جماعت اسلامی کا ا صل بیانیہ ہے کیا؟

جماعت اسلامی کا ا صل بیانیہ ہے کیا؟
جماعت اسلامی کا ا صل بیانیہ ہے کیا؟

  


الیکشن 2018ء میں ہوں یا اس کے بعد حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو ایک نئے اور مضبوط بیانیے کی فوری ضرورت ہے ۔

موجودہ بیانئے کے ساتھ جس قدر بھی محتاط الفاظ استعمال کئے جاءٗیں انتخابی نتائج پر کوئی قابل ذکر ڈنٹ پڑنے کا دور دور تک امکان نظر نہیں آتا ۔یہ بات بظاہر کہنا آسان ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ فیلڈ میں موجود کارکن کے پاس ووٹر کو جا کر بتانے ،سمجھانے اورمنوانے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں،اس لئے اس کا یقین ایک حسرت اورمایوسی کے بڑھتے ہوئے گراف کی صورت نظر آتا ہے۔

غور کرنے کی بات تو یہ ہے گزشتہ چار پانچ برسوں میں ووٹر بڑھنے کی بجائے مزید سکڑ کیوں گیا ہے۔ جماعت کی موجودہ سیاسی سوچ اور بیانئے سے کیا پرانا ووٹر واپس آسکے گا ۔جماعت سیاسی میچوریٹی کی اس سطح پر ہے کہ اب اسے بند کمرے کے اجلاس سے باہر ہی اس مسلے کو زیر بحث لانا ہوگا کیونکہ اس کی ہار پر سارے تبصرے اور تجزئے بھی کھلے بندوں ہوتے ہیں ،سیاسی حرکیات کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

ایک بڑا خدشہ جو چیلنج بن کر سامنے ہے سیاسی میدان کا ر میں کارکن اور ووٹر کی سوچ اور یقین کا ڈگمگانا اور پھر راستہ نہ پا کر بدل جانا ہے ،ابھی اگر محتاط الفاظ میں کہا جائے تو بھی یہ سات پردوں کے پیچھے لکھا نظر آنا چاہئے کہ فوری طور پر جماعت کا بیانیہ نہ بدلا تو آپ آنے والے برسوں میں سیاسی تجزیوں سے بھی باہر ہو جائیں گے ۔سوئے اتفاق سے پیپلز پارٹی بھی اسی سے ملتے جلتے کرائسس سے دوچار ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے کومٹڈ ووٹر اور امیدوار اپنی پسندیدہ کشتی سے چھلانگیں لگا کر دن دہاڑے پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں ۔وہ بھی موجودہ پالیسیوں کے ساتھ کسی سیاسی کامیابی کی مستقبل قریب میں آہٹ کو بھی سننے سے قاصر ہے

۔پیپلز پارٹی میں یہ مایوسی پنجاب کی حد تک کبھی اس قدر شدید نہ تھی کہ اسے الیکشن میں کھڑا کرنے کوامیدوار بھی نہ ملے اور جس کو میدان میں اتارا جائے اسے پارٹی فنڈ کرے۔یہ میدان ہمیشہ پی پی پی اور اینٹی پی پی پی کے درمیان سجتا تھا،اتحاد بھی اسی کے خلاف بنتے تھے ،اب وقت یہ ہے کہ وہ میدان سے ہی باہر ہو گئی ہے اور نیا میدان نوز شریف او راینٹی نواز شریف کے نام سے سجا ہوا ہے ۔

عدالتی نائن الیون کے بعد یہ اور بھی واضح ہو گیا ہے ،ایسے میں جماعت کہاں اور کس فریق کے ساتھ کھڑی ہے اس کا واضح ہونا ابھی باقی ہے ۔جماعتی قیادت میں دو واضح آرا ہیں اور نیچے تک یہی کیفیت ہے ،یہی بات جماعت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔پالیسی حمائت کی ہو یا مخالفت کی یہ طے کرناجماعت کا ہی حق ہے مگر اس کا واضح ہونا ضروری ہے ۔

جماعت کو ایک سمجھ نہ آنے والی کیفیت سے باہر نکلنا ہے کہ اس کی بات پہنچ رہی ہے،حقیقت یہ ہے کہ بات کمیونیکیٹ ہی نہیں ہو پا رہی ،میڈیا پر ٹکر چلنے یاچند سیکنڈ کے کلپ چلنے سے جماعت کی سیاسی پالیسی کے خدوخال واضح نہیں ہو پاتے ،کوئی ایک میگزین ،کوئی ایک کالم بھی ایسا نہیں جو آپ کی پالیسی کی تفہیم کرتا اور بتاتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ کارکن قیادت کی بات کو فالو کرنے اوراسے اپنے یقین کے لفظ دینے میں کامیاب نہیں ہو پارہا،وہ ووٹر کے سوالوں سے گھبراتا ہے اور اس تک جانے سے احتراز کرنے لگا ہے۔

