کیا ہم ایڈز پر قابو پالیں گے؟

کیا ہم ایڈز پر قابو پالیں گے؟

ایڈز کے سب سے زیادہ مریض انجیکشن کے ذریعے نشہ لینے والوں کی ہے

زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کا قومی سروے مکمل ہوگیا ہے جس کی حتمی رپورٹ آئندہ ہفتے جاری کردی جائے گی۔ ملک بھر میں سروے کرنے والی 60 ٹیموں نے 20 شہروں میں 5 ہزار مقامات سے اعداد و شمار حاصل کیے جس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک سال کے قلیل عرصے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں 39 ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے اور اس طرح اب پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی مجموعی تعداد 1 لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔سروے کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے جو 60 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ میں یہ تعداد 52 ہزار ہے اور خیبرپختون خوا میں یہ تعداد 11 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 3 ریکارڈ کی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 6 ہزار بتائی گئی ہے۔سروے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد انجکشن کے ذریعے نشہ لینے والوں کی ہے جب کہ جنسی بے راہ روی کے شکار افراد بھی اس موذی بیماری کا شکار ہیں۔صوبہ پنجاب میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 8 ہزار 300 سے زائد، سندھ میں 5 ہزار 54، بلوچستان میں 441، خیبرپختونخوا میں 1591، آزاد جموں وکشمیر میں 177 جبکہ اسلام آباد میں 186 افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وزرات قومی صحت کی دستاویز کے مطابق ایڈز کے وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ملک میں ایڈز کے سب سے کم مریض گلگت بلتستان میں ہیں جن کی تعداد 8 ہے،قبائلی علاقوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 462 ہے۔

ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ لمحہ ء فکریہ ہے، آئیے ایڈز سے متعلق جانتے ہیں یہ بیماری کیا ہے اور کیسے پھیلتی ہے، کیونکہ جس تیزی سے یہ مرض پھیل رہا ہے ، عام آدمی کو اس سے آگاہی ہونی چاہئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اس مرض کو اس اندازمیں لیا جاتا ہے کہ جسے یہ مرض ہو جائے اسے اچھوت سمجھ کر تنہا کردیا جاتا ہے اورمعاشرے کے اس رویے کے باعث اس مرض کے متعدد کیسز رپورٹ ہونے سے رہ جاتے ہیں۔

ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اور جسم میں جاکر اس کے دفاعی نظام کو ختم کردیتی ہے۔یہ بیماری ایک سے دوسرے کو لگ سکتی ہے۔ اس کو پیدا کرنے والے وائرس کو ہیومن لائیفاڈینو پیتھی وائرس یا ایچ آئی وی کہا جاتاہے۔اس کی بڑی اور اہم وجہ غیر محفوظ جنسی تعلقات، سوئی یا انجیکشن کا ایک سے زیادہ بار استعمال یا انفیکشن والے خون کا جسم میں داخل ہوجانا ہے۔بعض لوگ اسے ایک مغربی مرض تصور کرتے ہیں جب کہ اس کے کیسز پاکستان سمیت کئی مشرقی ممالک میں بھی سامنے آرہے ہیں۔اس سے متعلق درست اور تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی اس کی روک تھام میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

ایچ آئی وی اور ایڈز میں کیا فرق ہے؟

ایچ آئی وی اور ایڈز یوں تو ایک ہی مرض کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اس کے معنی مختلف ہیں۔ ایچ آئی وی اس خاص وائرس کا نام ہے جبکہ ایڈز ایچ آئی وی انفیکشن کی آخری اسٹیج ہے۔ اس مرحلے پر ایچ آئی وی انفیکشن سے متاثرہ فرد کی قوت مدافعت بے حد کمزور ہو جاتی ہے اور اس میں کینسر یا دیگر جان لیوا بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت نہیں رہتی اگر بروقت اور درست علاج نہ مل پائے تو ایچ آئی وی سے متاثرہ مریض چند سالوں میں ہی انفیکشن کی آخری اسٹیج یعنی ایڈز تک پہنچ جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہر ایچ آئی وی پازیٹو شخص کو ایڈز ہوجائے۔ مناسب علاج سے ایڈز کے خطرات اور کسی دوسرے میں اس کے جراثیم منتقل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

