شریعہ :کیا اور کیوں ؟ (1)

شریعہ :کیا اور کیوں ؟ (1)
شریعہ :کیا اور کیوں ؟ (1)

  

میَں نے میٹرک 1951 میں کیا تھا۔اُس وقت میںَ تقریباً ساڑھے پندرہ سال کا تھا۔ پاکستان کو بنے ہوئے 4 سال ہو چکے تھے۔ اپنی عمر کے اس ابتدائی حصے میں میںَ نے لفظ شریعہ کا ذکر نہیں سُنا تھا، حالانکہ میرا گھرانہ پڑھا لکھا اور عملی طور پر دینِ اسلام کا پیرو کار تھا۔ اُسی 1951 میں میںَ پاکستان ائیر فورس میں بھرتی ہوکر تربیت کے لئے بیرون ملک 3 سال کے لئے چلا گیا۔ دورانِ ٹریننگ ہم لوگ اپنی مرضی سے روزہ، نماز بھی کرتے تھے اور کھیل کود، کلب بازی، سیر سپاٹے بھی کرتے تھے۔ ہم پر دینی معاملات کے حوالے سے کوئی جبر نہیں تھا۔ پنجابی محاورے کے مطابق ”کھلّا ڈلّا“ ماحول تھا۔ اسی کھُلی فضا میں ائیر فورس میں 10 سال گزار دیئے ،ان ہی 10 سالوںمیں میںَ نے پنجاب یونیورسٹی سے M.A انگریزی اور M.Aاکنامکس کر لیا، ائیر فورس سے ریلیز کے بعد سرکاری نوکری اور 6 سال بعد مختلف بینکوں کی نو کری کرتا ہوا 2004ءمیں 69 سال کی عمر میں ریٹائر ہو گیا۔ عمر کے اس سارے عرصے میں نفاذِ شریعت کا لفظ تکرار کے ساتھ جنرل ضیاءکے زمانے میں سننے کو ملا۔

ذوالفقار علی بھٹو کوہٹانے کے لیے بیرونی طاقتوں نے مولویوں کے ذریعے نظامِ مصطفی کا نعرہ لگوایا اور باِلا خر بھٹو کو پھانسی لگ گئی، حالانکہ بھٹو نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے مولویوں کی ایسی باتیں بھی مان لیں جسکی اُنہوں نے تحریک نظامِ مصطفی کے دوران مانگ بھی نہیں کی تھی۔ جمعہ کی چھٹی ، شراب پر بندش،یہ مانگیں 1977ءکے مولویوں کے احتجاج کا حصہ نہیں تھیں۔ نظامِ مصطفی گو ایک غیر واضح سیاسی نعرہ تھا۔ لیکن اس نظام کے تصّور سے رحمت، محبت، معافی، انصاف اور دلجوئی کا احساس ہوتا تھا۔چلیں میںَ صاف صاف لکھ دوں کہ نظامِ مصطفی کوLead دینے والوں میں علمائے بریلوی زیادہ پیش پیش تھے حالانکہ اُس وقت مولانا مفتی محمود، مولانا مودودی اور پروفیسر غفور جیسے جیدّ دیو بندی علماءبھی تحریک ِ نظام مصطفی میں شریک تھے۔ پی این اے کی تحریک کے دوران ہی حالات تیزی سے بدلنے شروع ہوئے۔ مذاکرات اچانک ناکام ہوگئے، بھٹو اقتدار سے نکال کر قید کر دیئے گئے، جنرل ضیاءاللہ، رسول کا نام لیتے ہوئے ڈکٹیٹر بن گئے، بھٹو پھانسی چڑھ گیا، مولویوں کو ان اچانک پیش رفتوں کی سمجھ نہ آئی۔ 1978ءکے بعد ہم نے نظامِ مصطفی کے مقابلے میں نفاذِ شریعہ کا ذکر سننا شروع کیا۔ سچ بات ہے میرے جیسے بہت سے پختہ عمر، پڑھے لکھے مسلمانوں کو نہ ہی نظامِ مصطفی کا کوئی واضح تصوّر تھا اور نہ ہی ہم نفاذِ شریعہ کی مکمل فہم حاصل کر سکے تھے۔

