ہلالِ احمر پاکستان کی نئی ترجیحات اورخدمات

ہلالِ احمر پاکستان کی نئی ترجیحات اورخدمات
ہلالِ احمر پاکستان کی نئی ترجیحات اورخدمات

  

ہلالِ احمر کی اہم سرگرمیوں میں قدرتی آفات سے نمٹنا، صحت، علاج، انسانی ہمدردی کی قدروں کا فروغ اور تنظیمی کارکردگی بڑھانا شامل ہے، مگر اس ادارے کا اہم اور خاص حصہ دُنیاوی و آسمانی آفات سے متاثرہ لوگوں کی بروقت مدد اور بنیادی صحت کی سہولتیں بہم پہنچانا ہے۔2005ء کے زلزلہ میں امدادی سرگرمیوں کی بدولت ہلالِ احمر کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہلالِ احمر برانچ کے زیر انتظام فرسٹ ایڈ کا فلیگ شپ پروگرام20اضلاع میں کامیابی سے جاری ہے۔پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جا رہی ہے۔ جبکہ ہلالِ احمر کے زیر اہتمام فرسٹ ایڈ کی تربیت کا سلسلہ مُلک بھر میں جاری ہے۔ شہر شہر، پریس کلبوں کو بھی اِس سلسلے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں کوبھی فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جا رہی ہے اور پریس کلبوں کو فرسٹ ایڈ کٹس بھی دی جا رہی ہیں کہ صحافیوں کو بھی اپنی جان کی حفاظت کو اولیت دینی چاہئے۔

ہنگامی حالات میں رپورٹنگ کے دوران اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کی حفاظت بھی کرنی ہوتی ہے اِس لئے صحافیوں بالخصوص کیمرہ مینوں کو فرسٹ ایڈ کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر میں خاندانی روابط کی بحالی کا پروگرام ’’REL‘‘ زور و شور سے جاری ہے۔ مختلف ہسپتالوں میں ہیلپ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں۔جنرل ہسپتال، جناح ہسپتال، گنگا رام ہسپتال سمیت 15ہسپتالوں میںREL آفیسرز کا کام کر رہے ہیں۔ اِس وقت تک 52ہزار افراد کو سہولیات بہم پہنچائی گئی ہیں،جن کی بدولت انہیں اپنے پیاروں کی معلومات ملیں۔ یہ پروگرام ابتدائی طور پر10اضلاع میں جاری ہے، جس کا دائرہ کار آئندہ دِنوں میں بڑھایا جائے گا۔ بچوں کے اغواء کے حالیہ واقعات بابت ہلالِ احمر کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الٰہی کا کہنا ہے کہ لاہور کے متاثرہ علاقوں میں ماہرین نفسیات پر مشتمل ٹیمیں متاثرہ خاندانوں تک پہنچ رہی ہیں یہ ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کی نفسیاتی حوالے سے ہر طرح کی مدد کر رہی ہیں۔ ہلالِ احمر پاکستان کے زیر اہتمام زیر آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت سکولوں، محلوں، ریلوے سٹیشن، لاری اڈوں، تجارتی مراکز، پبلک مقامات پر معلوماتی لٹریچر تقسیم کئے جا رہے ہیں، جن پر گمشدگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر درج ہیں۔دُکھ کی اِس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

ہلالِ احمر کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی نفسیاتی امداد کی فراہمی کا مقصد ان کی دلجوئی کرنا ہے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کا اغوا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہلالِ احمر اپنی بساط کے مطابق نفسیاتی امداد اور عوام الناس میں احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم جاری رکھے گی۔ ہلالِ احمر دُکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔یہ ادارہ قدرتی آفات سے متاثرین کے لئے سائبان کی حیثیت رکھتا ہے۔اِس کے رضا کار مشکل کی ہر گھڑی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ نیشنل ہیڈ کوارٹر میں ایمبولینس سروس کالج قائم کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1030 ایمرجنسی ایمبولینس سروس مستعدی سے رواں دواں ہے۔جدید طرز کی 12 ایمبولینس گاڑیاں مختلف مقامات پر ہمہ وقت موقع پر موجود رہتی ہیں اور کسی بھی ہنگامی حالت میں مدد کو پہنچ جاتی ہے۔اِس وقت ہلالِ احمرکے پاس17لاکھ سے زائد رضا کاروں کی ٹیم موجود ہے، جو ہر لحاظ سے تربیت یافتہ بھی ہے۔ رضا کاروں کی تعداد کو آئندہ تین برسوں میں50لاکھ کرنے کا منصوبہ بھی پوری آب و تاب سے جاری ہے۔ ہر گھر میں ایک رضا کار اور فرسٹ ایڈ ہلالِ احمر کا اولین مقصد ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں انسانی جانوں کو بچایا جا سکے اور قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

