اپنی غلطیوں کے اعتراف میں ایک کالم

اپنی غلطیوں کے اعتراف میں ایک کالم
 اپنی غلطیوں کے اعتراف میں ایک کالم

  


غالب نے کہا تھا کہ

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

ہم نے پھر بھی ایسے اشعار کے انتخاب کا فیصلہ کیا جوزبان زدِ خاص و عام ہیں، جہاں جہاں بھی اشعار میں حسن و جمال اور کمالِ فن نظر آیا۔ وہ اشعار میں نے 1996ء میں ’’اشعار کا دفتر کھلا‘‘ کے نام سے ایک انتخاب کی صورت میں شائع کردیا۔اشعار کے متن یعنی اصل عبارت کا مقدور بھر خیال رکھا گیا۔

یہ بھی کوشش کی گئی کہ کوئی شعر غلطی سے کسی دوسرے شاعر سے منسوب نہ ہو جائے۔ مثلاً درج ذیل مشہور زمانہ شعر سید صادق حسین ایڈووکیٹ کا ہے:

تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

لیکن عوام الناس کا ذکر ہی کیا بڑے بڑے ادیب، شاعر اور صحافی بھی اس شعر کو غلطی سے علامہ اقبالؒ ہی کا سمجھتے ہیں اور بار بار تصحیح کرنے کے باوجود سید صادق حسین کا یہ اکلوتا مشہور شعر علامہ اقبالؒ کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے، میں نے اپنی کتاب میں امکان بھر ایسی اغلاط سے بچنے کی کوشش کی، لیکن تمام تر احتیاط برتنے کے باوجود غلطیاں سرزد ہوئیں، جن کا میں آج اپنے اس کالم میں اعتراف کررہا ہوں۔

ریاض خیر آبادی کا ایک شعری مجموعہ میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے، اس کا نام ’’ریاض رضوان‘‘ ہے اور یہ شعر ان کی ایک غزل میں شامل ہے:

صدسالہ دور چرخ تھاساغر کا ایک دور

نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بدل گئی

لہٰذا میں نے بھی یہ شعر ریاض خیر آبادی کا ہی سمجھ کر اپنے انتخاب میں شامل کیا، لیکن مولانا حسرت موہانی کے ایک تحقیقی مضمون کے مطابق یہ شعر گستاخ رام پوری کا ہے۔ نقوش کا غزل نمبر جو 1960ء میں شائع ہوا تھا، اس کے مطابق بھی یہ شعر گستاخ رام پوری کا ہے، اس لئے مجھے مولانا حسرت موہانی کی تحقیق سے اتفاق کرنا ہی پڑے گا۔

مومن کا ایک شعر کس نے نہیں سنا ہوگا اور شاید ہی ادبی ذوق رکھنے والا کوئی شخص ایسا ہو، جسے یہ شعر پسند نہ آیا ہو:

اُس غیرتِ ناہید کی ہرتان ہے دیپک

شعلہ ساچمک جائے ہے آواز تو دیکھو

میں نے ایک نہیں کئی مقامات پر چمک کے بجائے لپک کا لفظ پڑھا اور بہت ساروں سے سنا بھی ایسے ہے۔ مصرعِ ثانی مشہور بھی اسی طرح ہے کہ:

شعلہ سا لپک جائے ہے،آواز تو دیکھو

میرے انتخاب میں یہ مصرع اسی شکل میں شائع ہوا ہے۔کاش مجلس ترقئ ادب کا شائع کیا ہوا کلیاتِ مومن میں پہلے پڑھ چکا ہوتا، تو مجھ سے یہ غلطی سرزد نہ ہوتی، کیونکہ مومن کا صحیح مصرع یہ ہے:

شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو

میرے انتخاب ’’اشعار کا دفتر کھلا‘‘ کے صفحہ 260پر انشاء اللہ خاں اِنشاء کے حوالے سے یہ شعر درج ہے:

