خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات پر اقدامات

خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات پر اقدامات

سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ عدالتیں اگر خواتین اور بچیوں کا تحفظ نہ کر سکیں تو ہمیں یہاں نہیں بیٹھنا چاہئے۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دئیے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے قرار دیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قانون کی مختلف شقوں اور ان کے کئی پہلوؤں سے تشریح کرنا ہو گی۔ ایک کاروباری ادارے میں ملازم خاتون وفاقی محتسب کو شکایت کی کہ اس کے باس نے فون پر ایک فحش ویڈیو بھیجی اور جنسی طورپر ہراساں کیا گیا۔ وفاقی محتسب نے اس شکایات پر فحش ویڈیو بھجوانے والے کو جبری ریٹائر کرنے کا حکم سنایا۔ اس حکم کے خلاف صدر مملکت سے اپیل کی گئی تو وفاقی محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بحال کر دیا گیا۔ اس پر شکایت کرنے والی خاتون نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے صدر مملکت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے خلف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جسے جسٹس عظمت سعید نے سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ خواتین کو مردوں کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات کا سلسلہ پرانا ہے۔ موجودہ حکومت نے ہراساں کرنے پر سزا کا قانون منظور کیا، جس کے بعد متعلقہ اداروں میں شکایات پیش ہونے سے صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ خواتین دفاتر وغیرہ میں ملازمت کرتے ہوئے جس ماحول میں کام کرتی ہیں، وہ تقاضاکرتا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لئے جو قانون بنایا گیا ہے ، اس پر سختی سے عمل کیا جاتا رہے اور کسی بھی صورت میں مجرم ثابت ہونے والے مرد سے رعایت نہ کی جائے۔ تشویشناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دفاتر میں خواتین کو ان کے افسران ہی نہیں ساتھی ملازمین بھی جنسی طور پر ہراساں کرتے رہتے ہیں جبکہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ خواتین کو دفاتر سے باہر آمد و رفت کے دوران بھی ہراساں کیا جاتا ہے ۔ سب سے زیادہ شکایات یہ ہوتی ہیں کہ مردوں کی طرف سے فحش پیغام اور ویڈیوز بھیجی جاتی ہیں۔ انہیں ملازمت سے سبکدوش کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جبکہ خواتین کو تیزاب پھینکنے کی دھمکی بھی ملتی ہے۔ جب سے خواتین کو ہراساں کرنے پر سزا کا قانون بنایا گیا ہے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم کئی خواتین اپنی بد نامی کے خوف سے مردوں کے خلاف شکایات نہیں کرتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر ہی نہیں، رضا کار این جی اوز کے تعاون سے خواتین کو جرأت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنی شکایات متعلقہ اداروں کے پاس جمع کرانے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ مہم چلائی جائے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملات میں قانونی ایکشن لینے کے ذمے دار ادارے اور عدلیہ کی طرف سے تیزی سے فیصلے کئے جاتے ہیں اور خواتین کو تحفظ حاصل ہو رہاہے۔

مزید : اداریہ


loading...