میںَ اپنی تحریروں میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ میںَ کوئی سند یافتہ دینی عالم ہو نا تو دُور کی بات ہے ،میںَ تو دینی مبتد ی بھی نہیں ہوں۔ چونکہ مسلمان کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے دینِ اسلام کی رحمتوں کا حقدار بن گیا اس لئے خوش قسمت ہوں۔ شریعت کا ذکر افغان/ روس جنگ کے بعد بہت زیادہ ہونے لگا۔ یہاں تک کہ شرعی داڑھی ، شرعی پردہ، شرعی بینکنگ، رہن سہن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہماری دینی سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ تحریری اور تقریری مہم چلانی شروع کر دی۔ غیر ملکی اور مُلکی بینکوں نے شرعی بینکنگ کی اصلاح کو قابلِ قبول بنانے کے لئے بڑے نامور ماہرین معاشیات اور دینی سکالرز کو اِکٹھا کر کے بینکاری کی لُغت میں نئے نئے نا م رُ وشناس کروائے ، مشارکہ، مضاربہ اور مرابع جیسے عربی سے ماخوز شدہ الفاظ سے سادہ مسلمانوں کو شرعی بینکاری مقدس اور رِّبا سے پاک نظر آنے لگی ۔ بینکوں نے اسلامی بینکنگ کی اصطلاح کو استعمال کرکے عام بینکاری سے زیادہ منافع کمانا شروع کر دیا۔ مغربی ممالک کے بینک بھی شرعی بینکاری کے فوائد کو حاصل کر نے کے لےے میدان میں کود پڑے۔ یورپ، امریکہ کنیڈااور جاپان کے بینکوں نے اپنے ہی ملکوں میں Sharia Compliant بینکنگ کی کاﺅنٹرز بنا دیں۔40 سالہ بینک کی ملازمت میں سے میرے 28 سال مڈل ایسٹ کے بینکوں میں گذرے بشمول سعودی عرب کے سرکاری بینک الریاض کی 8 سالہ ملازمت کے ۔ وہاں سُود یارِ با کا نام تو استعمال نہیں ہوتا لیکن ” عمولہ“ اُجُر خدمتہ ً کے نام پر بے چارے گاہک کی کھال خوب اُدھیڑی جاتی ہے۔ پچھلے 40 سالہ دور میں میںَ نے دیکھا کہ نظام مصطفی کی اصطلاح آہستہ آہستہ معدوم ہوتی چلی گئی اور نفاذ ِ شریعت کا غلفلہ زیادہ ہونے لگا۔ اس تبدیلی میں شاید پٹیرو ڈالر کا زیادہ عمل دخل ہو گا۔

بات کہنے کی تو نہیں ہے لیکن کہے بغیر رہا بھی نہیں جاتا۔ دراصل برِصغیر میں مسلمانوں کی اکثریت حنفی / بریلوی ہے۔ مسلمانوں کی یہ اکشریت رسول اللہ سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا ہمیشہ مصطفوی نظام رہا ہے۔ جنرل ضیاءکی حکومت کے دوران ہی عشق ِ رسول کو عشق ِ شریعت میں تبدیل کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں۔  (جاری ہے)

