پاسبانِ قانون : میاں محمداسماعیل شمیمؒ

پاسبانِ قانون : میاں محمداسماعیل شمیمؒ
پاسبانِ قانون : میاں محمداسماعیل شمیمؒ

  


انسان نے اپنے تحفظ اور بقا کے لئے اجتماعی طور پر رہنے کو ترجیح دی اور بستیا ں قائم کر کے رہنا شروع کیا۔ اگرچہ بیرونی خطرات کم ہو گئے، لیکن اندرونی خطرات بڑھنے لگے ۔ آپسی اختلافات نے توتکار ، ہاتھا پائی اور پھر جنگ و جدل کی بنیاد رکھی ۔

زمانۂ امن میں بھی طرح طرح کے مسائل کا سامنا رہا۔ حقوق و فرائض کا شعور پیدا کرنے کی ضرورت شدید سے شدید محسوس ہونے لگی۔طبقاتی تقسیم کے بڑھتے رجحان نے کم مائیگی کے احساس کو فزوں تر کر دیا۔’’تگڑے‘‘ نے ’’ماڑے‘‘ کو لتاڑنا شروع کر دیا اور ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا محاورہ عملاً قانون بن کے نافذالعمل ہو گیا۔

ایسے میں انسانی دماغ نے مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے قوانین بنانے کی ٹھانی اور انسانی حقوق ، مساوات ، انصاف کی بنیاد پر قوانین مرتب کئے ۔ بلا شبہ قوانین کی تشکیل کے بعد عدم تحفظ کے شکار انسان قدرے مطمئن ہوئے، مگر انسان کے تشکیل کردہ قوانین ابھی نہ صرف نامکمل ہیں،بلکہ ان پر صحیح معنوں میں عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے انسانی فکر وہیں کھڑی ہے کہ کچھ ایسے بھی قوانین بنائے جائیں، جن کی بدولت انسانی حقوق، مساوات ، انصاف پر من و عن عمل کیا جاسکے ۔ قوانین کی سر بلندی کا سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ بہت سارے عالی دماغ قانون دان ان قوانین کی سربلندی کے لئے میدانِ عمل میں ہیں جو تشکیل پا چکے اور بہت سارے قانون دان نئے قوانین کی تیاری میں مشغول ہیں، جن کی تشکیل کے بعد پسا ہوا طبقہ سکھ کا سانس لے سکے گا۔

میاں اسماعیل شمیمؒ ان معدودے چند قانون دانوں میں شامل ہیں،جنہوں نے پوری زندگی قانون کی سربلندی کی جنگ لڑی ۔ وہ مُلک کے عظیم قانون دان تھے ۔ اُنہوں نے قانون کی تعلیم کے فروغ کو زندگی کا مشن بنالیااور ساری زندگی قانون کی تعلیم کو عام کرتے رہے ۔

مُلک کے طول و عرض میں ہزاروں کی تعداد میں ان کے شاگرد قانون کی سربلندی کے لئے عملی جدو جہد کر رہے ہیں ۔اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں ہو گاکہ وطنِ عزیز کا ایک بھی شہر ایسا نہیں ہو گا، جہاں ان کا کوئی شاگرد جج، مجسٹریٹ،پراسیکیوٹر یا وکیل کی حیثیت سے خدمات سر انجام نہ دے رہا ہو۔ گوجرانوالہ کے بڑے قانونی تعلیمی ادارے یہ شرف رکھتے ہیں کہ میاں محمد اسماعیل شمیمؒ ان کے سربراہ رہ چکے ہیں ۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ لاء کالج اور پریمیئر لاء کالج اُن کی طویل خدمات کو ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتے رہیں گے ۔اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری ا یام پریمیئر لاء کالج کی ترقی میں گزارے اور بلا شبہ کالج کی موجودہ عظمت و سربلندی ان کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ میاں محمد اسماعیل شمیمؒ نہایت با اصول قانون دان تھے، اُنہوں نے قانون کی عظمت و سربلندی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔

