کشمیر و فلسطین کے مسائل حل کرنے میں اقوام متحدہ کی ناکامی

کشمیر و فلسطین کے مسائل حل کرنے میں اقوام متحدہ کی ناکامی

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی مستقل ناکامی ہے، بھارت جعلی انتخابات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں بن سکتا کشمیری اپنے سیاسی مستقبل کے لئے اقوامِ متحدہ کی زیرنگرانی استصواب کے منتظر ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں پُرامن مظاہرین پرپیلٹ گنوں کا استعمال کررہا ہے انسانی تاریخ میں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو نابینا کرنے کی مثال نہیں ملتی مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اقوام متحدہ کا ایجنڈا نامکمل رہے گا، انہوں نے اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین سنگین صورتِ حال اختیار کرچکا ہے، فلسطینیوں کو اُن کے حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے، ڈاکٹر لودھی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

کشمیر اور فلسطین کے مسائل دو ایسے معاملات ہیں جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر طویل ترین عرصے سے چلے آرہے ہیں لیکن اقوامِ متحدہ اب تک ان کا حل نہیں نکال سکی، یہ محض اتفاق تھا یا بڑی طاقتوں کی منصوبہ بندی کا حصہ کہ دونوں مسائل تقریباً ایک ہی وقت میں پیدا ہوئے، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی ناجائز ریاست تخلیق کرنے کے لئے فلسطینیوں کو اُن کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک اسرائیل توسیع پسندی کی پالیسی پر گامزن ہے اور فلسطینی علاقے سُکڑتے جارہے ہیں، امریکہ اور یورپی ملک کئی سال کی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ فلسطین کے مسئلے کا حل فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام میں ہے لیکن اسرائیل نے ابتداہی میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس کی راہ میں روڑے اٹکانے شروع کردئے، صدر کارٹر آج تک دور یاستی حل کو ہی مسئلہ فلسطین کا بہترین حل قرار دیتے ہیں، صدر اوباما کی ایڈمنسٹریشن بھی یہی رائے رکھتی تھی لیکن امریکہ کے اندر یہودی لابی نے اُن کی ایک نہ چلنے دی اور اب صدر ٹرمپ کے دور میں اوباما کی بعض عالمی اور اندرونی پالیسیوں کو ریورس کیا جارہا ہے۔

امریکہ نے فلسطین کا دو ریاستی حل تقریباً ترک کردیا ہے اورصدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے بغیر بھی اس مسئلے کے ’’منصفانہ‘‘ حل کے کئی آپشن ہیں، اُن کے نزدیک تو وہی حل منصفانہ کہلائے گا جو اسرائیل اور اسرائیلی لابی کو خوش آئے ویسے تو ہر امریکی صدر کسی نہ کسی طور پر اسرائیل نواز ہی رہا ہے، تاہم بعض صدور اس کے حلقہ دامِ خیال سے نکل کر بھی سوچتے رہے لیکن طویل عرصے کے بعد اسرائیل کو ٹرمپ کی شکل میں ایک ایسا صدر ملا ہے جو اسرائیل سے بھی بڑھ کر اسرائیل نواز ہے، صدر ٹرمپ اگر ہر دوسرے دن ایران کو کوئی نہ کوئی دھمکی دیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ اسرائیلی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور پانچ پورپی ملکوں کا نیو کلیئر معاہدہ ختم ہو جائے حالانکہ یورپی ملک نہ صرف اس معاہدے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اُن کا درست طور پر یہی خیال ہے کہ اس معاہدے سے ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا، اِسی طرح اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو فلسطین کی ریاست کے قیام کا منصوبہ ترک کرنے پر مجبور کردیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود اسرائیل فلسطینی علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے، اس کا خیال ہے کہ اگر کبھی عالمی دباؤ کی وجہ سے فلطینی ریاست کو مجبوراً قبول بھی کرنا پڑے تو اس کا حدود اربعہ ایک بلدیہ سے زیادہ نہ رہ جائے۔

طویل ترین عرصے سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود مسئلہ کشمیر بھی ہے، بھارت کے پہلے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے یہ وعدہ کیا تھا کہ کشمیری عوام کو اُن کا حقِ خودارادیت دیا جائیگا اس وقت کشمیری مجاہدین نے کشمیر میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی تھی اور بھارت کو خطرہ تھا کہ اگر ایک دو دن میں جنگ بندنہ ہوئی تو کشمیری مجاہدین سری نگر تک پہنچ جائیں گے، جب اقوامِ متحدہ کی مداخلت سے جنگ بند ہوگئی اور بھارت نے تازہ دم فوجی دستے ریاست میں پہنچا دئے تو نہرو اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے اور بعد میں آنے والے حکمران بھی اس روش پر چل نکلے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت سے منہ موڑ کر کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کہنا شروع کردیا حالانکہ اِس وقت بھی کشمیر کی جنگِ آزادی اپنے عروج پر ہے اور بھارت کی نصف سے زیادہ فوج جو کشمیر میں تعینات ہے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کے آگے ٹھہرنہیں پا رہی اور بہت سے فوجی افسر اپنی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے ابھی چند روز پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک سابق سربراہ نے برملا کہا ہے کہ بھارت کو نہ صرف پاکستان کے ساتھ بلکہ کشمیریوں کے ساتھ بھی مذاکرات کرنا ہوں گے اور اس کے سوا امن کا کوئی راستہ موجود نہیں۔

بھارت نے کشمیر میں ظلم و تشدد کا جو دور شروع کررکھا ہے اس کی وجہ سے کشمیریوں کے دل میں بھارت اور بھارتی حکمرانوں کے خلاف نفرت کے الاؤ روشن ہوچکے ہیں اور بہت سے سیاسی رہنماؤں کا بھی یہی حال ہے کہ اگر بھارت نے مذاکرات میں تاخیر کی اور اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکالا تو کشمیر ہاتھ سے نکل جائیگا لیکن بھارت نہ تو اقوامِ متحدہ کی ثالثی کو ماننے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک کی ایسی کوششوں کو قبول کرنے پر آمادہ ہے زبانی کلامی دونوں کے باہمی مذاکرات کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ سلسلہ بھی طویل عرصے سے معطل چلا آرہا ہے، ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا کہ کشمیر میں جتنے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی بینائی پیلٹ گنوں کے ذریعے چھینی گئی ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اِن حالات میں اقوامِ متحدہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیر و فلسطین کے مسائل حل کرنے کے لئے نئے سرے سے کوششوں کا آغاز کرے نیم دلانا اور روایتی کوششوں سے تو یہ مسائل اب تک حل نہیں ہوئے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ تر ہوتے چلے آرہے ہیں، کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھی بھارت جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور بھارتی قیادت اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان کے خلاف جارحیت کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں، اگر اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو کشمیر کی کنٹرول لائن پر سلگتی ہوئی چنگاری کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے، پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور اپنے دفاع کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے ان حالات میں امن عالم کے لئے بھارت کوکشمیریوں کا حق خود ارادیت پر مجبور کرنا عالمی ادارے اور عالمی برادری کا فرض ہے خطے اور عالمی امن کے لئے کشمیر و فلسطین کے مسائل کا منصفانہ حل ضروری ہے۔

مزید : اداریہ


loading...