دھند میں لپٹے موسم

دھند میں لپٹے موسم
 دھند میں لپٹے موسم

  


کلمہ وکلام اور نامہ و پیام لئے پھول سے بازو آئے اور باتوں سے تو خیر خوشبو آئے۔

وہاں مجنوں کے مقدر میں نہ ہوا کہ اندھیری رات میں چپ چاپ اس کا محبوب آئے۔اب کی بار توزخم بھی عجب تھے کہ دیکھ کر بہت سوں کی آنکھوں میںآنسو آئے۔بات تواس دھان پان اور منحنی سے شاعر بشیر بدر نے بھی لا جواب کی:

اس کی باتیں کہ گل و لالہ پہ شبنم برسے

سب کو اپنانے کا اس شوخ کو جادو آئے

یہ وہ سیاسی فسانے ہیں جو اگرچہ خود تو گزر گئے لیکن ہمیشہ کے لئے دامن سیاست پراپنا رنگ چھوڑ گئے۔اب تو گزرے ہوئے وقتوں کی صرف کہانی باقی رہ گئی ہے۔’’اب جس جگہ کہ داغ ہے،یاں پہلے درد تھا‘‘۔ان فسانوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے کتنے صحراؤں کو طے کرنا پڑے گا؟کتنے سمندروں کوالانگناپڑے گا؟کتنی چوٹیوں سے کودنا پڑے گا؟

اس عالم رنگ و بو میں یہ روش تو مکھی کی رہی کہ شہد پر بیٹھتی ہے تو اس طرح کہ پھر اٹھ سکتی نہیں۔جیتے جاگتے اور چلتے پھرتے انسانوں میں بہرحال دماغ ہوتے ہیں جو تغیرو تبدل سے گزرتے ہیں۔نواز شریف اب صاف اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ کلی اور قطعی طور پرتمام اداروں کو آئینی ماتحتی میں چلنا اور پارلیمانی بالادستی کوماننا ہو گا۔یاقوت سے لب ہلے اور ادھرسے خط میں نیا اک سلام آیا کہ ہم آئین میں رہتے ہوئے کام کریں گے۔’’غلط فہمی ‘‘کے شوخ و شنگ سے شکوے کے ساتھ سندیسہ سنا گیا کہ آئین و قانون کے تحت ہر حکم پر چلنے کے پابند ہیں۔شاید شیخ ذوق نے بھی دھند میں لپٹے موسم کے مد نظر آہ بھری تھی:

بات مانیں گے،وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے

تمہیں یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

نہ تھا یہ رقیب تو آخر نام کس کا تھا

ایک جانب آئین و قانون کی پابندی کا برملا اعتراف و اقرار اور دوسری جانب یہ اعلان عام۔۔۔’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘۔اعلان عام تھا کہ کشمیر ،فلسطین اور میانمر میں مسلمانوں سے جو سلوک ہو رہا ،ریاست کے طور پر اخلاقی مدد جاری رہے گی۔جی ہاں!سننے والوں نے سنا اور ماننے والوں نے مانا۔لیکن کوئی بتلائے توکہ اخلاقی مدد کا فیصلہ ادارے کریں گے یاآئین کے تحت یہ منصب حکومت کا ہے؟

بت بھی رکھے ہیں نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں

دل مرا دل نہیں ،اللہ کا گھر لگتا ہے

کہنے والوں نے کہا کہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے 70سال ہیں ،پھر پیچھے ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔بالکل ٹھیک کہ ماضی کے ملبے پر ماتم کرنے والی قوم مستقبل کی کشادہ شاہراہ پر آیا نہیں کرتی۔سوچنے کا سوال تو یہ کہ جے آئی ٹی کے چنے ہوئے ہیروں نے تو مڑ مڑ کر بہت دور تک پیچھے ہی دیکھا۔حتیٰ کہ نواز شریف کی تین پشت تک کو کھنگال ڈالا۔آخراس پر کیا کہئے؟چلئے ایک دوسری بات کواسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

یہ بھی کہا گیا کہ عدم استحکام سے ملک کو فائدہ نہیں ہو سکتا،مل جل کر عدم استحکام کو دور کرنا چاہئے۔سوچنے والے سوچا کئے کہ لفظ ’’مل جل ‘‘کر آخر یہاں کیا معنی دیتا ہے؟ایک تیسری بات کہ فرمان امروز کے ذریعے ہم عوام کالانعام کو بتایا گیا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر رینجرز کواحتساب عدالت میں تعینات کیا گیا۔بات پھر وہی کہ آخر کس آئینی یا قانونی اتھارٹی کے تحت کس شخص نے تعینات کیا؟کاش لگے ہاتھ یہ بھی بتا دیا جاتا کہ کن وجوہات پر رینجرز نے خود ہی پارلیمنٹ کی سیکورٹی سے ہاتھ اٹھا لیا؟آخر اس پر کیا کہئے؟غالب نے تو کہا تھا:

اپنی رسوائی میں چلتی ہے کیا سعی

یار ہی ہنگامہ آرا چاہئے

راحت و مسرت کے گلاب کو ہم چاروں جانب ڈھونڈتے تو ہیں پر پاتے نہیں۔حالانکہ وہ ہمارے نہاں خانہ دل کے چمن زاروں میں کھلتے اور مرجھاتے رہتے ہیں۔محرومی سی محرومی ہے کہ ہمیں سارے جہاں کی خبر توہے مگر خود اپنی خبر نہیں۔کہیں تجھ کو نہ پایا اگرچہ ہم نے اک جہاں میں ڈھونڈا اورآخر کار دل ہی میں پڑا پایا۔ کہا جاتا ہے جنگل کے مور کو چمن وگلستاں کی جستجو نہیں ہوتی کہ اس کی بہار اس کی بغل میں خود موجود ہے ۔

یہ جہاں کہیں اپنے پر کھول دے گا ،ایک چمنستاں بو قلموں کا پٹ چوپٹ کھل جائے گا۔ازل سے زوال زدہ منہ زوروں کا طریق رہاکہ تخریب کے نشانات خارجی دنیا میں ڈھونڈا کئے۔حالانکہ اگر داخلی طور پر دیکھیں تو فریب کا پردہ ہٹے اور صاف دکھائی دے کہ سرا یا سراغ باہر نہیں اندر رہا۔

مزید : کالم


loading...