پولیس نے تھانہ میں شکایت بوکس کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ظلم کے شکار عوام دھکے کھانے پر مجبور

پولیس نے تھانہ میں شکایت بوکس کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ظلم کے شکار عوام دھکے ...
پولیس نے تھانہ میں شکایت بوکس کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ظلم کے شکار عوام دھکے کھانے پر مجبور

  

لاہور(بلال چودھری)شہریوں کی جانب سے انہیں درپیش مسائل کی آوازپولیس افسران تک پہنچانے کے لئے تھانوں میں لگائے گئے \" شکایت بوکس \"کو پولیس نے ختم کرنے کی ٹھان لی ، جس کے باعث ظلم و ستم کے شکارافراد اب شکایت بوکس کے ذریعے بھجوائے جانے والی درخواستیں حکام بالا تک نہ پہنچ پانے کی وجہ سے تھانوں کے ایس ایچ اوزا ور دیگر عملے کے ہاتھوں خوار اور دھکے کھانے پرمجبور ہوچکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے متعددتھانوں میں سائلین کی سہولت کے لیے لگائے گئے شکایت بکس پولیس کے اعلٰی حکام کی عدم توجہی اور افسران کے پے درپے تبادلوں کینذر ہو کررہ گئے ہیں ۔شکایت بوکس کا سلسلہ چند سال قبل شروع کیا گیا تھا اور اس ضمن میں آج بھی کچھ تھانوں میں یہ بکس لگے ہوئے ہیں ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شکایت بوکس کی چابیاں متعلقہ ایس پی کے پاس ہوتی ہیں لیکن جب وہ کسی دوسری جگہ ٹرانسفر ہوجائیں تو پھر یہ بند پڑے رہتے ہیں ،جب تک کوئی دوسرا افسر آکر اسے نہ کھولے یا پھر اپنا نیا تالا نہ لگالے ۔شہر کے بیشتر تھانوں میں سے پولیس اہلکاروں نے شکایات بوکس یا تو اتار دیئے ہیں یا اس کی چابی متعلقہ پولیس افسران کے پاس نہیں ہے ۔تھانہ غازی آباد ان چند تھانوں میں سے ایک ہے جہاں ایک شکایت بوکس آج بھی نصب ہے جو یہاں پر ایک ایس پی نے لگوایا تھا لیکن ان کا تبادلہ ہو گیا اوروہ چابی بھی اپنے ساتھ ہی لے گئے اور اس طرح شکایت بکس بند پڑا رہا ،اسی طرح سے شہر کے دیگرتھانوں جیسے تھانہ مغلپورہ ،باغبانپورہ ،ریس کورس اور دیگر میں سے شکایات بوکس کی سہولت کو ختم کر دیا گیا ہے اور آہستہ آہستہ لاہور کے دیگر تھانوں میں بھی ان کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ متعلقہ تھانے میں شنوائی نہ ہوسکنے پر دلبرداشتہ دکھائی دیتے ہیں۔اس حوالے سے مقامی تھانوں کے ایس ایچ اوز کا کہنا ہے کہ ہر روز شام کو 4بجے سے 8بجے تک عوام کے مسائل سنے جاتے ہیں لہذا ان شکایات بوکسز کی اب ضرورت نہیں رہی ہے جبکہ شہریوں کا کہنا تھا کہ شکایات بوکس کا اصل مقصد تھانہ کے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف شکایت بکس کے ذریعے پولیس کے اعلٰی حکام کے نوٹس میں لانا مقصود ہوتا تھا جس کی وجہ سے عوام الناس کے کافی حد تک مسائل حل ہوجاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہے صرف تھانوں میں دھکے ہی ملتے ہیں۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ شکایات بوکس کی سہولت ختم ہونے سے انہیں آئے روز تھانوں چکر کاٹنے پڑتے ہیں جبکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں کا سلوک بھی انتہائی نارواہوتا ہے اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران نے شکایت بکس میں عدم دلچسپی لے کر شہریوں کوتھانوں میں موجود اہلکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو انہیں درپیش مسئلہ حل کرنے کی بجائے مزید تکلیف دینے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی وجہ سے شہریوں کو مذکورہ پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت لگانے کے لئے افسران کے دفاتر میں جانا پڑتا ہے ۔شہریوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شکایت بوکس کی سہولت پر توجہ دے کر غریب شہریوں کی دادرسی کی جائے اور اس سہولت کو فوری بحال کر کے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے۔اس حوالے سے ترجمان سی سی پی او سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ شکایت بوکس کی چابی ایس پی آفس میں ہوتی ہے، کوئی افسر اسے اپنے ساتھ نہیں لے کر جاتا جبکہ اگر کسی تھانہ میں بکس ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی جگہ پر جلد از جلد نیا لگوا دیا جاتا ہے۔

مزید : علاقائی