر تعلیمی کرئیر کو آگے نہیں بڑھا پاتے۔رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے 3سے5سال کے 78فیصدبچے سکول نہیں جاتے،یونیسکو کی طرف سے کئے جانے والے سروے میں 70فیصد بچوں کو انگریزی میں مضمون پڑھنا نہیں آتا۔ماہرین تعلیم کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے فروغ کےلئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جسکی بدولت شرع خواندگی میں اضافے کے ساتھ لوگوں کی مالی و معاشی حالت میں تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ سالانہ بجٹ میں تعلیم کےلئے مختص کیا جانے والا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے،جبکہ دوسری طرف ملک میں آباد لوگوں کی اکثریت تعداد دیہی علاقوں میں رہتی ہے،لوگوں کو تعلیم کی اہمیت اور بچیوں کو علم کی شمع سے روشناس کروانے کے لئے حکومت کی طرف سے منظم منصوبے کی ضرورت ہے۔ماہر تعلیم مغیث الدین شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت کو سیاست در سیاست کرنے کی بجائے شعبہ صحت اور تعلیم کی طرف اپنی تمام ترجیحات کو صرف کرنا چاہئے،پاکستان کی شرع خواندگی چائنہ،ایران،سری لنکا،نیپال اور برما کی شرع خواندگی سے کم ہونا ہمارے لئے باعث شرمندگی ہے۔حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بناتے ہوئے قابل اساتذہ اور مناسب تعلیمی ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔

 بچیوں کا عالمی دن

مزید : صفحہ آخر