پاکستان فرنیچر کونسل نے چین میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیئے

پاکستان فرنیچر کونسل نے چین میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیئے

لاہور ( کامرس رپورٹر) فرنیچر کی برآمدات کو بڑھانے اور مصنوعات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کیلئے پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) اور چین کی فرنیچر صنعت سے وابستہ سرمایہ کاروں نے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیئے۔ بدھ کو پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) کے سربراہ میاں کاشف اشفاق اور چینی کمپنی کے نمائندے مسٹر چو لی نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ ایم او یو سے چین اور پاکستان کے مابین فرنیچر کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ باہمی تعاون کو فروغ ملے گا اور مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے سے فرنیچر صنعت بہتری اور ترقی کے راستے پر گامزن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے فرنیچر صنعت سے وابستہ افراد کی استعداد کار بڑھانے کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فرنیچر صنعت مقامی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے تاکہ معیاری مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور برآمدات بڑھائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صنعت کا بین الاقوامی برانڈ سے اس طرح رابطہ نہیں ہے جس طرح ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اپنی مصنوعات کی کھپت میں اضافہ کیلئے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر چینی وفد نے پی ایف سی کا بہترین میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس دورہ سے مقامی مارکیٹ کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی برآمدات کو 35 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، اس سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین اس شعبہ میں تعاون سے باہمی تجارت بڑھے گی اور فرنیچر صنعت میں نئے رجحانات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے پی ایف سی کے چیف کو یقین دلایا کہ پاکستانی فرنیچر کی صنعت سے وابستہ افراد سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ اس موقع پر پی ایف سی کے سیکرٹری حمید محمود نے چینی وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مقامی فرنیچر کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مصنوعات کا مقابلہ کر سکے اور مسابقتی عمل میں شامل ہو سکے۔

مزید : کامرس


loading...