بیماری پھیلنے کے اسباب

جنسی تعلقات:ایچ آئی وی کا وائرس ایک تندرست انسان کے جسم میں خلاف وضع فطری افعال کے نتیجہ میں داخل ہوسکتاہے۔ جنسی اختلاط میں ایچ آئی وی کا شکار فرد سے یہ وائرس دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس جسم میں داخل ہونے کے بعد قوت مدافعت کے نظام کو مفلوج کردینے کے علاوہ اگر کوئی اورپرانی بیماری موجود ہوتو اس کو بھی ہوا دیتے ہیں۔

انتقالِ خون:وائرس مریض کے خون میں ہر وقت موجود ہوتاہے۔وہ لوگ جو بیمار ہونے پر اگر کسی ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کا خون لیں تو وہ بھی اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ہسپتالوں میں غیر تصدیق شدہ خون کی فروخت بھی اس مرض کاسبب بنتی ہے۔

منشیات کے ٹیکے:نشے کے عادی افراد ٹیکہ کے ذریعے بھی نشہ کرتے ہیں، انکے ٹیکہ لگانے کی سرنج اور سوئیاں گندی اور غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ایک ہی سرنج کا کئی بار استعمال کرنے سے یہ وائرس جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ گر انمیں ایڈز کا ایک بھی مریض آجائے تو یہ بیماری سب میں پھیل جاتی ہے۔

وراثت:جس عورت کو ایڈز ہو تو اس کا پیدا ہونے والا بچہ بھی ایڈز میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

لاعلمی:مرض سے متعلق مناسب معلومات کا نہ ہونا اس کے پھیلنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ پاکستان میں غیر ازدواجی جنسی تعلقات اور منشیات کے استعمال میں اضافے کو تسلیم نہ کرنا اس مرض کو مزید بڑھا رہاہے۔

ایڈز کی علامات:ایڈز کی بیماری انسانی جسم کی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتی ہے اور اسکا شکار ہونے پر مکمل طور پر دوسری بیماریوں کے لئے "خوش آمدید’’کا بورڈ لگ جاتاہے۔اکثر مریضوں کو ابتدا میں بخار چڑھتاہے جسم کی لمسفائی غدودیں پھیل جاتی ہیں، پسینے ، تھکن،بھوک کی کمی، جسم میں درد، سردرد، چھاتی کمر یاپیٹ پر سرخ دھبے ہوجاتے ہیں۔ اسکے تین سے چودہ ہفتوں کے اندر کسی علاج کے بغیر بھی تمام علامات ختم ہوجاتی ہیں ،لمسفائی غدودوں کا ورم باقی رہتاہے۔ شروع شروع میں اس مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔پھر آہستہ آہستہ بھوک کی کمی ، اسہال اور وزن میں کمی جیسی علامات رونما ہونے لگتی ہیں۔جن مریضوں میں یہ علامات ایک طویل عرصے تک محسوس ہوتی رہیں اور ساتھ میں نمونیا یا جلد پھٹ جانے والی رسولیاں بننے لگیں، وہ عام طور پر ایڈز کی بدترین قسموں کا شکار ہوتے ہیں۔

ایڈز سے ہونے والی دیگر بیماریاں:پیٹ میں متعدد اقسام کے کیڑے، سوزش ، اسہال، پیچش، گردوں، پھیپڑوں اور جگر کی سوزش ، خون کے سفید خلیات میں کمی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ ایڈز بن سکتا ہے۔ ایڈز کی وجہ سے یہ امراض جسم پر جلدی اثر انداز ہوتے ہیں۔ایڈز کے مریض میں چونکہ قوت مدافعت نہیں ہوتی اسلئے کوئی بھی بیماری کسی وقت بھی آکر غلبہ پاسکتی ہے یا موت کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ جسم اس بیماری کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہتاہے اور وہ مکمل طور پر جراثیم کے رحم و کرم پر ہوتاہے۔