اُن کے بعض شاگرد اور رفقاء ان کی اس اصول پسندی سے خائف رہے اور آج بھی ہیں ، لیکن وہ اس بات کے معترف بھی ہیں کہ ان کی سخت گیری یقیناًاصولوں پر مبنی ہوتی تھی۔

وہ اپنے ادارے کے مفادات کو ذاتی دوستی اور تعلق پر فوقیت دیتے ۔ ان کے بعض شاگردوں اور دوستوں کو یہ گلہ آج بھی ہے کہ اُن کی ادارے سے محبت دوستوں اور شاگردوں کی محبت و شفقت پر ہمیشہ بھاری رہی۔

فیسوں کی مد میں ان کی سخت گیری اور اصول پسندی کا میں خو د گواہ ہوں، لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جس ادارے کی سربراہی اُنہیں سونپی جاتی اُس کے تقاضوں سے نہ صرف وہ بخوبی آگاہ رہتے،بلکہ ان کو کما حقہ ،نبھانے کی سکت بھی رکھتے تھے ۔بے شک اس میں اُنہیں بہت سی رفاقتوں کی قربانیاں بھی دینا پڑیں ۔ میاں صاحب کا اوڑھنا بچھونا ’’قوانین‘‘ہی تھے ۔

قوانین میں کیا کیا ا سقام ہیں، اس کی کیا کیا وجوہات ہیں اور اس کا تدارک کیونکر ممکن ہے؟ یہ سب ان کی سوچوں کا محور رہتا۔ وہ قوانین کی بہتری اور ان پر عمل درآمد کے لئے سوچتے اور پراثر ثابت ہونے کی کوشش کرتے۔ ان کی عظمت کے لئے یہ بات ہی کافی ہے کہ ان کے پاس دیگر شعبوں میں زیادہ پیسے کمانے کے مواقع دوسروں سے زیادہ تھے،مگر انہوں نے تاحیات قانون کی پاسبانی میں گزار کر یہ بات ثابت کر دی کی ان کے نزدیک مادیت سے زیادہ انسانیت کی اہمیت ہے ۔ وہ انسان کو پھلتا پھولتا اور توانا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے اور اسی کوشش میں اُنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس بھی لی ۔

ان کا سب سے بڑا اثاثہ یا تو قانون کے ماہراُن کے تلازمہ کو قرار دیا جا سکتا ہے یا ان کی لائبریری کو ان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں آج بھی قانون کی ہزاروں کی تعداد میں نایاب اور کار آمد کتب پڑی ہیں اور طالبانِ علم قانون کو دعوت دیتی محسوس ہوتی ہیں کہ آؤ اور اپنی علمی تشنگی کو بجھاؤ ۔ میاں صاحب نے قانون کو اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھایا اور کبھی ضعف کا شکار نہ ہونے دیا ۔

اُنہوں نے ضعیفی اپنے بدن پرتو طاری کر لی،مگر قانون کے تناور درخت اور اُس کی ٹہنیوں کو جھکنے نہیں دیا۔میاں محمد اسماعیل شمیمؒ اُن معدودے چند قانون دانوں میں سے تھے،جو قائداعظمؒ کے سپاہیوں میں سے تھے ۔ قائد اعظمؒ ان کے اس حد تک آئیڈیل تھے کہ اُنہوں نے اپنے قائدؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قانون کی تعلیم حاصل کر کے قانون کی سربلندی کے لئے عملی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصدِ اول بنا لیا اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے آخری سانس تک مثالی جدو جہد کر کے تاریخ رقم کر دی۔ مُلک بھر میں موجو د ان کے شاگرد ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قانون کی سربلندی اور حکمرانی کے لئے عملی طور پر کوشا ں ہیں ۔یہ اُن کے لئے صدقہ جاریہ سے کم نہیں ۔

مزید : کالم


loading...