انقلاب کے لئے سازگار حالات، مگر؟

انقلاب کے لئے سازگار حالات، مگر؟
 انقلاب کے لئے سازگار حالات، مگر؟

  


نہ چاہتے ہوئے بھی عام لوگوں کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینا ہی پڑتی ہے کہ زندگی میں ہزار دکھ اور سکھ کم ہیں، وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف مضطرب ہیں اور بار بار عوامی تکلیف اور مسائل کا ذکر کرکے انقلاب کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے اس فلسفے کا تعلق ترقیاتی کاموں سے ہے اور یہ تازہ ترین تشویش میٹرو اورنج ٹرین کی تعمیر میں تاخیر کے حوالے سے ظاہر کی گئی ہے ان کا فلسفہ ہے کہ عوامی بہبود کے ترقیاتی کام نہ ہونے سے عوام کی تکالیف دور نہ ہوں گی اور یوں انقلاب کی راہ ہموار ہوگی۔

ایک حد تک یہ مان لیا جائے تو پھر یقیناًانقلاب والا فلسفہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ سفر کی مشکلات تو اپنی جگہ حقیقت میں تو لوگ روزگار، صحت اور خوراک جیسے مسائل میں بُری طرح الجھے ہوئے ہیں اور ان کو ہر روز 440 وولٹ کے جھٹکے لگتے ہیں، ہمارے مہربان ملک کے تاجروں میں ایک بہت بڑا طبقہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا بن چکا ہے جو تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد خوراک سے ہی کھیلتا رہتا ہے اور اشیاء خوردنی کی ذخیرہ اندوزی کے ذریعے لوٹ مار کرتا ہے ابھی تو رمضان المبارک اور عیدالاضحی والے زخم ہی ہرے تھے کہ ان حضرات نے ٹماٹر، پیاز اور ادرک جیسی ضروری سبزیوں سے کھیلنا شروع کر دیا اور پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ان اشیاء کے نرخ اتنے زیادہ بڑھے ہوں کہ عام آدمی سالن کے لئے ایک یا دو ٹماٹر اور پیاز خریدنے پر مجبور ہو کہ اس سے زیادہ اس کی استطاعت ہی نہیں ہے۔ انتظامیہ اور حکومت اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو گئی ہے اور شہری ہر روز لوٹے جا رہے ہیں اور کچھ تجوریاں بھرتی چلی جا رہی ہیں،دالوں کی قیمتوں میں بے حد اضافہ قبول ہوچکا ۔

لکھنا تو حالیہ سیاسی صورت حال ہی کے بارے میں تھا کہ ایک نیا بحران پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے اور وہ بھی حزب اقتدار کے مہربانوں نے کی ہے۔ سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر مجاہد بن گئے ہیں، اس پر بعد میں بات کرتے ہیں، پہلے ٹماٹر پیاز والا دکھ بیان کرلیں۔

دو روز سے صاحبزادی کا اصرار تھاکہ گھر میں پیاز، ٹماٹر، آلو وغیرہ ختم ہیں مہمان آنے والے ہیں ان کو رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا ہے لہٰذا منڈی جانے کی بجائے ضروری سبزیاں مقامی پرچون فروش سے لا دی جائیں، گزشتہ روز بیٹی نے پرچی لکھ کر تھما دی، ہم مقامی سبزی فروش کی دکان پر گئے اور معمول کے مطابق پرچی پڑھ کر کہا’’ایک کلو پیاز، ایک کلو ٹماٹر، ایک پاؤ مٹر، آدھ کلو گاجر، آدھ کلو مرچ شملہ اور ایک کلو آلو دے دو، سودا تُل گیا تو دکان دار نے کیلکولیٹر لے کر پیسے جمع کئے اور 540 روپے مانگ لئے۔ ایک زبردست جھٹکا لگا کہ یہ توقع نہیں تھی، مجبوراً حساب مانگا تو وہ بولا۔ پیاز ایک سو روپے، ٹماٹر دو سو روپے، مٹر ساٹھ روپے، گاجر پچاس روپے، شملہ مرچ پچاس روپے اور آلو ساٹھ روپے کے ہیں ،یوں ہم نے جمع کئے تو بنے 520 روپے، پوچھا تم تو چالیس کہہ رہے تھے، بولا، رعائت کی ہے چنانچہ ہم یہ سودا پانچ سو روپے سے خرید کر گھر دے آئے۔