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عید قرباں

وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا

نول کشور کے مطبوعہ کلیاتِ اِنشاء میں بھی یہ شعر اسی طرح شامل ہے، لیکن کلیاتِ انشاء کے کسی مخطوطہ میں یہ شعر موجود نہیں ہے، اس کے برعکس کلیات مصحفی میں یہ شعر موجود ہے، لیکن پہلا مصرع مختلف ہے۔

میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روز عیدِ قرباں اس حوالے سے میری تحقیق ابھی مکمل نہیں ہے اور میں حتمی فیصلہ نہیں کرسکا کہ یہ شعر انشاء کا ہے یا مصحفی کا۔

قدرت اللہ شوق کی کتاب ’’طبقات الشعراء‘‘ میں ایک بہت ہی مشہور شعر اس طرح سے لکھا گیا ہے:

شکست وفتح میاں اتفاق ہے لیکن

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

اس شعر کے خالق محمد یار خان امیر ہیں، ان کا تعلق رام پور کے نواب خاندان سے تھا اور وہ قائم چاند پوری کے شاگرد تھے۔ مجنوں گورکھ پوری جیسے محقق، نقاد اور شاعر نے یہ شعر میر تقی میر سے منسوب کردیا تھا اور بھی کئی کتابوں میں میں نے یہ شعر میر تقی میر کے حوالے سے پڑھا تھا، اس لئے میں نے بھی غلطی سے یہ شعر اپنی کتاب میں میر تقی میر کے حوالے سے شامل کردیا تھا، یہ شعر میر تقی میر کا ہرگز نہیں ہے، لیکن ان کے نام سے درج ذیل شکل میں مشہور ہے:

شکت وفتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

قدرت اللہ شوق اور محمد یار خان امیر کے استاد قائم چاند پوری کا یہ شعر تو آپ نے بھی سناہوگا:

قسمت تو دیکھ، ٹوٹی ہے جاکر کہاں کمند

کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

’’عیار الشعرا‘‘ اور تذکرہ’’ طور کلیم‘‘ میں قائم چاند پوری کے اس شعر کا مصرع ثانی یوں تحریر ہے:

دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

میں نے بھی اپنے انتخاب میں اسی پر انحصار کیا تھا، لیکن مجھے شبہ ہے کہ مجھ سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔ تحقیق میں کوئی دعویٰ بھی حتمی نہیں ہوتا، اس لئے میں نے مصرع ثانی میں متن کے اختلاف کو ظاہر کردیا ہے۔ سیماب اکبر آبادی کی کتاب ’’کلیم عجم‘‘ میرے پاس موجود ہے، ان کی ایک غزل میں مَیں نے درج ذیل شعر پڑھا بھی:

عمر دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں

لیکن دل نے قبول ہی نہ کیا، کیونکہ یہ شعر میں نے بڑے تو اتر کے ساتھ مختلف کتابوں میں بہادر شاہ ظفر کے حوالے ہی سے پڑھ رکھا تھا، آج سے 45سال پہلے شورش کا شمیری کی ایک تقریر سنی، انہوں نے بھی یہ شعر بہادر شاہ ظفر سے منسوب کیا تھا، جب مسلسل پڑھا اور سنا بھی۔ تو مَیں نے اپنے انتخاب میں یہ شعر بہادر شاہ ظفر ہی سے منسوب کردیا۔ اب بہت ساری تحقیق و جستجو کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا نہیں، بلکہ سیماب اکبر آبادی کا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اسی قافیہ و ردیف اور بحر میں بہادر شاہ ظفر کی بھی غزل ہے، جس کا مقطع ہے:

کتنا ہے بدنصیب ظفر، دفن کے لئے

دوگز زمین بھی نہ مِلی کوئے یار میں

معروف شاعرہ ادا جعفری نے ’’غزل نما‘‘ کے نام سے ایک کتاب ترتیب دی تھی، جس میں ناسخ کے شاگرد خواجہ وزیر لکھنوی کا ایک شعر درج ذیل صورت میں تحریر کیا گیا تھا:

