بغاوت

بغاوت
بغاوت

  

12اکتوبر کی تاریخ اب محض تقویم کی تاریخ نہیں رہی۔ یہ ہمارے قومی وجود کی بقا کے بنیادی مسئلے سے جڑ گئی ہے۔ یہ تاریخ ، ہم ہیں تو کیسے ہیں ؟ اور ہم رہےں تو کیسے رہیں؟ کے ایک ایسے ریاستی اور قومی سوال میں پیوست ہوگئی ہے کہ جس کا مکمل ادراک حاصل کئے بغیر ہماری قومی حیات کی کوئی تسلی بخش ضمانت نہیں ہو گی۔

12اکتوبر 1999ءکو کچھ عجب تو نہیں ہوا تھا جب جنرل پرویز مشرف نے فوج کی منظم طاقت سے ریاستی اقتدارکو براہِ راست اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔اس سے قبل اکتوبر 1958ءکو ہماری سیاہ بختی کی پہلی تاریک رات تب طاری ہوئی تھی، جب میجر جنرل اسکندر مرزا نے پہلی آئین ساز اسمبلی کو فارغ کرکے عملاً ایوب خان کے لئے راہ ہموار کردی۔ کمانڈر انچیف ایوب خان پہلے چیف مارشل لاءایڈ منسٹریٹر تعینات ہوئے۔ بیس روز بعد اسکندر مرزا اپنے ہی فیصلے کی بھینٹ چڑھا دیئے گئے اور ایوب خان نے خود ہی، اپنے آپ کو منصب ِ صدارت پر فائز کر دیا۔ تاریکی کا یہ سفر تب مزید تیرہ و تار ہوا جب ایوب خان نے 25مارچ 1969ءکو اپنے منصب سے مستعفی ہوتے ہوئے اقتدار مزید غلط ہاتھوں میں دے دیا اور ملک کی زمامِ کار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کر دی، جس طرح ایوب نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے کسی ضابطے کا لحاظ نہیں رکھا ٹھیک اُسی طرح انہوں نے اقتدار جنرل یحییٰ کے سپرد کرتے ہوئے بھی کسی آئینی لحاظ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جنرل یحییٰ خان نے سقوطِ ڈھاکا کے بعد اقتدار کو تمدنی ہاتھوں میں بادل نخواستہ دیا۔

بھٹو کے درمیانی دور کے بعد ایک بار پھر عسکری آرزو نے انگڑائی لی اور جنرل ضیاءالحق نے 5جولائی کو اقتدار پر شب خون مارا اور اِسے ” آپریشن فیئر پلے“کا نام دے کر اپنے غیر منصفانہ اقدام کے احساسِ جرم کو چھپانے کی کوشش کی۔ ذوالفقار علی بھٹو 17ستمبر کوگرفتار کر لئے گئے جب سے آج تک پاکستان کی سیاست ایک خاص طرح کے رویئے کی قیدی نظر آتی ہے۔ جنرل ضیاءالحق کے اس اقدام نے وطن ِ عزیز کو ایک سیاسی گناہِ جاریہ کا مرتکب بنا دیا۔ پاکستان کی جمہوری سیاست تاحال تارا مسیح کے ہاتھ اور اُس پھانسی گھاٹ سے نہیں اُتر سکی ،جس پر بھٹو کو لٹکایا گیا۔ جنرل ضیاءالحق 17 اگست 1988ءکو ایک افسوس ناک حادثے یا خطرناک سازش کا شکار ہو گئے۔ اُس کے بعد بھی تمدنی اقتدار کا سلسلہ ہموار نہیں رہ سکا ۔

سیاسی حکومتیں ”پنگ پانگ “ کی طرح اِدھر اُدھر لڑھکتی رہیں۔ یہاں تک کہ 12اکتوبر 1999ءنے ہمیں آ لیا اور جنرل مشرف نے ایک منتخب حکومت کو فوجی بوٹوں سے کچل دیا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ پاکستانی تاریخ کا ایک تسلسل ہی تھا ۔ اِس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، مگر پھر بھی یہ پاکستانی تاریخ کی ایک مختلف نتائج کی حامل فوجی بغاوت ثابت ہوئی۔افسوس ناک طور پر پاکستان میں اس کا کماحقہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ مشرف کے بدترین عہد ِ اقتدار نے وطن ِ عزیز کو کتنابدل کر رکھ دیا؟ یہاں کتنے نئے فتنے بیدار ہوئے، کتنے نئے تنازعات نے جنم لیا، کتنے نئے مسائل مُنہ کھولے کھڑے ہوگئے؟ اس سے بھی بڑھ کر ہمارے قومی تصورات کتنے پاش پاش ہوئے، ہماری کتنی خوش گمانیاں ریزہ ریزہ ہوئیں اور کتنی بدگمانیاں کبھی نہ ختم ہونے کے لئے زندہ ہوگئیں؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی دہشت وبربریت تو محض ایک پہلو ہے۔ مشرف کے عہد ِ اقتدار نے پاکستانی سماج کو ہی مکمل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سماج کے تصورات ِخیر وشر، اس کے معیار ِنیک و بد اوراس کے معانی ¿ رذائل وفضائل میں ایک جوہری بدلاو¿ آ چکا ہے۔

