پاک فضائیہ کے لئے مستقبل کے چیلنج؟

پاک فضائیہ کے لئے مستقبل کے چیلنج؟
 پاک فضائیہ کے لئے مستقبل کے چیلنج؟

  


کل میں کہیں رائٹر کی ایک خبر دیکھ رہا تھا جو امریکی سنٹرل کمانڈ (Centcom) کی طرف سے شائع کی گئی تھی کہ گزشتہ ماہ (ستمبر 2017ء) امریکی فضائیہ نے افغانستان میں 751بم گرائے ہیں۔

یہ بم طالبان کے ان ٹھکانوں پر گرائے گئے جو دیدہ یا نادیدہ اہداف پر تھے۔ نادیدہ اہداف ان اہداف کو کہا جاتا ہے جو انسانی آنکھ سے نہیں، الیکٹرانک آنکھ سے نظر آتے ہیں یا کوئی امریکی جاسوس برادری ان کی خبر دیتی ہے۔ اس برادری میں افغان طالبان کے اپنے ہم وطن بھی شامل ہوتے ہیں یعنی:

بہ ہر زمانہ خلیل است و آتشِ نمرود

اس خبر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ساڑھے سات سو بم گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تعداد کے حساب سے سب سے زیادہ ماہانہ تعداد تھی۔ جس کا نشانہ طالبان اور داعش کو بنایا گیا تھا۔

مجھے (اور آپ کو بھی) یہ تو معلوم ہے کہ طالبان اور امریکیوں کا آپس میں اینٹ کتے کا بیر ہے لیکن داعش اور امریکی تو آپس میں گھی شکر ہیں۔ اور جیسا کہ میں نے کل کے کالم میں بھی لکھا تھا کہ داعش (ISIS) خود، امریکہ کی تخلیق ہے۔ بھلا اپنی تخلیق پر بھی کوئی بمباری کر سکتا ہے؟۔۔۔ لیکن یہی وہ مکاری اور عیاری ہے جس نے امریکہ کو دنیا کی سپرپاور بنا رکھا ہے۔ داعش کو اس بمباری مہم میں ارادتاً ’’لبیڑ‘‘ لیا گیا ہے کہ داعش والے تو افغانستان میں خود آئے نہیں لائے گئے ہیں، اور جن کے لئے لائے گئے ہیں وہ امریکہ کی ان چالوں سے بخوبی باخبر ہیں۔

گزشتہ 70 برسوں تک ہم پاکستانی یہی منظر تو دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ بہادر ہمیں کبھی اپنی خارجہ پالیسی کا کارنر سٹون کہہ کر اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے اور کبھی ہم پر حقانیوں کی طرفداری اور ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا لیبل لگا کر ہمیں آئینہ دکھا دیتا ہے۔۔۔ یہ نیمے دروں نیمے بروں والی پالیسی میں بھی پالیسی سازوں کی وہی حکمت شامل ہے جس نے دخترِ شاہجہان سے یہ شعر کہلوایا تھا۔۔۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ ظلِ سبحانی کی بیٹی کے منہ سے اپنے محل کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کسی ’’ناروا منظر‘‘ کو دیکھ کر بے ساختہ ’’نیمے دروں، نیمے بروں‘‘ کے موزوں الفاظ نکل گئے تھے تو ان کے پیچھے پیچھے سیڑھیوں میں ان کے والد محترم بھی آ رہے تھے اور جب انہوں نے اپنی دخترِ نیک اختر سے اس اچانک سرخوشی کا سبب پوچھا تھا تو بیٹی کا گلنار چہرہ پہلے تو خوف سے برف کی طرح سفید ہو گیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ ہوش میں آ چکی تھی اور کہا تھا: ’’ابا جان! میں تو اس قصیدے کا ایک شعر یاد کرکے خوشی ہو رہی تھی جو آپ کے کسی معروف درباری شاعر نے کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا کہ :

از ہیبتِ شاہِ جہاں، لرزد زمین و آسماں

انگشتِ حیرت در دہاں، نیمے دروں، نیمے بروں

دوسری طرف باپ بھی وہ ’’ناروا منظر‘‘ دیکھ چکا تھا لیکن بیٹی کی زیرکی اور اس کا ’’سٹرٹیجک ویژن‘‘ دیکھ اور سن کر حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔۔۔ میں بھی جب امریکیوں کا وہ سٹرٹیجک ویژن دیکھتا ہوں تو عش عش کر اٹھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی اندھا دھند اور بے محابا فضائی بمباری کو کس طرح طالبان اور داعش کے نام کر دیا ہے حالانکہ داعش تو ان کے اپنے گھر کی کنیز ہے!