 نظامِ مصطفی کی لفظی ترکیب عام طور پر بریلوی سُنی مسلمانوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ سُنیوں نے جب دیکھا کہ نفاذ ِ شریعت کو لاگو کرنے کے لئے بجائے ترغیب اور محبت کے، شدّت پسندی کی ترویج کی جا رہی ہے تو سُنیوں نے اپنی سیاسی یونین بنالی۔ اِدھر نفاذ ِ شریعت والوں نے اپنی سیاسی پارٹیاں بھی بنائیں اور ساتھ ہی انگریزی کے ایک معمولی سے لفظ فورس (Force) کو مخصوص معنی دیئے جانے لگے۔ ہر جماعت نے اپنی اپنی یوتھ فورس بنانی شروع کردی۔ فورس لفظ کا مطلب منظم طاقت یا جبر ہے۔ ہر حکومت ِ وقت ان سیاسی اور دینی فورسز کے بارے میں سنتی رہی اور اس کا سدّباب بالکل نہیں کیا۔ یہ ہی اہل ِ حدیث یوتھ فورس، اھلِ سُنت یوتھ فورس، اھلِ صحابہ یوتھ فورس، امامیہ یوتھ فورس اور جماعتِ اسلامی کی اسلامی جمعیت طلباءکی طرز پر بن گئیں۔ دینی جماعتوں کے پاس اپنی بات منوانے کے لئے اور اپنا نقطہ نظر عوام پر ٹھونسنے کے لئے جو شیلے نوجوانوں کے ہر دم تیار قسم کے جتھے موجود ہونے لگے۔ اپنی بات کو جبر کے ذریعے منوانے کی روایت ہلکے پھلکے انداز میں اِن ہی جتھوں سے چلی اور آہستہ آہستہ شدّت پسندی کی طرف مائل ہوتی چلی گئی۔ اِن ہی جوشیلے نوجوانوں میں سے کچھ نے دہشت گردی اختیار کر لی۔ ہماری نوکر شاہی جسکا کام ہر وقت چوکس رہنا تھا وہ سیاست دانوں اور جرنیلو ں کی ٹہل سیوا میں مصروف رہی۔ سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتی رہی ۔پاکستان کے غیر دوراندیش سیاست دانوں کو تو جاہل، بے شعور اَن پڑھ، برادری اور اِمارت کے خوف سے ڈرے ہوئے ووٹر اسمبلی بھجوا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میںجرم اور معاشرتی آفت جب عروج پر پہنچ جاتے ہیں تو پانی سر سے گذر چکا ہوتا ہے۔ یہی حال اَب نفاذِ شریعت کے پرُ جوش نعرے کا ہے۔

پا کستان سیاسی طور سے تو بٹ ہی چکا تھا اَب دینی اور مسلکی لحاظ سے بھی شدّت کا شکار ہونے لگا۔ عام نوجوان لڑکے اور خواتین جو اپنی ذاتی زندگی میں صوم و صلوٰة کے پابند ہوتے ہیں وہ بھی لفظِ شریعت سے خوفزدہ ہونے شروع ہو گئے۔ اب مجھے تجسس ہوا کہ میںَ شریعت کے بارے میں سائنسی انداز سے کوئی جانکاری لوں۔ کچھ معروف دینی کتابیں پڑ ھیں، دینی عالموں سے پوچھا، گوگل اور یاھُو کو بھی خوب جھاڑا جھٹکا، لیکن شریعت کی مکمل اور عالمگیر تشریح معلوم نہ ہوسکی۔ہر ایک نے یہ ہی بتایا کہ اسلامی قوانین کے رستے پر چلنے کو شریعت کہتے ہیں۔ بس یہ ہی وہ مقام ہے جہاں شریعت کو سمجھنے میں اُلجھن اور مکدر خیالی پیدا ہوتی ہے۔ ہمارا کھانا پینا، شادی بیاہ ، معیشت، روزگار، اولاد ، ماں باپ ، عزیز و اقارب، لین دین، سزا، جزا، ہمارا لباس ، دینی فرائض ، جنگ و جدل اور اِنسانی باہمی تعلقات بشمول غیر مسلموں کے ساتھ سلوک، یہ تمام عوامل شریعت کے تابع ہیں۔ بالکل ٹھیک کہا مولوی صاحب نے لیکن جب میںَ نے پوچھا کہ رسول اللہ اور صحابہ اکرام کے زمانے میں شریعت کی اصلاع پڑھنے میں نہیں آتی ہے۔ جو اب ملاِکہ دراصل شریعت کا علمی وجود مسُلم فقہہ کی ترتیب کے بعد آیا۔ اس جواب سے بھی تسّلی نہ ہوئی کیونکہ بے شمار فقہا(Jurists )نے شریعت کے قوانین اپنے اپنے ڈھنگ سے ترتیب دئیے ہیں۔ فی زمانہ صرف چھ فقہا معروف ہیں۔ جن میں 4 سُنی مسلک سے ہیں اور 2 شیعہ مسلک سے۔ چھوٹے بڑے فقہا اور بھی ہیں اور اُن کے لاکھوں پیروکار بھی ہیں جو عمان اور شمالی افریقہ کے باشندے ہیں۔ ہمارے تما م فقہا نے اصولِ قوانین اسلامی کو بناتے وقت کچھ مدد قرانِ حکیم سے لی ، کچھ احادیث سے، کچھ قیاس اور اجماع سے اور کچھ قوانین عقل کی بنیاد پر بنائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جن قوانین کو بناتے وقت انفرادی قیاس، عقل اور اجماع ہو گا وہ قوانین یکساں طور پر نافذ نہیں ہو سکتے۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے تمام فقہا رسول اللہ کی رحلت کے تقریباً 100 - ڈیرھ سو سال بعد آئے۔ خیال رہے احادیث کی تدوین نبی کریم کی وفات کے تقریباً 150 سے 200 سال میں شروع ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے فقہا نے اسلامی قوانین بناتے وقت مکمل طور پر صحیح احادیث کا بھی فائدہ نہیں اُٹھایا اور تیسرے یہ کہ اسلامی قوانین بناتے وقت ہمارے فقہا کو مستقبل کی دنیا میں جو سائنسی اورٹیکنالوجی علوم کا طوفان آنے والا تھا اُس سے وہ بے خبر تھے۔ سیکولر قوانین وقت کے ساتھ معاشرتی اور معاشی ضروریات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن شریعت کے قانون میں کسی طور تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ اجتحاد کے دروازے ویسے ہی بند ہیں۔ دور کیوں جاتے ہیں ۔ ابھی 50 - 40 سال پہلے لاﺅڈ سپیکر کا استعمال ، فوٹو بنوانے کا عمل، موسیقی کے آلوں کا استعمال غیرشریعی سمجھا جاتا تھا۔ ہماری عورتوں کے لئے پردہ باغ ہوا کرتے تھے، ہماری عورتیں تانگوں کے چاروں طرف پردہ لگوا کر اور پھر برقعہ سمیت بیٹھ کر سفر کرتی تھیں۔ انگریزی زبان پڑھنا غیر شرعی تھا۔ آج یہ تمام غیر شریعی کام ہورہے ہیں۔فوٹو مولوی بھی بنواتا ہے ، TV پر آتا ہے، ایک ایک مسجد پر بے شمار لاﺅڈ سپیکر لگا کر اُس پر آڈیو ٹیپ چلا کر لوگوں کی نیندحرام کرتا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں اجتحاد کی وجہ سے نہیں آئیں بلکہ حالات کے جبر سے آئیں۔