نیشنل ایمبولینس سروس کے حوالے سے پاکستان ریڈ کریسنٹ (پی آر سی) نے ہیڈ کوارٹر میں نیشنل ایمبولینس سروس کالج قائم کیا ہے۔اِس کالج کے قیام کا مقصد مریضوں کو فی الفور طبی امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اِس کالج کا نیشنل ایمبولینس سروسز کالج ڈبلن اور پری ہاسپیٹل کیئر کونسل، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے الحاق ہو گا۔ بیرونِ ملک پاکستان ریڈ کریسنٹ کی خدمت کے حوالے سے نیپال میں حالیہ زلزلہ سے ہونے والی تباہی میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی 10رکنی ٹیم نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ یہ ٹیم نیپال ریڈ کراس کی درخواست پر بھیجی گئی تھی، جس میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں نیپالی ریڈ کراس کے ساتھ بھرپور مدد اور تعاون کیا۔ پی آر سی ایس کی جانب سے امدادی سامان بھی بھیجا گیا تھا۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی باحفاظت تکمیل اور بعدازاں مستقل بنیادوں پر اس عظیم راہداری پر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے ریپڈ رسپانس ایمرجنسی منصوبے کا اعلان ایک اعلیٰ سطحی چینی وفد کے ہلالِ احمر کے دورے کے موقع پر کیا گیا تھا۔ ہلالِ احمر نے ریپڈ رسپانس ایمرجنسی سروس کا منصوبہ بنایا ہے جو کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں ٹریفک حادثات، دِل کے دوروں اور دیگر ناگہانی آفات کے لئے ہوائی جہاز والی ائیر ایمبولینس، ڈرون مانیٹرز اور دیگر ٹیکنالوجی آلات کے ذریعے امداد کرے گا۔

اِس منصوبے کا اجراء ہلالِ احمر کے تکنیکی ادارے برائے ایمرجنسی ادویات اور ایمبولینس سروس کالج کے تحت کیا جائے گا۔ ہلالِ احمر اِس سلسلے میں ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کر رہا ہے، جس کے تحت ایمرجنسی اور آفات سے بچاؤ،1111کی طرز پر ایمرجنسی نمبر، ہر50کلو میٹر پر ٹروما سنٹر، ہر400میٹر پر ایمرجنسی فون سروس، تمام سنٹرز کو شمسی توانائی پر چلانا، ایمبولینس سروس، فضائی یعنی ائیرایمبولینس، بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تیار کئے جائیں گے۔ ہلالِ احمر کو تربیت، ایمبولینس کے آلات اور ریپڈ رسپانس کے لئے چین کے اشتراک کی ضرورت ہے۔ اس راہداری پر حادثات کی صورت میں چند منٹ کے اندر طبی امداد پہنچائی جائے گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے ریپڈ رسپانس سروس کے قیام کے منصوبے کو چینی وفد نے بے حد سراہا ہے۔ ہلالِ احمر کے مستقبل کے منصوبے کے حوالے سے اِس وقت 17لاکھ رضا کار موجود ہیں اور رضا کاروں کی تعداد 50لاکھ تک پہنچائی جائے گی یہ رضا کار کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ آئرش (DRIP) کے تعاون سے ڈیزاسٹر ریلیف ٹریننگ کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ ترکش اور آئرش نیشنل سوسائٹیز کے تعاون سے مختلف شہروں میں پینے کے صاف پانی کے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ تعلیمی نصاب میں ہلالِ احمر بارے تعارفی باب شامل کیا جائے گا۔ دینی مدارس، مساجد اور درباروں کے تعاون سے صحت عامہ کی مہمات شروع کی گئی ہیں۔ متعدد مدارس میں اِس سلسلے میں میں پہلے ہی ہلالِ احمر پاکستان اور اتحاد تنظیمات المدارس کے مابین ایک میثاق طے پا چکا ہے، جس کے مطابق ہلالِ احمر اور اتحاد تنظیمات المدارس باہم مل کر دُکھی انسانیت کی خدمت کے لئے مشترکہ سرگرمیاں سرانجام دیں گے۔

ہلالِ احمر نے مغوی بچوں کے خاندانوں کو نفسیاتی خدمات کی فراہمی شروع کر دی ہے تاکہ ان کی ذہنی اور نفسیاتی حوالے سے مدد کی جا سکے۔ دُکھ اور غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کو حفاظتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی بیماریوں اور اُن کی درست تشخیص کے بغیر علاج ممکن نہیں۔اِس ضمن میں ہلالِ احمر مُلک بھر کے تمام شہروں میں مختلف امراض کی تشخیص کے لئے 121 ریڈ کریسنٹ لیبارٹریز اور بلڈ ڈونر سنٹرز بنائے گا، پہلی جدید ترین لیب نیشنل ہیڈ کوارٹرز میں مکمل طور پرفعال ہے، جہاں رعایتی نرخوں پر مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ ایک لاکھ بلڈ ڈونرز رجسٹرڈ کئے جائیں گے۔ہلالِ احمر کے زیر اہتمام مُلک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی بلڈ سکریننگ شروع کی جارہی ہے۔ اِس حوالے سے سنٹر جیل اڈیالہ میں پراجیکٹ کے طور پر پانچ ہزار قیدیوں کی بلڈ سکریننگ مکمل کی جائے گی۔ہلالِ احمر کی تمام صوبائی علاقائی شاخوں کو دائرہ کار میں لایا گیا ہے۔ آفات، حادثات اور اِس سے ملتی جلتی صورت حال میں بہتر کارکردگی کے لئے متعلقہ شعبوں میں تربیت یافتہ افراد تیار کئے جا رہے ہیں۔ ادارہ کو تعلیمی اداروں اور حادثات کا تعاون حاصل ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونیورسٹی کا قیام اولین ترجیح ہے، جس کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ ہلالِ احمر قدرتی آفات سے نمٹنے کے دیگر داروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔ہلالِ احمر First to Reach----Last to Leave کے فارمولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے قدرتی آفات اور سانحات میں اپنی خدمات جاری رکھے گا۔

مزید :

کالم -