کسی کو دیکھ کے ساقی جو بے حو اس ہوا

شراب سیخ پہ رکھ دی، کباب شیشے میں

مَیں نے بھی محترمہ ادا جعفری کی تحقیق پر انحصار کیا اور یہ شعر اسی صورت میں اپنے انتخاب میں شائع کردیا، لیکن جب میں نے خواجہ وزیر کے دیوان’’ دفتر فصاحت‘‘کا خود مطالعہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ متن درست نہیں۔ خواجہ وزیر کے دیوان میں یہ شعر یوں لکھا گیا ہے اور یہی شعر کا صحیح متن ہے:

کسی کے آتے ہی ساقی کے یہ حواس گئے

شراب سیخ پہ ڈالی، کباب شیشے میں

اپنی چند غلطیوں کے اعتراف کے بعد میں اپنے کالم نگار احباب سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جب بھی اپنے کالم میں کسی شعر کا حوالہ دیں تو شعر کے درست متن اور شاعر کے صحیح نام کے حوالے سے تھوڑی بہت تحقیق ضرور کرلیا کریں، کیونکہ ان کالموں کو ہزاروں نہیں لاکھوں قارئین پڑھتے ہیں۔

ہماری ایک معمولی غلطی سے ہزاروں لوگ مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے بعض دوست تو دوسروں کی غلطی درست کرتے ہوئے مزید غلط درغلط کی بنیاد رکھ دیتے ہیں، ہمیں کبھی یہ زعم نہیں رکھنا چاہئے کہ ہم جو لکھنے ہیں وہی درست ہوتا ہے۔ غلطی کا جب بھی علم ہو، اس کا اعتراف کرنے میں کبھی بے عزتی محسوس نہ کریں، کیونکہ بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے اور غلطیوں سے پاک پیغمبر ہی ہوسکتے ہیں۔ میری یہاں اپنے کالم کے موضوع سے ہٹ کر وطن عزیز کے محترم سیاست دانوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ بھی کبھی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی روایت قائم کریں۔

اس ملک اور اس قوم کے ساتھ ساتھ کون کون ظلم نہیں کیا گیا، کون کون سی ناانصافی نہیں کی گئی اور اس ملک کو کتنی بے رحمی کے ساتھ اور کس کس نے نہیں لوٹا، لیکن کبھی کسی ایک سیاست دان کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ یہاں تو یہ بری روایات بھی موجود ہیں کہ جن پر جرم ثابت ہوجاتا ہے، وہ بھی اپنی بداعمالیوں کا اعتراف نہیں کرتے، بلکہ الٹا عدلیہ کی تضحیک کی جاتی ہے۔

نئے چیئرمین نیب کے لئے جسٹس (ر) جاوید اقبال کا انتخاب ہو چکا ہے۔ محترم جاوید اقبال کا نام پیپلز پارٹی کی طرف سے تجویز ہوا۔ حکومتی جماعت نے بھی اس سے اتفاق کیا اور تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی نے بھی جناب جاوید اقبال کو چیئرمین نیب مقرر کئے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اب ہونا یہ چاہئے کہ چیئرمین نیب رشوت اور بدعنوانی کے خلاف آزادانہ طور پر اور نیک نیتی کے ساتھ جو بھی کارروائی کریں اور نیب کی زد میں جو بھی آئے، اس پر بلا جواز شور نہ مچایا جائے، بلکہ کرپٹ عناصر کے خلاف احتساب کے لئے نیب کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں، کبھی تو اُن سیاسی گِدھوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل مکمل کیا جائے، جنہوں نے پاکستانی قوم کو نوچ نوچ کر بے جان کردیا ہے۔

آخر میں ایک نوجوان شاعر اور تحصیل گوجر خان کے ایک ایڈووکیٹ احمد ادریس کا یہ شعر جس میں ہمارے قومی حالات کی درست طور پر عکاسی کی گئی ہے:

کھایا گیا ہے بانٹ کے کس اہتمام سے

جیسے مرا وطن کوئی چوری کا مال تھا

مزید : کالم


loading...