اس صورت حال نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ یہ سودے ہم خود ہی خرید کر لاتے ہیں، کئی بار پیاز اور ٹماٹر مہنگے ہوئے لیکن ان کے نرخ پچاس ساٹھ روپے فی کلو سے آگے نہیں بڑھے جبکہ مٹر ابتدائی سیزن میں 140سے 160روپے فی کلو تک ملتے تھے۔ یہ اس بار دو سو چالیس روپے کلو کے حساب سے بک رہے ہیں۔ اسی تناسب سے دوسری سبزیوں کے نرخ بھی بڑھے، ادرک بھی دو سو روپے فی کلو سے زیادہ پر بک رہا ہے جو 150سے 160 روپے تک بکتا تھا، ان سبزیوں کے نرخوں میں یہ اضافہ کسی بھی تناسب کے بغیر ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پیاز اور آلو کی تو کسی وقت کمی یا قلت نہیں ہوئی جبکہ ٹماٹر چند روز تک دستیاب نہ ہوئے اور اب وافر مقدار میں موجود ہیں، یہ انتہائی تکلیف وہ امر ہے اور دکھ یہ ہے کہ ان اشیاء کی مہنگائی نے بہت سے دوسرے امور آنکھ سے اوجھل کر دیئے ہیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

عوام اور انتظامیہ کی ساری توجہ ٹماٹر، پیاز کی طرف ہے اور شوگر مل والوں نے خاموشی سے باریک کام کیا، چینی کے پرچون نرخ 52روپے فی کلو سے بڑھ کر 60اور 62روپے فی کلو پر پہنچ گئے ہیں۔ بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں پر چینی 58روپے فی کلو تک مل جاتی ہے۔ بازار میں پرچون میں 60سے 62روپے فی کلو ہے۔ یوں یہ ایک نئی پریشانی ہے کہ مل مالکان نے چینی کا سٹاک روک کر نرخ برھائے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک کی شوگر ملیں بھی سیاست دان حضرات کی ملکیت ہیں ان میں سابق صدر آصف علی زرداری اور موجودہ حکمران شریف خاندان بھی شامل ہیں، عمران خان نے تو آصف علی زرداری کی 19شوگر ملوں کی نشاندہی کی ہے۔ صارفین اب خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ذخیرہ اندوزی اور مال روک کر نرخ بڑھانے سے یہ منافع خور حضرات چند دنوں میں کتنا منافع بٹور لیتے ہیں او ریہ سب عام لوگوں کی جیبوں سے جاتا ہے جو دوسری اشیاء بھی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں کہ ٹوتھ پیسٹ اور شیونگ ریزر تک ٹیکس کی زد میں آ گئے اور مقامی طور پر تیار ہونے والے بھی مہنگے کر دیئے گئے ہیں اسی طرح حال ہی میں ایف بی آر کی طرف سے جن اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا وہ تو مہنگی ہونا ہی تھیں لیکن ٹیکسوں میں اضافے کا سہارا لے کر مقامی صنعت کاروں نے بھی نرخ بڑھا دیئے، اس سلسلے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا موقف ہے کہ ان کے خام مال پر بھی ٹیکس بڑھ گیا ہے تو حضور انقلاب کی فضا تو بن رہی ہے لیکن شاید ہمارے ملک میں ایسا نہ ہو سکے کہ یہاں عوام بے حس کر دیئے گئے ہیں اور ان کی حالت ان عوام جیسی ہے جنہوں نے بادشاہ سلامت کے سامنے احتجاج کی بجائے عرض کیا تھا: ’’بادشاہ سلامت! اور تو کوئی تکلیف نہیں، براہ کرم! جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دیں کہ یوں وقت بہت خرچ ہوتا ہے۔

گزارش کرنا تھی کہ برسراقتدار جماعت کے لئے تو تنازعات خطرناک ہوتے ہیں لیکن یہاں تو نازک اور حساس امور بھی خود حزب اقتدار کی طرف سے اچھالے جا رہے ہیں، اللہ اللہ کرکے کاغذات نامزدگی کے حلف نامے والا مسئلہ حل ہوا کہ کیپٹن صفدر نے قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم پر بہت بڑی بات اور بہت ہی نازک الزام لگا دیا اس کا تعلق براہ راست ہماری دفاعی صلاحیتوں سے ہے، کیا وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ یہ کیوں؟

مزید : کالم


loading...