احتیاطی تدابیر:ایڈز سے متعلق کئی غیر تصدیق شدہ باتیں بھی عام ہیں جو اس کے علاج اور مریض کو سنبھالنے میں مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔ یہ مرض اتنی آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا۔ بلکہ چند مخصوص جسمانی سیال جیسے کے خون، سیمن، یا ماں کے دودھ کے محض متاثرہ ٹشو سے ٹکرانے کے بعد یا براہ راست (انجیکشن یا سوئی ) خون میں داخل کرنے سے ہی منتقلی ممکن ہے۔ تھوک ، مچھر یا کسی کیڑے، تھوک، پسینہ، ہاتھ ملانا، بوسہ لینے، ایک ٹائلٹ استعمال کرنے ، ایک ہی پلیٹ میں کھانے،ہوا یا پانی سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ اگر کسی کو محسوس ہو کہ اس کا ایچ آئی وی وائرس سے سامنا ہوا ہے تو اپنا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرائے۔ مریض کی بیوی یا خاوند کا الیزا ٹیسٹ کروانا چاہئے۔اس مرض میں مبتلا ماں باپ کے بچوں میں بھی یہ مرض منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایڈز کا علاج:ایچ آئی سے متاثرہ افراد اگر اینٹی ریٹر وائرل تھیراپی کا مستقل استعمال رکھیں تو یہ وائرس قابو میں رہے گا اور دوسروں میں منتقل ہونے کے خطرات بھی کم ہو جائیں گے۔ اس تھیراپی میں کئی اقسام کی ادویات استعمال کی جاتی ہیں جن سے ایچ آئی وی کے وائرس کی جسم میں کاپی بننے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان اور ایسے کئی ممالک میں ایڈز کی ادویات کی فراہمی انتہائی مشکل ہے اور اکثر معالج اس کے علاج کے طریقے سے بیبرہ ہیں۔ایسے میں طرز زندگی میں مثبت تبدیلی جیسے کے سگریٹ نوشی سے پرہیز، اچھی غذا اور مرض کے بارے میں مکمل معلومات کا حصول ہی ایڈز کے علاج کا ایک طریقہ ہے۔البتہ چین کے سائنسدانوں نے اپنی طویل ریسرچ کے بعد اس بات کااعلان کیا ہے کہ کھیرے کی جڑ کا جوہر HIV ایڈز کا موثر علاج ثابت ہو سکتاہے۔چینی سائنسدان کے مطابق چینی کھیرے کی جڑ کا ست یا جوہر جسم کے نظام مدافعت کو متاثر کرنے والے وائرس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ جز ایک قسم کا پروٹین ہے، کھیرے کی جڑ کی اس خصوصیت کے پیش نظر امریکہ کے خوراک اور ادویات کے محکمے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اسکے استعمال کی اجازت دے دی ہے، کھیرے کی جڑ کا یہ جوہر ایڈز کے وائرس کی زد میں آئے ہوئے بافتوں یا ریشوں کی مرمت میں اہم کردار ادا کرنے والے خلیات کو صحت مند خلیات کا خاتمہ کئے بغیر ختم کرسکتاہے۔ماہرین کے مطابق یہی وہ خلیات ہیں جو ایڈز کے وائرس کی ہلاکت میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہم ایمانداری سے اس بات کا اعتراف کریں کہ ایڈزہمارے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ ہے اور پھر تعلیم و آگہی کی کوشش کریں۔پاکستان میں اب تک کیے جانے والے اقدامات کافی نہیں ہیں اس لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔بدقسمتی سے تعلیم کا اتنا فقدان ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایڈز صرف جنسی فعل سے نہیں پھیلتی۔ اس میں غربت، سرنج کا بار بار استعمال، خون کی تبدیلی بھی بڑی وجوہات ہیں۔

حکومتِ پاکستان کو اس خطرناک مرض کے لیے زیادہ بہتر اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس طرح پولیو کے خاتمے کے لیے گھر گھر ٹیمیں جاتی ہیں، اسی طری اس پر بھی گھر گھر جاکر لوگوں کو سمجھانا ہوگا۔ سب کی سکریننگ کرنا ہوگی تاکہ اس بیماری کو روکا جاسکے۔ عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا کیونکہ اس کے پھیلنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو نہیں معلوم کہ یہ کیسے پھیلتی ہے۔ لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو اس بارے میں آگہی بہت کم ہے۔ شہری علاقوں میں تو خاصی آگاہی ہے مگر دیہات میں ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس پر آگہی پھیلانے کے لیے سیمینار اور ٹی وی پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس خطرے کو جان سکیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...