حادثے پر سیاست

حادثے پر سیاست
حادثے پر سیاست

  

جمعتہ المبارک کو ملتان میں تحریک انصاف کا جلسہ اپنی حاضری اور جوش و خروش کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا، اور بدنظمی اور افراتفری کے حوالے سے بھی اسے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ عمران خان اب ایک مسلمہ کراﺅڈ پُلر(Crowd Puller) ہیں ان کے جیالے انہیں دیکھنے اور سننے کے لئے کھنچے چلے آتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ ان کا چوتھا جلسہ تھا۔ کراچی سے شروع ہونے والا ان کا جلسہ جاتی کارواں لاہور اور میانوالی سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا تھا۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ کی وسعت کا چیلنج سیاسی جماعتیں کم ہی قبول کرنے کا حوصلہ کر پاتی ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی نگاہ انتخاب یہاں ٹھہری یا کسی اور کی، حاضرین کی تعداد کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ کچھ غلط نہیں ٹھہری،کسی دوسری جلسہ گاہ میں اس سمندر کو سمیٹ لینے کی استطاعت نہیں تھی۔ مفتی عبدالقوی اگرچہ کہ تحریک انصاف پر قربان ہو چکے ہیں، لیکن ہیں تو مفتی، اور جلسہ گاہ میں مغرب کی اذان بھی اُن ہی نے کہی، اس لئے ان کے اس دعوے کو یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ان کی آنکھ نے ملتان میں اس سے پہلے اتنے انسانوں کو یک جا نہیں دیکھا۔

عمران خان کا خطاب ان کی شخصیت کی ایک اور پرت کھول گیا۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کی جذباتیت میں ڈوبنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان سے کچھ نہیں مانگتے، ٹکٹ نہ وزارت، عہدہ نہ اعزاز، صرف جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا مداوا چاہتے ہیں۔ وہ آصف علی زرداری اور شریف برادران پر برسے کہ دونوں ان کے مصائب کے ذمہ دار ہیں۔ اول الذکر نے جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کا نعرہ دھوکہ دینے کے لئے لگایا اور ثانی الذکر نے بہاولپور کے الگ صوبے کی بات کر کے معاملے کو الجھایا۔ شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان کے لئے اربوں روپے کا جو ترقیاتی پیکیج دیا،اس کا بڑا حصہ کمشن اور کرپشن کی نذر ہو گیا، گویا ان کا ذاتی ترقیاتی پیکیج بن گیا۔ شہباز شریف پر ان کا الزام تھا کہ وہ اس حصے کے وسائل لاہور پر خرچ کر رہے ہیں۔ جنگلہ بس پر اربوں روپے لٹا ڈالے اور یہاں خاک اُڑ رہی ہے۔ شاہ صاحب بضد تھے کہ عمران خان سے فوری طور پر جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کا اعلان کرا کر رہیں گے، لیکن عمران تقریر کرنے آئے تو انہوں نے انتظامی یونٹس کی تو حمایت کی، لیکن اس کے لئے کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تاکہ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جا سکے۔ ان کا زور بلدیاتی اداروں پر تھا کہ ان ہی کے ذریعے لوگوں کو اپنے مسائل آپ حل کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ ان کی گفتگو کا تاثر یہ تھا کہ اگر یہ بااختیار ادارے وجود میں آ جائیں، تو پھر جنوبی پنجاب لاہور سے بے نیاز ہو جائے گا، گویا اختیار اسے منتقل کر دیا جائے گا.... عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور یا وسطیٰ پنجاب میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، پیسہ جو بھی خرچ کیا جا رہا ہے، وہ رائیونڈ کے اردگرد ہے۔ بھارت کے جارحانہ رویے کا ذکر کرتے ہوئے بھی عمران خان نے اپنے تدبرّ کا نقش قائم کیا، وہ جہاں مودی کو للکار رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ پاکستانی قوم خوفزدہ ہونے والی نہیں، وہاں جنگی جنون ابھارنے کے بجائے انہیں یہ دعوت دے رہے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں تعاون کرو۔ سٹیٹسمین بنو (کوتاہ نظر) سیاست دان کے طور پر تاریخ میں یاد نہ رکھے جاﺅ۔ جرا¿ت اور اعتدال کا یہ امتزاج بظاہر ”جنون“ کے عمومی تاثر سے لگاّ نہیں کھاتا، لیکن یہ پیغام دے گیا کہ وہ احتیاط کا مظاہرہ کر کے بھی دکھا سکتے ہیں، لگتا تھا کہ وہ اس احساس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں کہ انہیں کسی بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا بھی پڑ سکتا ہے۔