مشرف عہد نے ایک نئے طبقے کو بھی جنم دیا ہے۔ سیاست دانوں پر عدم اعتماد اور اپنی ذات سے وفاداری کے حصول نے اُنہیں اپنے پُرانے اور ریٹائرڈ فوجی دوستوں کی طرف متوجہ کیا جو بتدریج ریاستی امور پر اثر انداز ہونے لگے۔ پاکستان میں دولت کو آسان راستوں سے کمانے کے لئے سرکاری اثرورسوخ کی ایک اہمیت ہوتی ہے،چنانچہ ایک نئے طبقے نے جنم لیا جو مشرف دور میں سیاسی اثرورسوخ کے مزے اور پہلی بار دولت کی بہتات کے مزے چکھنے لگی۔ بوجوہ مشرف نے اقتدار کے راستے کچھ ”رنگین مزاجوں “پر بھی ہموار کئے،جو پہلے اکا دکا تو کہیں نہ کہیں اپنی جگہ بنا لیتے تھے،مگر ایک جتھے کی نفسیات اور ایک طبقے کے طور پر اُنہیں اُبھرنے کا موقع ملا۔ اب یہ طبقات مشرف کے بعد بھی اقتدار کی اُن راہداریوں میں اپنے اثرورسوخ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ طبقات مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر یا مشرف کے ساتھ ابھی تک چپکے رہ کر اپنے ماضی ¿ قریب کو آواز دیتے رہتے ہیں۔

مشرف کے حوالے سے یہ سارے زاویئے جتنے بھی اہم ہوں، اصل اہمیت یہ ہے کہ مشرف اب بھی عسکری اور تمدنی تعلقات کی راہ میں ایک بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے جُرم میں ایک فوجی سربراہ کے خلاف مقدمہ نہ صرف قائم ہوا، بلکہ یہ غلط یا صحیح طریق پر تاحال چل بھی رہاہے۔ پاکستان کی منتخب حکومت ہر روز اس مقدمے کی وجہ سے مختلف افواہوں کے نرغے میں رہتی ہے، جس سے یوں لگتا ہے کہ ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کے جُرم میں چلنے والا مقدمہ کہیں ایک بار پھر ایک اور منتخب حکومت کو نہ لے بیٹھے اور یوں پاکستان کے سیاسی اُفق پر،جُرم بالائے جُرم کا منظر، جُرم چھپانے کے لئے کہیں دوبارہ چھا نہ جائے۔اگر چہ ہمیں متوازی طور پر کچھ ایسی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں کہ پاکستان بدل چکا ہے، مگر کہاں بدلا ہے؟ ریاست کے ہی نہیں کسی معاشرے کے باب میں بھی حقیقی تبدیلی وہاں رائج قوت کے ڈھانچے،نوعیت اور اُس کے مزاج میں تبدیلی کا نام ہے۔پاکستان میں قوت کا موجودہ ڈھانچہ جُوں کا تُوں ہے۔ اور جیسے کو تیسے کا مزاج بھی اب تک باقی و برقرار ہے۔ درحقیقت پُرانی عادتوں کو برقرار رکھ کر نیا شعور زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے، لہٰذا جب تک یہ طے نہ کر لیا جائے کہ پاکستان میں قوت کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے اور آئندہ کیا ہوگا ؟ پاکستان میں کسی بھی تبدیلی کا کوئی حقیقی تصور قائم نہیں کیا جاسکتا۔جو لوگ چھوٹے موٹے واقعات کو تبدیلی کی تحریک باور کرا رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کے اندر رائج قوت کے حقیقی مراکز کے لئے دراصل مزید طاقت کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ ایک زنجیر سے دوسری زنجیر کا بدلاو¿ ہے۔ طاقت کا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں انتقال نہیں۔ 12اکتوبر، ایک بارپھر ہمیں اس کھیل کو سمجھنے پر اُکساتا ہے۔یہ ہمارے ریاستی فلسفے اور قومی زندگی کے تصورات کو سامنے رکھ کر ازسرنو غور و فکر کا دن ہے کہ آخر ہم کیا ہیں؟ اور ہمیں کیسا ہونا چاہئے؟

مزید : کالم