چونکہ ہماری شریعت غیرواضح ہے اس لئے یہ ہماری زندگی کے تمام دنیاوی شعبوں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ہمارے پرسنل لا میں شریعت پہلے بھی رائج تھی اور آج بھی رائج ہے۔ ہرمولوی ہمیں سر کے بالوں سے پیروں تک ، ہمارے لباسوں کی کانٹ چھانٹ کو ، ہماری طرزِ بودوباش کو بھی اپنی اپنی بنائی ہوئی شریعت کا پابند بنانا چاہتا ہے۔

میںَ سمجھتا ہوں کہ اگر میں اسر اف بے جا نہیں کرتا، اگر میرا لباس فیشن میں رہتے ہوئے بے باکی اور بے شریعی کے زمرے میں نہیں آتا ، اگر میں اپنے فرائضِ منصبی دیانت سے ادا کرتا ہوں اور حقدار کو حق پہنچاتا ہوں، لین دین، تجارت میں کسِی قسم کی ڈنڈی نہیں مارتا، قانون کی پاسداری کرتا ہوں، صحیح ٹیکس ادا کرتا ہوں، تو میںَ اپنے ربّ سے اپنی مغفرت کی توقع رکھتا ہوں۔ میرا ھادی قرانِ مجید ہے اور اُس کی روشنی میں جو رسول اللہ نے کہا ہے ، بس وہ ہی میری شریعت ہے۔

