کپاس کی ملی بگ سے حفاظت۔۔۔آغا جہانزیب

کپاس کی ملی بگ سے حفاظت۔۔۔آغا جہانزیب

کپاس دنیا کی ایک اہم ترین ریشہ دار فصل ہے ۔ اس سے لباس اور کپڑے کی دوسری مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ان کے بنولے کا تیل بناسپتی گھی کی تیاری کے لیے بطور خام مال استعمال ہوتا ہے ۔ دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے ۔ پنجاب کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ مجموعی پیداوار کا تقریباََ 70فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔کپاس کی فصل پر حملہ آور ہونے والے کیڑوں میں ملی بگ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ ایک رس چوسنے والا کیڑا ہے۔ یہ دشمن کیڑا، پھیلاؤ ،بھاری حملہ اور شدت کی بدولت تشویشناک حد تک خطرناک ہے جو نہ صرف فصلوں بلکہ کئی طرح کی سبزیوں، پھلوں اور نمائشی پودوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ کیڑا سردیوں میں جڑی بوٹیوں جبکہ گرمیوں میں کپاس اور فصل میں موجود جڑی بوٹیوں پر اپنی زندگی کا دورانیہ پورا کرتا ہے۔ اس طرح یہ کیڑا سارا سال کھیت میں مختلف پودوں پر سرگرم عمل رہتا ہے۔ تاہم گرمیوں میں اس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کیڑے کے سخت حملہ کی صورت میں تمام فصل سفید اور سیاہ نظر آتی ہے جس میں سفیدی اس کے پاؤڈر کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ سیاہ پن اُس الّی کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ ملی بگ سے خارج ہونے والی مٹھاس پہ آتی ہے۔مادہ ملی بگ اِتنی سخت جان ہوتی ہے کہ یہ بغیر خوراک کھائے 37تا44دن زندہ رہ سکتی ہے۔نر اپنی پر دار حالت میں کچھ نہیں کھاتااور نہ ہی فصل کو نقصان پہنچاتاہے۔اِ س حالت میں نر صرف ملی بگ کی پیدائش بڑھانے کا کام کرتا ہے۔موسمِ گرما میں اِس کی پیدائش بہت زیادہ ہوتی ہے۔ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں۔ کیڑے کے جسم سے لیسدار مادہ خارج ہوتا رہتاہے جِس پر بعد میں سیاہ پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے۔ سورج کی روشنی پتوں تک اچھی طرح سے نہیں پہنچ سکتی۔پودے کا خوراک بنانے کا عمل بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔بڑھوتری رُک جاتی ہے اور ٹینڈے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔ٹینڈے دیر سے کھلتے ہیں اور پیداوار بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے جس سے سیاہ پھپھوندی کی وجہ سے روئی کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔یہ کیڑا کپاس کے علاوہ سبزیوں خاص طور پر بھنڈی توری ،بینگن ،ٹماٹر ،کدو،پھولدار پودوں اور بہت سی جڑی بوٹیوں سمیت 100سے زیادہ پودوں پر ریکارڈ کیاجا چکا ہے۔کپاس کی ملی بگ تیز ہوا ، پانی، حملہ شدہ نرسری کے پودوں اورجڑی بوٹیوں سمیت کھیتوں میں کا م کرنے والے مزدورں کے کپڑوں اور جسم کے سا تھ لگ کر بڑی تیزی سے پھیلتی ہے علاوہ ازیں حملہ شدہ پودوں پر موجود چیونٹیاں جو ملی بگ کے جسم سے نکلنے والے لیس دار میٹھے مادہ پر آتی ہیں ملی بگ کو بڑی تیزی سے پھیلانے کا با عث بنتی ہیں۔اس کیڑے کے تدارک کے لیے کھیتوں،کھالوں اور وٹوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں۔کپاس کی فصل کا شروع ہی سے محدب عدسے سے بغور معائنہ کرتے رہیں کیونکہ اِس کے بچے بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔پھلدار اور آرائشی پودوں کی وقت پر تراش خراش کریں اور ملی بگ سے متا ثرہ شاخوں کو زمین میں دبا دیں۔ملی بگ سے متاثرہ جڑی بوٹیوں پر سپرے کریں اور اکٹھا کر کے زمین میں دبا دیں۔کھیتوں میں کام کرنے والے افراد متاثرہ حصوں سے دوسرے کھیتوں میں بار بار آنے جانے سے پر ہیز کریں۔سپرے کرنا ضروری ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملے سے مشورہ کے بعد زہر استعمال کریں۔سپرے کرتے وقت کچھ باتیں ذہن نشین رکھنی چاہیے مثلاََ ایک ہی زہر کو بار بار سپرے نہ کریں۔حملہ کے شروع میں کنٹرول زیادہ موثر ہوتا ہے۔شروع میں حملہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ایسی صورت میں سپرے متاثرہ پودوں کے علاوہ اِس کے ارد گرد کے پودوں پر بھی ضرور کریں ۔تمام کھیت میں سپرے کرنے کی ضرورت نہیں۔بوم سے سپرے زیادہ موئثر نہیں ہو تا۔ہا تھ یا پاور سے چلنے والے نیپ سیک سپرئیر ز استعمال کریں۔

***

مزید : کامرس


loading...