ایسے میں جماعت کی مختلف سطحوں میں بعض جماعتی قائدین کی گفتگووں کی وجہ سے ایک نئی سوچ پیدا ہوتی نظر آرہی ہے کہ ووٹ تو مرکزی قیادت بناتی ہے کارکن نہیں ،حضور یہ اخباری اور ٹی وی سکرین کی حد تک موجودگی کے لئے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ ماحول اور ٹمپو بنادیتے ہیں ،ووٹ تو امیدوار نے ہی نکالنا اور بنانا ہوتا ہے ،اگر ایسا نہ ہوتا تو انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی قدر کب ہونی تھی ،ایسے میں تو عمران خان جہاں جہاں قدم رکھتا اس کی پارٹی کو وہاں وہاں سے جیت جانا چاہئے تھا،عملاََبلاول اور زرداری صاحب کی مثالیں بھی چاروں طرف بکھری پڑی ہیں۔

قیادت اور سرمائے کا کردار ایک حد تک ہی ہے ۔گزشتہ ایک سال سے جاری پانامہ کیس میں جماعت کا مدعا اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور چلا گیا ہے اب یہ نکتہ آپ کا نہیں رہا ،تقریر کی لذت کی حد تک مگر عملاََ بالکل نہیں۔

این اے ایک سو بیس میں بھی یہی سبق لینا چاہئے اپنے ووٹر نے بھی اس کو قبول نہیں کیا ۔جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی دونوں کے بارے میں عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کی پالیسی واضح نہیں ہے ،پی پی کو پرو گورنمنٹ مانا جاتا رہاہے اور جماعت کو موجودہ حکومت کے خلاف سخت بیان دیتے رہنے کے باوجود یہ خیال کیا جاتا ہے اس کی قیادت الیکش ن لیگ کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ سے لڑے گی ،آپ سو با رتردید کریں ،سیاسی موسم کی خبر رکھنے والے عوام اور خواص اپنے مضبوط دلائل رکھتے ہیں،آپ کی پوزیشن کیا ہے یہ کل نہیں آج واضح کرنا لازم ہوگیا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت کے ماضی میں سارے اتحاد مسلم لیگ کے ساتھ ہوتے رہے ہیں اور دونوں کو ہی اس کا فائدہ بھی رہا ہے ،سیاست ون وے ہوتی ہی نہیں ہے ، جماعت کو اپنے کوٹے کی کچھ نشستیں مل جاتی رہیں اور ن لیگ کو ملک بھر میں جماعتی پاکٹس کے ووٹ۔اس دوران جب ن اور جماعت کی راہیں الگ ہوئیں تو آپ کو یاد ہوگا کہ جماعت اپنے اسلامک فرنٹ کے نام اور لوگو کے ساتھ میدان میں آئی ، مسلسل لیگی حمائت کی روائت نے جماعتی کارکن کو پریشان کیا ہوا تھا ،اب وہ چھوٹی برائی اور بڑی برائی سے نکل کر سیاسی کامیابی کو بڑے کینوس پر دیکھنے کی صلاحیت پا چکا ہے اور اصل فریق کو ہی اپنا فطری حلیف مانتا اور جانتا ہے ۔

ووٹ مسلم لیگ کو پڑے اور اسلامک فرنٹ شکست کھا گیا مگر یہ شکست مسلم لیگ کو بھی بھاری پڑی ،پروفیسر عبدالغفور احمد بتایا کرتے تھے بعد میں انہوں نے اپنی کتاب میں بھی اس کا تذکرہ کیا کہ 1993ء کے اس الیکشن میں فرنٹ کی وجہ سے صرف پنجاب میں پی پی کو دس نشستیں جیتے کا موقع ملاورنہ مسلم لیگ73 سے 83 نشستیں لے جاتی ،صوبہ سرحد میں ایسی پانچ نشستیں تھیں جو پی پی کو ملیں ۔

اس سے بعد کے الیکشن میں جماعتی ووٹر نے اپنے ووٹ سے لیگی امیدوار کو ہروانے سے انکار کردیا اور ووٹ اسی صندوقڑی میں ڈالے جو اس کو پسند کروایا گیا تھا اور جس کی وہ جماعتی پالیسی سے حمائت کرتا آیا تھا ۔اب اس نے ووٹ دینے کا خود فیصلہ لینا شروع کیا اور 2013ء کے الیکشن میں اس خود مختاری کا عروج سامنے آیا ۔

