پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 1017مکعب رہ گئی ، آئی ایم ایف

پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 1017مکعب رہ گئی ، آئی ایم ایف

دبئی (آن لائن)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے کہا ہے کہ پاکستان میں دستیاب آبی وسائل کا 90 فیصد پانی زرعی شعبہ میں آبپاشی کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ آبپاشی کے روایتی اور پرانے طریقوں کے باعث اس میں سے 50 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رپورٹ پانی کی سالانہ دستیابی اور پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی کے مطابق پاکستان میں زیادہ پانی سے اگائی جانے والی فصلیں گنا، چاول اور کپاس کی کاشتکاری دیگر فصلوں کے مقابلہ میں زائد ہے رپورٹ کے مطابق 2009 میں پانی کی سالانہ فی کس دستیابی 1500 مکعب میٹر تھی جو رواں سال 2017 میں 1017 مکعب میٹر تک کم ہو چکی ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطی،شمالی افریقہ،افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے پی )خطے کیلئے سال 2017-18 کے دوران اقتصادی پیداوار کم رہنے کی توقع ہے ، یہ بات عالمی مالیاتی فنڈ کی عالمی اقتصادی آؤٹ لک میں کہی گئی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے طویل عرصے سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا مشرق وسطی میں اقتصادی پیداوار پر اثرمرتب ہورہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2016ء میں توقع سے بڑھ کر بہتر کارکردگی کے ساتھ مشرق وسطی،شمالی افریقہ،افغانستان اور پاکستان خطے میں معیشتیں رواں سال صرف 2.6فیصد کی پیدوار تک محدود رہیں گی۔جبکہ 2018کیلئے مشرق وسطی کیلئے علاقائی جی ڈی پی میں 3.3فیصد تک بہتری کی پیشن گوئی کی گئی ہے ۔رپورٹ میں تیل پیداکرنے والے ممالک کی جانب سے مالیاتی اصلاحات کا خیرمقدم کیا گیا ہے ۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2017 میں بھارتی معیشت کی شرح نمو 6.7 فیصد اور 2018 میں 7.4 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا جس میں آئی ایم ایف کے مطابق 0.5 اور0.3 فیصد کمی ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ 1700 مکعب میٹر فی کس سالانہ سے کم پانی کی دستیابی والے ممالک کو پانی کی قلت کے مسائل درپیش ہیں جبکہ ملک میں پانی کی فی کس سالانہ دستیابی ایک ہزار سترہ مکعب میٹر تک کم ہو چکی ہے جس کے پیش نظر آبی وسائل کے شعبہ کی ترقی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔۔#/s#

مزید : کامرس


loading...