دراصل ہم پاکستانیوں کی بد قسمتی کہ ہمارا قد آور لیڈر محمد علی جناح پاکستان کے آغاز میں ہی وفات پا گیا، اُس کو تو فرصت ہی نہ ملی پاکستان کے آئین کے خد و خال نکالنے کی۔ قائد اعظم کے بعد ہمیں مصلحت کوش لیڈر ملے جو اپنی سیاسی ضروریات کے لئے مولویوںکے ھتّے چڑھ گئے۔ قراردادِ مقاصدِ جو کبھی بھی ہمارے جیّد لیڈروں کے لئے اوّلیت نہیں رکھتی تھی اُسے قائد اعظم کی وفات کے بعد آگے لایا گیا، اُسے آئین کا ابتدایہ (Preamble) بنایا گیا اور پھر جنرل ضیاءنے اُسے پاکستان کے آئین کا حصہ بنا دیا۔ اُسی دِن سے جمہوریت کا چہرہ مسخ ہونا شروع ہوگیا۔ ہم پاکستانی خواص(عوام نہیں) منافق اور ریاکار ہیںہم مغربی طرز کی جمہوریت کے خواہاں ہیں جس میں ایک شخص، ایک ووٹ کا اصول کا رفرما ہوتا ہے ، جہاں اکثریتی فیصلے سے قوانین بنتے ہیں، جہاں پارلیمنٹ مکمل طور پر مقتدر ہوتی ہے لیکن جب ہم اپنے ملک کے آئین کو شریعت کے تابع کر دیتے ہیں تو ہم روائتی جمہوریت کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔ بطور ایک مخلص اور کھرے انسان کے ہم بالکل چاہیں گے کہ ہمارا حکومتی نظام منافقتوں، جھوٹ ،ریاکاری اور بددیانتی سے پاک ہو۔ لیکن پھر اس مقصد کے لئے ہمیں یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا نظام تبدیل کرنا ہوگا۔ واقعی اسلامی نظام میں بڑی برکتیں ہیںبشرطیکہ ہم پڑھے لکھے لوگ، سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ پارلیمنٹ میں لائیں، قران سے رہنمائی حاصل کریں کیونکہ وہی اٹل سچائی ہے۔باقی رہی شریعت تو یہ ہمیں پھر غیر واضح صورت میں رکھے گی کیونکہ شریعت انسانوں نے آج سے 1200 سال پہلے بنائی تھی۔ اُس وقت دنیا نے زندگی کے کسی شعبے میں اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ اُس وقت بینک ، انشورنس ، بیرونی تجارت، کاغذی کرنسی،ٹریفک کے اور سفر کے قوانین نہیں تھے، پاسپورٹ ،شناختی کارڈ، نکاح نا مہ،دریاﺅں ((Riversکی تقسیم کے قوانین نہیں بنے تھے۔ ملکوں کی سرحدیںآج کی طرح حد بندیوں میں جکڑی ہوئی نہیں تھیں۔ ان سب ضروریات کے حصول کے لئے قانون سازی شریعت کے احاطہ میں نہیں آتی۔ ہر مسلمان پارلیمنٹ اپنے ملک کے حالات، ضروریات اور ترجیحات کے مطابق قوانین بنا سکتی ہے۔ میںَ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ قران مجید سے رہنمائی لینی زیادہ آسان ہے بہ نسبت شریعت کے تنازع میں پڑنے کے ۔ قران مجید ہمیں غلط اور صحیح کاموں کی تمیز سیکھاتا ہے۔ کہیں پر قران مجید کسی فعل کو نہ اَچھا کہتا ہے نہ برُا (مکروہات)جہاں قران نے کسی مخصوص جُرم کی سزا کی حد لگائی ہے وہاں بھی اللہ تعالیٰ اپنی ہی دی ہوئی سزا کے لئے سخت ترین شواہِدتجویز کرتا ہے۔ باقی تمام جرائم کی سزا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اجماع، قیاس اور اِجتماعی عقل پر چھوڑ دی ہے۔ ذرا پوچھیں اِن  مّلا لوگوں سے کہ اُنہوں نے شریعت کی غیر واضح اور مختلف اصطلاحات سے ہم پاکستانیوں کو کیوں اُلجھا دیاہے۔ جب بھی اُنھوں نے حکومت سے کوئی کام لینا ہوتا ہے یا سیاسی جنگ لڑنی ہوتی ہے یہ مولوی لوگ شریعت کا نعرہ بلند کردیتے ہیں، سادہ لوح پاکستانیوں کو اور مدرسوں کے طلباءکو سڑکوں پر لے آتے ہیں، PNA جیسی تحریک چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر اس کوشش میں بیرو نی امداد شامل ہو جائے تو حکومت کا دھڑن تختہ ہونے میں کوئی کسر نہیں رہتی۔

مزید : کالم