آصف علی زرداری کی سیاست میں پی ایچ ڈی کا امتحان

آصف علی زرداری کی سیاست میں پی ایچ ڈی کا امتحان
 آصف علی زرداری کی سیاست میں پی ایچ ڈی کا امتحان

  


آصف علی زرداری نے نواز شریف اور عمران خان دونوں کو اپنا ہدف بنالیا ہے۔

نواز شریف کے لئے تو شاید وہ اب بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں، لیکن عمران خان کو تووہ کسی بھی صورت میں معاف کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف کی طرف سے خیر سگالی کا پیغام لے کر آئے تھے، مگر میں نے انہیں کہا کہ نواز شریف نے مجھے بہت دھوکے دیئے ہیں، کیا آپ ضمانت دیں گے کہ نواز شریف مستقبل میں ایسا نہیں کریں گے؟ بقول اُن کے مولانا فضل الرحمن نے یہ ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ آج کل آصف علی زرداری خیبرپختونخوا پر خاصی توجہ دیئے ہوئے ہیں، ہر بار تحریک انصاف کی کوئی وکٹ گرادیتے ہیں، وہاں بیٹھ کر وہ عمران خان پر تبرا ضرور کرتے ہیں اور انداز خاصا عوامی ہوتا ہے۔۔۔ مثلاً اس بار انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تصویریں کھینچوانے کا شوق لے ڈوبا ہے، شاعر تو کہتا تھا، شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے، مگر آصف علی زرداری کہتے ہیں، کپتان کو تصویروں نے رسواکیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو یہ خوش فہمی ہوگئی ہے کہ پارٹی کی خیبر پختونخوا میں پوزیشن مضبوط ہے۔ کل ملتان میں پارٹی کے ایک سینئر رہنما نفیس احمد انصاری ملے تو انہوں نے پیش گوئی کی کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں خیبرپختونخوا سے کلین سویپ کرے گی۔ جب میں نے اُن سے پوچھا اور پنجاب سے تو انہوں نے کہا یہاں ابھی کمزور ہے، مگر ہم مایوس نہیں، پنجاب بھی پیپلز پارٹی کا گڑھ بنے گا۔

اب آصف علی زرداری کی باتوں سے کئی سوال جنم لیتے ہیں۔۔۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ وہ نواز شریف کو بے وفائی کا طعنہ کیوں دے رہے ہیں، انہوں نے کیا کیا ہے، سندھ حکومت کو چھیڑا نہیں اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی ڈھنگ سے پیروی ہی نہیں کی اور وہ بری ہوتے چلے گئے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم حسین اور ایان علی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا آصف علی زرداری اس پر خفا ہیں، مگر یہ باتیں تو اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایان علی بھی آزاد ہیں اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی۔ آصف علی زرداری اتنے بھولے تو نہیں ہیں کہ حکومت کی مجبوریاں نہ سمجھ سکیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف تو کارروائی رینجرز نے کی تھی اور رینجرز کسی سے پوچھ کرایسا نہیں کرتی۔ جہاں تک ایان علی کا تعلق ہے، تو وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔ اسے حکومت بیک زدِ قلم کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ جہاں تک سندھ میں ہونے والے آپریشن کا تعلق ہے تو اس کی اجازت خود سندھ حکومت نے رینجرز کو دی ہے۔

اس آپریشن کے دوران اگر چائنا کٹنگ، لانچوں کے ذریعے کالا دھن دبئی بھیجنے، خزانے سے اربوں روپے لوٹنے کے شواہد سامنے آئے تو انہیں کوئی حکومتی ادارہ کیسے پس پشت ڈال سکتا ہے؟ آصف علی زرداری اورپیپلزپارٹی کی پوری قیادت سابق وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے پیچھے پڑی رہی کہ سب کچھ وہ کرا رہے ہیں اور نوازشریف کویہ مشورے دیئے جاتے رہے کہ وہ ان سے جان چھڑائیں، وگرنہ پورے نظام کو لے بیٹھیں گے، مگر اب پیپلزپارٹی کارُخ مکمل طور پر نوازشریف کی طرف ہے۔

خاص طور پر آصف علی زرداری جو پہلے ان کا نام نہیں لیتے تھے، اب اپنی ہر تقریر اور ہر پریس کانفرنس میں ان کا ذکر خیر ایسے کرتے ہیں، جیسے کوئی پیر اپنے ناخلف مرید کا کرتا ہے کہ اس نے میرے منع کرنے کے باوجود میری بات نہیں مانی۔۔۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) پر آئے ہوئے مشکل وقت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ اگلے انتخابات میں پنجاب کے اندر اپنی بھرپور نمائندگی چاہتے ہیں اور اس کے لئے نوازشریف کے بغیرکچھ نہیں ہو سکتا۔

