ملالہ یوسف زئی کے لئے نوبل انعام

ملالہ یوسف زئی کے لئے نوبل انعام

شمال کی خوبصورت وادی سوات میں پیدا ہونے اور اپنوں کے ہاتھوں موت کی دہلیز تک پہنچ جانے والی ملالہ یوسف زئی نے بالآخر نوبل انعام حاصل کر کے دنیا کی کم عمر انعام یافتہ بچی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا، اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے پیارے ملک پاکستان کی عزت بھی بڑھائی اور دنیا بھر میں اس کے وطن کا نام روشن ہوا۔ ملالہ کو مارنے کے لئے طالبان نے فائرنگ کی، جو مسلمان کہلاتے اور خود کو ہی حق پر جانتے ہیں، لیکن ملالہ کو نئی زندگی دینے والا ملک تو برطانیہ ہے، جہاں عیسائی حکمران ہیں، وہ بھی بہرحال ایک نبی کے ماننے والے ہیں۔ملالہ یوسف زئی نے انعام حاصل کرنے اور اس سے بھی پہلے اپنے بیانات اور انٹرویوز کے ذریعے یہ عزم ظاہر کیا ہوا ہے کہ وہ یقیناًحالات کے مطابق واپس اپنے گاؤں، اپنے ملک جانا چاہیں گی۔

ملالہ ایک لحاظ سے افسانوی کردار بن چکی، جس نے گل مکئی کے قلمی نام سے بچیوں کی تعلیم کے حق میں ڈائریاں لکھیں اور پھر اِسی جرم میں طالبان کی گولیوں کا نشانہ بنیں کہ اُس نے سوات جیسے علاقے میں پختہ ارادے اور یقین کے ساتھ بچیوں کی تعلیم کے حق میں بات کی۔ طالبان نے اس کے سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا، سوات کا علاقہ کلیئر کرا لینے کے بعد جب فوجی حکام نے اس سکول کی تعمیر نو کی تو اس کا نام ملالہ یوسف زئی سکول رکھ دیا، جس کے بعد طالبان نے دھمکی دی کہ اگر یہ نام رکھا گیا تو وہ سکول کو پھر سے زمین بوس کر دیں گے۔ ملالہ کو اطلاع ملی تو اُس نے پیغام بھیجا، سکول جاری رہنا چاہئے تاکہ بچیاں تعلیم حاصل کریں، اُس کا نام ہٹا دیا جائے۔

ملالہ کے ایثار، بہادری اور جرأت کی کہانیاں آج عالمی سطح پر چھپ اور نشر ہو رہی ہیں اور وہ بھی بہت متحرک ہے۔ خود تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں تعلیم اور خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے لئے بہت کام کر رہی ہے۔ ملالہ کو گزشتہ سال بھی نوبل کے لئے نامزد کیا گیا، لیکن کامیابی نہ ملی۔ اس مرتبہ اسے تعلیم کے لئے خدمات انجام دینے والے ایک بھارتی کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر حق دار جانا گیا ہے۔ ملالہ کو دنیا بھر سے تہنیت کے پیغام موصول ہوئے، حتیٰ کہ بھارتی وزیراعظم نے بھی مبارکباد دی۔ جہاں تک ہمارے پیارے پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں ہر طبقہ فکر کی طرف سے بلاامتیاز مبارکباد دی گئی۔ حکومت پنجاب نے تو ایک نئی یونیورسٹی ملالہ کے نام سے موسوم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔17سالہ ملالہ نے ایک بار پھر بڑے پن کا ثبوت دیا اور امن کی بات کی، وہ کہتی ہے آج کل پاکستان بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر لڑائی ہو رہی ہے۔یہاں بھارتی شہری اور مجھے مشترکہ طور پر انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا، ہم نے طے کیا ہے کہ ہم مل کر تعلیم کے لئے خدمات انجام دیں گے۔ انہوں نے فریقین سے لڑائی بند کرنے کے علاوہ پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف اور بھارتی پردھان منتری نریندر مودی کو دعوت دی کہ وہ دونوں دسمبر میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کریں، جس میں اس کو انعام دیا جائے گا۔

ملالہ کے بارے میں بہت منفی پروپیگنڈہ بھی کیا گیا،لیکن اس کی بہادری اور جرأت کے سامنے یہ سب رائیگاں گیا۔ وہ دنیا بھر کے14سے زائد اعلیٰ ترین اعزازات حاصل کر چکی اور اس طرح دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کے ساتھ وطن کا نام بلند کر رہی ہے۔ ہم بھی اسے تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے اور خوشی و طمانیت کا اظہار کرتے ہوئے دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بچی کو مزید حوصلہ اور عزم عطا کرے کہ وہ جن نیک مقاصد کے لئے عام کر رہی ہے، کرتی رہے اور وہ دن بھی آئے، جب ہمارے پیارے ملک میں ہر طرف امن اور محبت ہو اور ملالہ واپس آ کر اس ملک کی بچیوں کے لئے بہ نفسِ نفیس خدمات انجام دے سکے۔ *

مزید : اداریہ