رائٹر کی اسی خبر میں آگے چل کر یہ وضاحت بھی فرمائی گئی تھی کہ اگست 2017ء میں امریکہ نے افغانوں پر 503بم گرائے تھے اور ساتھ ہی استدلال کیا تھا کہ چونکہ صدر ٹرمپ نے 21اگست کو نئی افغان پالیسی میں ائر فورسز کے زیادہ استعمال پر زور دیا تھا اس لئے 22 اگست 2017ء سے امریکی فضائیہ نے افغانوں پر فضا سے آگ برسانے کی مہم تیز کر دی ہے۔۔۔ اب اکتوبر کا نصف گزر چکا ہے۔ دیکھتے ہیں نومبر 2017ء میں امریکی سنٹرل کمانڈ سے ماہانہ بمباری کے کیا نئے اعدادوشمار ریلیز کئے جاتے ہیں۔

یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں رہی کہ امریکہ، افغانستان سے کیوں نہیں نکل رہا۔ اوباما نے تو 2014ء میں ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے او ردسمبر تک اپنے اور ناٹو کے ٹروپس کو واپس جانے کے احکامات صادر کر دیئے تھے۔ لیکن ٹرمپ نے آکر اچانک اباؤن ٹرن لے لیا۔ اس کی وجہ بھی دو تین روز پہلے امریکہ نے بتا دی تھی کہ وہ اس انتہائی اہم خطے کو براستہ CPEC، چین اور روس کے حوالے کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے ایک ایسی پھلجھڑی بھی چھوڑ دی تھی جو اسی نے گزشتہ 70برسوں سے اپنے بارود خانے میں کہیں چھپا رکھی تھی اور اب فرمایا ہے کہ یہ CPEC ’’کشمیر کے متنازعہ علاقے‘‘ سے گزرتا ہے!۔۔۔ دیکھا آپ نے امریکیوں نے کس وقت یہ تیر چھوڑا اور بھارت کو گود میں بٹھا کر متنازعہ علاقے کی چوسنی کس وقت اس کے منہ میں دے دی۔۔۔ یہی وہ امریکی ادائیں ہیں جو گلوبل سٹرٹیجک عیاری کا اصل حصہ ہیں۔ میں کئی بار سوچتا ہوں کہ عیسائیوں کی تثلیث نے مسلمانوں کی وحدائیت کو کس مکارانہ فکر سے مات دی ہے۔ میری اور آپ کی طرح حضرت اقبال بھی یہی کچھ سوچنے پر مجبور تھے۔ایک جگہ فرماتے ہیں:

نمی دانم کہ داد ایں ذوقِ معنی موجِ دریارا

صدف در سینہ ء دریا، خزف بر ساحل افتادست

[مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ موجِ دریا کو کس نے یہ ذوقِ معانی عطا کر دیا ہے کہ وہ صدف کو تو سمندر کی تہہ میں لے جاتی ہے اور کنکریوں (کوڑیوں وغیرہ) کو ساحل پرلا پھینکتی ہے!]

ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے عسکری حصے (Segment) نے CPEC کے مستقبل کے منظرنامہ کے پیش نظر کابل سے اپنے امریکی ٹروپس کو نکالے جانے کی مخالفت کی اور تجویز پیش کی کہ افغانستان میں امریکی ائر فورس کو اتنا مضبوط اور ہمہ جہت (All Encomapassing) بنا دیا جائے کہ وہ کابل، قندھار اور جلال آباد میں بیٹھے بیٹھے CPEC کے منصوبے میں روڑے اٹکانے پر قادر رہے۔

اس غرض سے اس نے افغانستان کے بگرام اور شنیدند نامی ائر بیسز (Air Bases) کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی بروئے عمل لانی شروع کر دی ہے۔ ذرا انٹرنیٹ پر جا کر دیکھئے کہ ان فضائی مستقروں پر امریکن ائر فورس کے کون کون سے طیارے سٹیشن رکھے گئے ہیں اور ان کے ساتھ کون کون سا اسلحہ اور گولہ بارود سٹور کیا جا رہا ہے۔حال ہی میں بگرام ائربیس پر 6عدد مزید ایف ۔16 لائے گئے ہیں( یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بلاک کون سا ہے) علاوہ ازیں بی۔52 بمبار طیاروں کے مزید کئی مشنوں کو بھی منظور کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دیوہیکل بمبار افغانستان کے فضائی مستقروں پر نہ بھی رکھے گئے اور کسی اور فضائی Facility پر سٹیشن کر دیئے گئے تو بھی ان کے استعمال کی گنجائش اور اجازت موجود رہے گی۔

