’’جدید شاہراہ ریشم ، سی پیک کے معاشی فوائد ‘‘ سے متعلق مشترکہ رپورٹ جاری

’’جدید شاہراہ ریشم ، سی پیک کے معاشی فوائد ‘‘ سے متعلق مشترکہ رپورٹ جاری

اسلام آباد (آن لائن)اایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) اور پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) نے پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے متعلق پہلی مشترکہ رپورٹ ’’جدید شاہراہ ریشم ۔ سی پیک کے معاشی فوائد‘‘ کا اجراء کر دیا۔ گزشتہ تقریباً تین سالوں سے کاروباری برادری اور مالیاتی ماہرین چین پاکستان اقتصادی راہداری کے معاشی فوائد کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، پاکستانیوں کے لئے سی پیک اسی طرح معروف بن چکا ہے جیسے این او سی، سی این آئی سی اور جے آئی ٹی ہیں۔ اے سی سی اے کیلئے پالیسی کے ریجنل ہیڈ عارف مسعود مرزا نے کہا کہ ہم سب سی پیک کے مختلف منصوبوں جیسے کہ گوادر بندرگاہ، قراقرم ہائی وے کی توسیع، نئے موٹر ویز، ریلویز جس میں بلٹ ٹرینز بھی شامل ہو سکتی ہیں، اقتصادی زونز اور بجلی کے منصوبوں سے آگاہ ہیں لیکن کیا کاروباری برادری نے اپنی حکمت عملیوں پر سی پیک کے اثرات کے بارے میں سوچنا شروع کیا ہے؟ اس کے طویل المدتی فوائد کیا ہوں گے؟ کاروبار نئے مواقع اور چیلنجز کے لئے کس طرح تیار ہو سکتے ہیں؟ مستقبل میں فائدے کے لئے کہاں سرمایہ کاری یا وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا خطرات ہیں اور انہیں کیسے تلاش کیا جائے؟ ممکنہ صورتحال کیا ہوگی۔

، شمال یا جنوب اچھی یا بری؟ اس کے لئے واضح طور پر ایک گہری فکر یا سوچ کی ضرورت ہے۔ یہ رپورٹ ملک کے صف اول کے تھنک ٹینک، پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ (پی سی آئی) کا مشترکہ اقدام ہے۔ پی سی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید کے مطابق یہ رپورٹ لوگوں میں سرمایہ کاری کو ظاہر کرتی ہے مثال کے طور پر مندارین سیکھنا، چین کے کاروباری کلچر کو سمجھنا اور نیٹ ورکنگ بڑھانا، عوامی رابطے جو سی پیک کے ستونوں میں سے ایک ہیں، کو نجی و سرکاری شعبوں کے طویل المدتی مشن میں شامل ہونا چاہئے۔ پاکستان کی افرادی قوت، پروفیشنل، ہنرمند، نیم ہنرمند اور غیر ہنرمند کو چینی افرادی قوت کے برابر یا اس سے بہتر ہونا چاہئے تاکہ سی پیک کے طویل المدتی فوائد سے استفادہ کیا جا سکے۔ اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم نے کہا کہ ہم پروفیشنل نیٹ ورکس میں بہت شروع میں سی پیک پر گفتگو دیکھ اور سن سکتے تھے۔ بہت سی باتیں تھیں جو کہ کاروبار کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی تھیں۔ جن اعداد و شمار پر بات ہو رہی تھی وہ پاکستانی معیار کے مطابق تاریخی 46 بلین ڈالر تھے جو بعد میں 62 بلین ڈالر ہو گئے۔ اے سی سی اے پاکستان کی رپورٹ میں 500 فنانس پروفیشنلز اور کاروباری شراکت داروں کے سروے کے نتائج کے ساتھ ساتھ بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کی 5 ایس ڈبلیو او ٹی ورکشاپس کے نتائج شامل ہیں۔ ایس ڈبلیو او ٹیز نے ایک مشترکہ رجحان ظاہر کیا جیسا کہ نالج گیپ، مواقع بشمول علاقائی تجارت اور کامرس، نئے شہر، روزگار کے نئے مواقع، ملک کے تعلیمی اداروں کے استحکام، زراعت اور سیاحت کی ترقی، ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے چیلنجز ہیں۔ رپورٹ کے مصنف ملک مرزا، ایف سی سی اے جنہوں نے تحقیق اور مختلف شراکت داروں کے انٹرویو کے لئے کئی مہینے کام کیا نے کہا کہ ایس ڈبلیو او ٹیز لوگوں کو تذویراتی انداز میں سوچنے اور یہ یقین کرنے کہ ہم صرف نیلا آسمان نہیں دیکھتے، کا بہترین راستہ فراہم کرتی ہیں۔ اے سی سی اے 100 ڈرائیورز برائے تبدیلی نے پروفیشنلز کے لئے ایک اچھا نقطہ نظر فراہم کیا ہے کہ مستقبل کے لئے تیار ہونے کے لئے کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی اور یہ اس رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں۔ تقریباً 70 فیصد نے رضامندی یا بھرپور رضامندی ظاہر کی کہ نئی مہارتیں مستقبل میں درکار ہوں گی اور 74.4 فیصد نے اس بات پر رضامندی یا بھرپور رضامندی ظاہر کی کہ چین اور پاکستان کے کاروباری انداز میں واضح فرق ہے۔ حیران کن طور پر 80 فیصد سے زیادہ نے رضامندی یا بھرپور رضامندی ظاہر کی کہ چینی زبان میں سرمایہ کاری مطلوب تھی لیکن درحقیقت یہ سرمایہ کاری نظر نہیں آ رہی۔۔#/s#

مزید : کامرس


loading...