نئی نسل نے چونکہ جماعت کو گزشتہ آٹھ د س برسوں سے مسلم لیگ پر برستے دیکھا تھا اس لئے ان کا ووٹ بلے کو پڑا ۔این اے ایک سو بیس میں بھی یہی کچھ ہوا۔جماعتی کارکن جو پچاس سے زیادہ عمر کے ہیں ان کی توجہ شیر پر ہے اور اس سے کم عمروں کی محبت کا مرکز بلا بنا ہوا ہے ،وہ اپنے ووٹ سے اپنی مرضی سے کسی کو ہارنے میں مدد دینے پر اب تیار نہیں۔اس معاملے میں انہیں اپنی ذاتی سیاسی سوچ پر اب زیادہ یقین ہو چلاہے اور یہ قریباَہر جماعتی گھر میں ہوا ہے اور خالی ڈبوں نے اس کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے ۔

بلدیاتی الیکش میں شیر اور بلے کے ساتھ اتحاد اور شراکت پر کارکنوں کے شدید ردعمل کی وجہ بھی یہی سوچ رہی ہے اور یہ ردعمل ابھی جاری ہے ،جماعت میں اب تحریک انصاف سے اتحاد کی آوازیں بھی اٹھنا شروع ہو رہی ہیں ان کے پاس نواز شریف کی مخالفت کے لئے دلائل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہوا تو جماعت کے باقی ماندہ نوجوان ووٹ بھی ہاتھ سے مستقل نکل جائیں گے ۔

اب رہا تیسرا مخمصہ جس سے جماعت کو نکلنے کا سوچنا ہے اور اپنے بیانئے میں جگہ دینی ہے وہ یہ کہ جماعت اصلاََ ایک سیاسی جماعت ہے اور اسی کا سٹیٹس مانگتی اور اسی کے حصول کے لئے کوشاں بھی ہے ۔

یہ جو ہر کچھ دن بعد دینی جماعتوں کے اتحاد کا شوشہ اٹھتا ہے تونئے سوال اٹھاتا ہے، ماضی میں دینی جماعتوں کے ہر اتحاد کو ،اس کی بنت اور اس کے مقاصد پر شک سے بھرے سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں ،انہیں ایسٹیبلشمنٹ کا ہی ٹول سمجھا جاتا رہا ہے ،اس کی مستقل وجوہات ہیں ، دفاع پاکستان کونسل سونے کی بھی بن کر آجائے یہ اسٹیبلشمنٹ کی دی گئی لائن ہی سمجھی جاتی ہے ۔جماعت جب اس کھیل کا حصہ نہیں ہے تو اس کے قائدین کیوں اس کے سٹیج پر بار بار جا کر بیٹھتے ہیں ،کیا کبھی ملی یک جہتی قسم کی سرگرمیوں میں مسلم لیگ ،پی ٹی آئی ،پیپلز پارٹی ،اے این پی ،یا ایم کیو ایم جیسی قومی پارٹیوں کو دیکھا گیا ہے حالانکہ پاکستان تو سب کا ہے مگر یہ لائن سب نہیں لیتے ۔کارکن کبھی آس میں ہوتا ہے کہ ایم ایم اے بحال ہو جائے گی کبھی نہیں ہوگی۔

آپ اس کی بحالی پر یکسو ہیں اور نہ اس باب کو مستقل بند کرنے پر ،اصل بیانیہ کیا ہے اس کا واضح ہونا آج ضروری ہے کل اس کی حاجت ہی باقی نہیں رہے گی ۔دینی اتحاد کا صرف کے پی کے کی سیاست میں کچھ جمع خرچ ہوگا ،پنجاب میں تو سب زیرو جمع زیرو ہیں ،چار سو کے صوبائی ایوان میں کسی کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے اور نہ اس کا امکان ہے تو کارکن کس کے لئے ووٹ مانگے گا اور کیوں ایک اور ہار کے لئے لڑے گا ۔چار چھ کمزوروں کے ساتھ مل کر لڑنے اور ہارنے میں بھلا کیا مزہ ہو گا ۔اس تصوراتی جنت سے نکلنے کا وقت کیا سر پر نہیں آن لگا؟نیا اور واضح بیانیہ کس کے ساتھ ہیں اور کیوں؟اکیلے لڑنا ہے تو سو فیصد یقین دلایئے اس فیٖصلے کے فضائل بتایئے،نئی سیاسی ٹیم لایئے،تنظیمی لوگوں سے آج تک سیاست نہیں ہو سکی اس اگر مگر نے سارے پتے ہی بے وقعت کر کے رکھ دئے ہیں اور برا نہ لگے تو آپ کی بارگینگ پوزیشن بھی کافی بگاڑ کر رکھ دی ہے ۔

مزید : کالم


loading...