صورتِ حال جس قسم کی بن چکی ہے، کوئی بعید نہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سیاسی مفاہمت کے تحت کچھ سیٹیں بانٹ لیں، کیونکہ تحریک انصاف کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا تو پنجاب سے پتہ صاف ہو چکا ہے۔ لاہور کے ضمنی انتخاب میں اسے جتنے ووٹ ملے، اتنے تو ایم پی خان کو مل جاتے تھے، جو شغل لگانے کے لئے انتخابات میں کھڑا ہوجاتا تھا۔ سو اس صورتِ حال میں آصف علی زرداری کوئی راہ ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں پنجاب میں قدم جمانے کی جگہ دے دے۔ یہ درست ہے کہ نوازشریف کو موجودہ حالات میں آصف علی زرداری کی اشد ضرورت ہے۔ وہ سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے مقدمات سے نکلنا چاہتے ہیں۔

پھر ان کی سب سے بڑی خواہش یہ بھی ہے کہ ان کی نااہلی ختم ہو، نیز وہ مریم نواز کو بھی آگے لانا چاہتے ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تحریک انصاف مزاحمت کی سیاست کر رہی ہے اور دوسری طرف پیپلزپارٹی بھی اسمبلی کے اندر اور باہر مسلم لیگ(ن) کی قطعاً حمایت نہیں کر رہی، جبکہ نوازشریف اسی قسم کی صورت حال چاہتے ہیں، جیسی دھرنے کے دنوں میں ہوئی تھی کہ پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ آ کھڑی ہوئی تھیں اور انہوں نے حکومت کو بچالیا تھا، لیکن ظاہر ہے وہ صورتِ حال آج کے حالات سے یکسر مختلف تھی۔ ان دنوں ابھی نئے جمہوری دور کاآغاز تھا، پھر نئے انتخابات کی فوری امید بھی نہیں تھی۔ سب سے بڑی بات آصف علی زرداری کی میثاق جمہوریت کے تحت یہ کمٹمنٹ تھی کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔ سو اس وقت پیپلزپارٹی خم ٹھونک کر نوازشریف کے ساتھ کھڑی رہی اور وہ بحران سے نکل گئے۔۔۔اب تو انتخابات قریب ہیں۔ آصف علی زرداری کو فرینڈلی اپوزیشن کا داغ بھی دھونا ہے، اس لئے وہ نوازشریف کو آڑے ہاتھوں لئے ہوئے ہیں۔ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری کی نواز شریف پر تنقید محض ایک ڈرامہ ہے۔

ان کا اصل ہدف عمران خان کا راستہ روکنا ہے۔ چونکہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا فرینڈلی ہونا تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، اس لئے انہوں نے اس تاثر کو مٹانے کی کوشش کی ہے کہ زرداری اور نوازشریف ایک دوسرے کی کرپشن بچانے کے لئے مددگار ثابت ہوتے رہے ہیں۔

کیا آصف علی زرداری اپنی اس حکمتِ عملی میں کامیاب رہیں گے؟ کیا پیپلزپارٹی اس تاثر کو دور کرنے میں کامیاب رہے گی کہ اس نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا ہے؟آصف علی زرداری دل سے تو کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ نوازشریف اور ان کے بچوں کو نیب کیسوں میں سزا ہو، کیونکہ اس کے بعد ان کی باری آئے گی۔

اگر حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کی درخواست دی جا سکتی ہے تو آصف علی زرداری کے خلاف بھی بہت سے ایسے کیس ہیں، جنہیں تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا گیا ہے۔ سیاسی طور پر وہ ضرور چاہیں گے کہ اس بار پیپلزپارٹی کو باری ملے اور نوازشریف اس میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ ان کی آپس میں مخالفت جتنی بھی بڑھ جائے، ایک نکتے پر وہ ہر صورت میں متفق ہیں کہ اقتدا ران دونوں جماعتوں سے باہرنہیں جانا چاہیے۔ خاص طور پر عمران خان کا راستہ تو ہر قیمت پر روکا جائے، کیونکہ وہ جو ایجنڈا لے کر اقتدار میں آنا چاہتے ہے،وہ سراسر ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے ہے، مگر حالات کا دھارا اب کسی طرف بھی جا سکتا ہے۔ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں رہا، بلکہ عوام کے ہاتھوں میں آ گیا ہے۔ شریف خاندان کے ساتھ یہ حالات نہ ہوتے تو شاید وہ باری کے فارمولے پر عمل کرتا، لیکن اب چونکہ اس کی بقاء کا مسئلہ ہے، اس لئے شریف خاندان کی حتی الامکان یہ کوشش ہوگی کہ 2018ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آیا جائے اور اس بحران سے نکلنے کی کوشش کی جائے ،جس میں وہ آج کل گھرے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پاس تو کوئی ایسی جادو کی چھڑی نہیں کہ وہ آئندہ چند ماہ میں خاص طور پر پنجاب کے اندر اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کر سکے۔

ایک بلاول بھٹو سے امید لگائے بیٹھے ہیں، تاہم وہ بڑے جلسے تو کرسکتے ہیں، لوگوں کو ووٹ دینے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔ اگر مقابلہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں ون ٹو ون ہوتا تو کچھ بھی کہا جا سکتا تھا۔ اب تحریک انصاف کباب میں ہڈی بن گئی ہے۔ اس بار پتہ چلے گا کہ آصف علی زرداری نے واقعی سیاست میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے یا وہ صرف بی اے پاس ہیں۔

مزید : کالم


loading...