نہ صرف یہ بلکہ امریکہ، افغان ائر فورس کو آنے والے 5برسوں میں 7ارب ڈالر مالیت کی امداد دے کر افغان ائر فورس کا انفراسٹرکچر قائم کرے گا۔

امریکہ نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ کابل کو عنقریب 159عدد UH-60 قسم کے ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا۔یہ یوٹلٹی ہیلی کاپٹر (UH)جن کا جدید ورشن ’’بلیک ہاک‘‘ کہلاتا ہے جب افغان ائر کے فضائی بیڑے میں آ جائے گا تو افغان ائر فورس اور گراؤنڈ فورسز کی حرکیت (Mobility) ان کی ہمہ جہت کارکردگی اور باربرداری کی سہولیات میں بہت اضافہ ہو جائے گا کہ ان ہیلی کاپٹروں میں دو دو پاور فل انجن لگے ہوئے ہیں، یہ ہر قسم کی زمین پر اتر سکتے ہیں، ہر موسم میں قابلِ پرواز رہتے ہیں اور ان میں آٹھ دس فوجی (عملے کے علاوہ) بیٹھ سکتے ہیں۔ ان کو ائر ایمبولینس کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔ بندہ پوچھے کہ افغانوں کو تو ریڑھیاں چلانی بھی نہیں آتیں۔ بھلا انڈین ائر فورس (IAF) کتنے افغان پائلٹوں کو اپنے ہاں ٹریننگ دے سکے گی؟۔۔۔ ائر فورس ایک جدید ترین اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ ترین سروس ہے۔ اس کے لئے برسوں کی ریاضت درکار ہے۔ یہ ایک نسل کا کام نہیں۔ اگر آج افغانوں کو کسی ائر فورس کے بنیادی سکول / ادارے میں بفرض ٹریننگ بھرتی کر لیا جائے تو اس سروس کے کارگر استعمال کے لئے کئی نسلوں کی ٹریننگ کی ضرورت ہوگی۔

افغان پائلٹ اور گراؤنڈ کریو بھلا اتنی کم مدت میں سینکڑوں فِکسڈ ونگ اور روٹری ونگ طیاروں کو اڑانے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے سے کیسے عہدہ برآ ہو سکے گا؟۔۔۔

سعودی ائر فورس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دو تین برس پہلے جس سعودی ائر فورس نے یمن پر بمباری شروع کی تھی تو کتنے لوگوں کو یقین تھا کہ کاک پٹ میں سعودی پائلٹ براجمان ہیں اورگراؤنڈ پر سعودی گراؤنڈ کریوان فضائی مشقوں کو سپورٹ کر رہا ہے؟۔۔۔ ہاں البتہ جن لوگوں نے سعودیوں کو تازہ ترین فضائی مشینیں فروخت کی تھیں،وہ بھلا ان مشینوں کے ہزارہا چھوٹے بڑے پرزوں کی مکمل آگہی کس طرح عرب بدوں کو دے سکتے تھے اور اب کتنے افغان خانہ بدوشوں کو ایف۔16اور UH-60 کو چلانے اور Maintain کرنے کی از حد مشکل اور ٹیکنیکل واقفیت دے سکیں گے؟۔۔۔ چاروناچار اور خواہی نخواہی خود امریکیوں ہی کو یہ ’’بارِ گراں‘‘ اٹھانا پڑے گا کہ ان کا مقابلہ CPEC کے جن محافظوں سے ہوگا ان کی پروفیشنل کارکردگی کا تو ایک زمانہ معترف ہے اور دنیا کی جدید ترین ائر فورسز ان کے کمالِ فن کی مدح خواں ہیں۔

البتہ پاکستان کو آنے والے ایام میں اِن سفید فام لوگوں سے ہوشیار رہنا پڑے گا جو اپنے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر AAF (افغان ائر فورس) کے نشان لگا کر ہمارے PAF والے طیاروں میں بیٹھے لوگوں سے نبرد آزما ہوں گے!

مزید : کالم


loading...