جلسے کا اختتام ہوا، تو عمران خان اپنے رفقا کے ساتھ ایئر پورٹ روانہ ہو گئے۔ شاہ محمود قریشی کہ میزبان تھے،مہمان کی طرح ان کے ساتھ ہی آئے تھے اور ساتھ ہی تشریف لے گئے، لیکن اس کے بعد جو بھگدڑ مچی، اُس نے سات افراد کی جانیں لے لیں اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اس کا ذمہ دار مقامی انتظامیہ کو ٹھہرایا اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی او) کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تحقیقات کی مانگ کی۔ رانا ثناءاللہ نے عمران خان، شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی کے خلاف قتل کا پرچہ کٹوانے کا اعلان کیا کہ ان کے نزدیک جلسے کے منتظمین اس سانحے کے ذمہ دار تھے۔ گویا قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی اس سیاست کا آغاز کر دیا گیا، جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جلسہ گاہ کے اندر انتظامات کی ذمہ داری تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے اپنے سر لی تھی، جبکہ جلسہ گاہ سے باہر ٹریفک اور سیکیورٹی کے انتظامات ضلعی انتظامیہ کے ہاتھ میں تھے۔ ٹی وی سکرین دیکھنے والے ہر شخص پر واضح ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن منظم انداز میں کام نہیں کر پا رہے تھے۔ سٹیج پر چڑھنے والوں کے درمیان مقابلہ جاری تھا اور خدشہ تھا کہ کہیں یہ زمین بوس نہ ہو جائے۔ عمران خان، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کو ایک کھمبے کے ذریعے اوپر جانا پڑا کہ سیڑھی موجود نہیں تھی۔ تحریک انصاف کے ہر جلسے میں سٹیج کا انتظام ناقص ہوتا ہے کہ اس پر بیٹھنے کی خواہش رکھنے والے مسلسل حملہ آور رہتے ہیں، روکنے والے کبھی کامیاب ہوتے، تو کبھی بے بس نظر آتے ہیں۔ ملتان کے جلسے میں نہ پینے کے پانی کا انتظام تھا، نہ کسی فرسٹ ایڈ کا،شدید گرمی اور حبس میں جلسے کا انعقاد کرنے والوں پر لازم ہونا چاہئے کہ وہ نہ صرف اپنا میڈیکل کیمپ لگائیں، پانی کی سبیلیں قائم کریں، بلکہ سائے کے لئے شامیانے نصب کریں اور ہوا کے لئے پنکھے بھی فراہم کریں۔ جلسے عام طور پر بہت تاخیر سے شروع کئے جاتے ہیں۔ دو بجے بعد دوپہر کا اعلان ہو تو مغرب یا عشاءکے بعد مرکزی مقرر کا خطاب شروع ہوتا ہے۔ لوگوں کو کئی کئی گھنٹے پہلے آنا اور انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مہمانانِ خاص خود تو ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں کے ذریعے چند لمحے پہلے پہنچتے ہیں، اپنی مخصوص اور آرام دہ نشستوں پر آرام فرما ہو جاتے ہیں، لیکن ان کے جانثار بے چارے اپنے اپنے صبر کے پیمانے کو سنبھال کر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

جلسے کی جگہ اور وقت کا اعلان کرتے ہوئے موسم کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا اور اپنے پارٹی کارکنوں کو اپنا ”مال مقبوضہ“ قرار دے کر ان کی سہولت کے حوالے سے کسی تجویز پر کان نہیں دھرے جاتے۔ ایک زمانہ تھا کہ گرمی کے موسم میں عام جلسوں کا کوئی تصور نہیں تھا، اس کا زور ٹوٹتا تو جلسوں کے آگے باندھا گیا بند بھی ٹوٹ جاتا۔ اگر کہیں موسم گرما میں کسی جماعت پر کوئی افتاد پڑ جاتی، تو پھر بعد از نماز مغرب یا عشا یہ شوق پورا کیا جاتا اور رات گئے تک لوگ محظوظ ہوتے۔ اب شدید گرمی میں جلسہ برپا کرنے کو بھی اپنے لئے طرہ¿ امتیاز بنا لیا گیا ہے، کہ ہم اپنے کارکنوں پر ایسی گرفت رکھتے ہیں یا وہ جنون میں اس طرح مبتلا ہو چکے ہیں کہ سرد و گرم کے تصور سے بے نیاز ہیں۔ سانحہ¿ ملتان کا تقاضہ ہے کہ اس روش کو تبدیل کیا جائے، کوئی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کو اپنی ذاتی ملکیت تصور نہ کرے اور سرکاری افسران بھی اپنے آپ کو ان کی حفاظت سے بے نیاز نہ سمجھیں۔ جلسے ضرور ہوں، لیکن انہیں موت کے کنوئیں نہیں بننا چاہئے اور ہاں کسی حادثے پر سیاست سے بھی توبہ کی جائے کہ یہ حادثے سے بڑا حادثہ ہے۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم