’’کسان راج تحریک‘‘

’’کسان راج تحریک‘‘

  

عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ زراعت کی حیثیت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، کیونکہ مجموعی قومی پیداوار(GDP) میں اس کا حصہ 21فیصد، کل لیبر فورس میں44فیصداور کل برآمدات میں اس کاحصہ60فیصدہے ،علاوہ ازیں دیگر سیکٹرز میں بھی زراعت کا بالواسطہ یا بلا واسطہ بڑا حصہ ہے۔ کم از کم 66فیصدآبادی کا دارومدار زراعت پر ہے۔ ملکی معیشت میں اس اہمیت کے باوجود زراعت کا شعبہ مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے ، مالی سال 2014-15ئکے دوران زراعت کے سیکٹر میں صرف 2.9فیصد بڑھوتری ہوئی اور اس میں فصلوں کے سیکٹر کا حصہ صرف 1فیصد تھا۔ ان فصلوں میں بھی اہم فصلیں مثلاً گندم ، چاول ، مکئی ، گنا اور کپاس میں بڑھوتری صرف 0.28فیصد تھی، جبکہ اس سے پچھلے سال یہ بڑھوتری 7.96فیصد تھی۔ صرف چھوٹی فصلوں مثلاً پیاز ، مونگ ، مرچ وغیرہ میں بڑھوتری 1.09فیصد تھی۔ بقایا حصہ لائیو سٹاک، فشریز اور جنگلات وغیرہ کا تھا ، آبادی میں سالانہ اضافے کے پیش نظر بڑی فصلات میں 0.28 فیصد سالانہ بڑھوتری ایک طرف فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے اور دوسری طرف زراعت کے سیکٹر کی زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایسا کیوں؟ (i) ہر دور حکومت میں زراعت کا سیکٹر حکومتی ترجیحات میں سب سے نچلے درجے پر رہا (ii) اس شعبہ میں کبھی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہوئی (iii) دیہاتوں میں رہنے والے چھوٹے کسانوں ) جن کے فارمز کی تعداد87فیصد ہے(تک جدید ٹیکنالوجی اور تحقیقات کے متعلق آگاہی نہ پہنچائی گئی (iv) معاشی کمزوریوں کی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی ویسے بھی ان کی رسائی سے باہر ہے اور (v) رہی سہی کسر بین الاقوامی منڈی میں زرعی اشیاء مثلاً گندم، چاول، کپاس اور سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے رجحان نے پوری کر دی۔

پاکستان کی کل آبادی میں سے 12 کروڑ افراد زمین کے چھوٹے مالکان(12.5) ایکڑ تک ، جبکہ بے مالک کسان اور زرعی مزدوروں پر مشتمل ہیں۔ اس وقت یہ طبقہ پورے ملک میں سب سے زیادہ معاشی اور معاشرتی پسماندگی کا شکار ہے۔ رسل و رسائل کی کمی ، صحت کی بنیادی سہولتوں سے محرومی اور تعلیمی مواقع سے دوری ان کا مقدر ہے،بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کی کمی کے رجحان کے منفی اثرات سے امریکہ جیسے ملک نے فصلوں کی انشورنس،بھارت جیسے ملک نے سبسڈی کے ذریعے اپنے اپنے کسانوں کو تباہی سے بچا لیا لیکن پاکستان میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا۔ حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان کے طرف سے زرعی پیکیج بھی صرف سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف کپاس اور چاول کے 12.5 ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو 5000 روپے فی ایکڑ ادائیگی کا اعلان ان فصلوں کی قیمتوں میں کمی کے وجہ سے اس کے نقصان کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، کیونکہ فی ایکڑ نقصان کم از کم 35000/۔ روپے ہے۔ مزید برآں ماضی میں آج تک ایسی رقوم کی تقسیم صرف سیاسی حمایتیوں کو نوازنے کے لئے کی گئی ہے۔ گزشتہ ادوار میں اعلان کردہ کھادوں پر سبسڈی کسانوں تک پہنچنے کی بجائے فیکٹری مالکان ، درآمد کنندگان اور سٹاکسٹوں تک ہی محدود رہی، اس لئے یہ پیکیج کسانوں کے مسائل کا حل پیش نہیں کرتا۔

اس پس منظر میں کسان بورڈ پاکستان کے تحت کسان راج تحریک کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد دیہاتوں / ڈیروں/گوٹھوں میں رہنے والے ان کسانوں اور زرعی مزدوروں کو ان کے جائز معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق دلوانا ہے، جس کی راہ میں بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا گٹھ جو ڑ حائل ہے۔ کسان راج تحریک کی قیادت سینیٹر سراج الحق نے سنبھال لی ہے اور ارسلان خان خاکوانی بطور چیئر مین کسان راج تحریک ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔ ہم نے خالصتاً فلاح اخروی کے حصول کے لئے ، رب کائنات کی رضا جوئی اور نبی اکرمؐ کی سنت کے اتباع میں اس محروم طبقے کے جائز بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جد وجہد کا آغاز کیا ہے۔۔۔کسان راج تحریک کے درج ذیل مطالبات ہیں ۔

-1اہم فصلوں کی بوائی سے پہلے ہر سال کسان تنظیموں کی مشاورت سے حکومت امدادی قیمتوں کا اعلان کرے۔ اس وقت خریف کی فصلیں مثلاً دھان ، مکئی اور گنا وغیرہ مارکیٹ میں آ رہی ہیں۔ نان باسمتی دھان کی قیمت 1200 روپے فی من ، باسمتی دھان کی قیمت 2500 روپے فی من ، کپاس کی قیمت 4000 روپے فی من اور گنے کی قیمت 250 روپے فی من مقرر کی جائے۔ گزشتہ سال کے گنے کے کاشت کاروں کے کروڑوں روپے شوگر ملوں کی جانب واجب الادا ہیں، حکومت گنے کے کاشتکاروں کی یہ واجب الادا رقوم دلوانے کے لئے فوراً اقدامات کرے۔ انڈیا میں اہم فصلوں کی قیمت حکومت مقرر کرتی ہے اور مارکیٹ میں اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کسانوں کو مقررہ قیمت ادا ہو۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔

-2زرعی مداخل مثلاً کھادیں، زرعی ادویات ، ٹریکٹر ، زرعی آلات/ مشینری اور ڈیزل وغیرہ پر سیلز ٹیکس عائد ہے، جس سے پیداواری قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر زرعی ٹیکس لگایا، حالانکہ دنیا کے کسی ملک میں فوڈ سیکیورٹی کے نام پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا،بلکہ سبسڈی دی جاتی ہے۔ زرعی مداخل پر سیلز ٹیکس فوراً واپس لیا جائے۔

-3کسانوں کو مالی وسائل مہیا کرنے کے لئے بلا سود قرضوں کا فوراً اجرا کیا جائے، زراعت کے سیکٹر میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے غیر سودی قرضے دینے کے لئے تفصیلی ہدایات موجود ہیں جو کہ ان کے شریعہ بورڈ نے منظور کی ہوئی ہیں، مثلاً بیعہ سلم ، مراحبہ اور مساومہ وغیرہ۔ خیبر بنک جلد ہی زراعت کے مقاصد کے لئے بلا سود قرضوں کا اجراء شروع کر رہا ہے ، ملک کے باقی بنکوں میں بھی بلا سود زرعی قرضوں کا اجراء یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں ہم ہر قسم کی معاونت مہیا کرنے کو تیار ہیں۔

-4زرعی ٹیوب ویلوں کو بجلی طے شدہ فلیٹ ریٹ پر مہیا کی جائے۔

-5نسل در نسل سرکاری مزارعین اور پٹے داران ، سیڈ کارپوریشن، لائیو سٹاک فارمز ، ملٹری فارمز، تحقیقاتی فارمز، گھوڑی پالان، نمبر داری سکیم اور چولستان سکیم وغیرہ( کو مالکانہ حقوق دئے جائیں۔

اپنے مطالبات کو عوامی تحریک کے ذریعے منوانے کے لئے کسان راج تحریک کے تحت اب تک خیر پور ٹامیوالی ، پھالیہ ، خانیوال اور لیہ میں بڑے کسان کنونشنوں کا انعقاد ہو چکا ہے جن میں باقی رہنماؤں کے علاوہ قائد کسان تحریک سینیٹر سراج الحق نے خطاب کیا۔ 5 اکتوبر سے کسان راج تحریک کے لانگ مارچ سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں آغاز ہو چکا ہے ، صادق آباد اور دیگر مقامات کے علاوہ نیازی چوک خانیوال میں بہت بڑے جلسوں کا انعقاد ہو چکا ہے، جس میں لاکھوں کسانوں نے شرکت کی اور یہ لانگ مارچ سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں انشاء اللہ اسلام آباد تک جائے گا۔ سیاسی منظر نامے پر ملکیتی اور وراثتی سیاسی جماعتوں کی موجودگی ، ان کے طرف سے وفاداروں کو ٹکٹ دینا اور غریب کسانوں میں برادریوں کی بنیاد پر دھڑا بندیوں کے ذریعے سے ووٹ حاصل کر کے بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ توڑنے کے لئے کسانوں میں آگاہی اور بیداری پیدا کرکے انہی میں سے حقیقی نمائندوں کو ایوانوں تک پہنچا کر فیصلہ سازی میں شراکت دار بنائے بغیر کسانو ں کی حالت زار میں بہتری نہیں آسکتی۔ اس مقصد کے حصول تک کسان راج تحریک انشاء اللہ جاری رہے گی۔

مزید :

کالم -