کہاں گئے وہ لوگ پشتو فلموں کے دلیپ کمار ورسٹائل اداکار بدر منیر

کہاں گئے وہ لوگ پشتو فلموں کے دلیپ کمار ورسٹائل اداکار بدر منیر

وقت کی لہریں اپنے ہمراہ سب کچھ بہاکرلے جاتی ہیں،عظیم ہیں وہ لوگ وہ فنکار جو اپنے فن کے ذریعے دنیا میں اپنا نام کام اور شہرت کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ناموں میں پاکستانی پشتوں فلموں کے اداکار بدرمنیر مرحوم کا ہے جنہوں نے ایک معمولی ٹرالی کھیچنے والے مزدور سے نام کمایا اور پشتوں فلموں میں پاکستان کے دلیپ کمار کہلائے۔ وہ آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ اور پائندہ ہیں۔ ان کی جگہ تاحال کوئی دوسرا اداکار نہیں لے سکا ہے۔ پشتو فلموں میں اداکار بدر منیر صوبہ کے پی کے ایک چھوٹے سے شہر سوات سے تعلق رکھتا تھا۔ جب اس کا شعور بلند ہوا تو وہ اپنی خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی میں اپنے آپ کو ہیرو بنانے کیلئے آگیا۔ کراچی میں اس نے اپنے ماموں کے گھر رہائش اختیار کی جو پٹھانوں کی ایک بدر منیر ایک غریب سے گھرانے کا فرد تھا چنانچہ وہ کراچی آکر نوکری بھی تلاش کرتا رہا۔ تعلیم واجبی سی تھی وہ انگریزی ایکشن فلمیں زیادہ دیکھا کرتاتھا جبکہ اس دور کی پاکستانی فلمیں بھی اسے پسند تھیں۔ پٹھان آبادی کے قریب اس زمانے میں دوفلم اسٹوڈیوز، ایسٹرن فلم اسٹوڈیو اور ماڈرن فلم اسٹوڈیو قائم تھے۔ جہاں فلمیں بنتی تھیں۔ آتے جاتے بدرمنیر کی نظر ان اسٹوڈیوز پر پڑتی، جہاں گیٹ پر فلموں میں کام کرنے والے شوقین نوجوانوں کا رش لگارہتا۔ وہ نوجوان ہر آنے جانے والے اداکار کو دیکھ کر خود بھی ایسا بننے کا شوق رکھتے تھے۔ فلم اسٹوڈیو میں داخل ہونے کیلئے اس دور میں گیٹ پاس بنا کرتا تھا جو بغیر کسی واقفیت کے ممکن نہ تھا بدرمنیر کا جی چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح اسٹوڈیو کے اندر داخل بدرمنیر کا جی چاہتا تھا کہ وہ کسی طرح اسٹوڈیو کے اندرداخل ہو مگر اسے گیٹ پر موجود چوکیدار سے ڈرلگتا تھا کہ کہیں وہ اسے روک نہ دے اتفاق سے ایک روز گیٹ پر ایک پٹھان چوکیدار تھا جو اسے کافی دیر سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے بدر منیر سے ہمدردی کرتے ہوئے اسے کہا کہ اسٹوڈیو کے اندر جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ۔ اندر فلموں کا شوٹنگ ہوتا ہے دیکھ کرجلدی سے باہرآجانا، بدر منیر کا شوق عروج پر تھا چنانچہ وہ پشتو میں چوکیدار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسٹوڈیو کے اندر آگیا۔ اندرایک نئی دنیا دیکھی اس نے وہاں موجود چند مزدوروں سے بات چیت کی اسے کوئی مزدوری ہی مل جائے۔ مگروہاں موجود مزدوروں نے اسے بتایا کہ یہاں مزدوری ملنا بہت مشکل ہے البتہ کسی فلمی دفتر میں چپڑاسی کی نوکری مل سکتی ہے بدر منیر کی ڈھارس بن گئی اور وہ روزانہ اسٹوڈیو آنے جانے لگا۔ اس دوران کی ملاقات اداکار وحید مراد سے ہوئی وحید مراد نے اسے اپنے دفتر میں دیکھ لیا۔ اسٹوڈیو میں فلموں کی شوٹنگز وہ دیکھا کرتا اور اکثروہ کیمرہ مینوں کی ٹرالی چلاتا یا کبھی کسی کام میں فلم والوں کی مدد کرتا رہتا اس طرح اس کی دوستی سب سے بڑھتی رہی، دل میں اداکار بننے کی چنگاری شعلہ شروع ہوگئی تھی مگر ایک تو اردو زبان سے لاعلمی، دوسرے پٹھانی لہجہ اور تعلیم نہ ہونے کی رکاوٹیں راستے میں حائل تھیں۔ بدرمنیر نے اس صورتحال میں کیمرہ مینوں کی خوشامد شروع کردی کہ وہ کم ازکم یہ ہنر ہی سیکھ لے۔ وہ تاڑ گیا تھا کہ فلموں میں ہدایت کار کے بعد کیمرہ مین کی ہی بہت عزت اور اہمیت تھی ایک دن وہ کیمرہ مینوں کے یونٹ میں شامل ہوگیاکیمرہ یونٹ میں مختلف کام ہوتے مثلاً شوٹنگ کے دوران ٹرالی کھینچنا، آؤٹ ڈور سامان اٹھانا، ریفلیکٹر سے روشنی ڈالنا اور دیگرکام شامل تھے۔ بدر منیر سال بھر کیمرہ یونٹ میں شامل رہا۔ اس دوران اسے ایک آدھ فلم میں چھوٹا موٹاکام کرنے کا بھی موقع ملتا رہا۔ اسٹوڈیو میں موجود ایک کیمرہ مین نذیر جو پشتو زبان بھی جانتے تھے ان سے بدرمنیر کی دوستی ہوگئی وہ ماڈرن اسٹوڈیو میں کام کرتے تھے۔ اس دوران جب وہ کیمرہ یونٹ میں تھا تو اس دور کے نامور فلمساز وہدایت کار شیخ حسن اس کے ایکسپریشن سے بہت متاثر ہوئے۔وہ فلم ’’جاگ اٹھا انسان‘‘ بنارہے تھے جس میں انگریز کردار بھی تھے۔ چنانچہ شیخ حسن نے بدرمنیر کو فلم میں ایک انگریز کا کردار دے دیا۔ بدرمنیر چونکہ گورا چٹا اور خوبصورت آنکھوں والا نوجوان تھا اورشکل سے بھی انگریز نظر آتا تھا۔ فلم ’’جاگ اٹھا انسان‘‘ میں اداکاروحید مراد بھی کام کررہے تھے۔ چنانچہ فلم کے ایک منظر میں بدرمنیر اور وحید مراد کے درمیان ایک بڑا کردار تھا مگر ڈائیلاگ نہ تھے کیونکہ وہ اردو نہیں بول سکتا تھا۔ فلم کے کیمرہ میں جان محمد تھے بدرمنیر کو فلموں میں تھوڑا بہت کام بطور اداکار ملنا شروع ہوگیا اس دوران وہ اداکاروحید مراد مرحوم کے ہمیشہ کام آتے رہے۔ ان کی دفتر کے کاموں کے علاوہ بطور کام ڈرائیوربھی کام کیا۔ وہ وحید مراد مرحوم کا مرتے دم تک بے حد ادب اور احترام کرتے رہے۔ بدرمنیر اپنے دوستوں میں کیا کرتے تھے کہ جس روز مجھے اچھا اوربھرپور کردار کسی فلم میں ملا تو میں بتاؤں گا کہ اداکاری کسے کہتے ہیں۔ وہ ایکشن اداکاری کا بہت شوقین تھا وہ دوستوں کو کاؤ بوائے قسم کی فلموں کی کہانیاں سناتا اور اکثرکاؤبوائے بنکر پرفارم کرکے بھی دکھاتا۔ پھر خدا کا کرنا کیا ہوا کہ اس کی دعائیں قبول ہوگئیں اور قسمت اس پر مہربان ہوگئی کیمرہ مین نذیر کو ایک فنانسر پارٹی مل گئی جو پشتو فلم بنانا چاہتی تھی۔ چنانچہ رائٹراورہدایت کار عزیزتبسم جو اس دور کے ہدایت کار حبیب سرحدی کے ہاں ملازمت کرتے تھے۔ نذیر صاحب نے بطور فلمساز پشتو فلم’’ یوسف خان شیر بانو‘‘ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ فلم کی ہیروئن کے لئے اداکار یاسمین خان کا چناؤ کیا گیا جو فلموں میں ایکسٹرا کردار ادا کیا کرتی تھی اور پھروہ صف اول کی اداکارہ بھی کہلاتی تھی۔ فلم کے ہیرو کے لئے بدرمنیر کا انتخاب کیا گیا۔ بدرمنیر نے کھی اسٹوڈیو میں دوست اسے ہیرو کہکر پکارنا شروع ہوگئے۔ بدر منیر ہر دم خدا کا شکر ادا کرتا رہتا تھا جس روز فلم ’’یوسف خان شیر بانو کا پہلا شارٹ عکسبند کیا گیا بدر منیر مسجد میں جاکر سجدے میں گرگیا اور خدا سے دعا کی کہ اس کی عزت رہ جائے۔ چنانچہ اس کی سچ دل سے مانگی ہوئی دعا قبول ہوگئی۔’’فلم ’’یوسف خان شیر بانو‘‘ پٹھانوں کی ایک لوگ داستان پر مبنی تھی فلم کی جب نمائش ہوئی تو عوام کا رش بڑھ گیا اور یوں فلم کے ہٹ ہونے سے بدر منیر مسجد میں جاکر سجدے میں گرگیا اور خدا کا شکر اداکرتا رہتا تھا جس روز فلم ’’یوسف خان شیر بانو کا پہلا شارٹ عکسبند کیا گیا۔ بدرمنیر مسجد میں جاکر سجدے میں گرگیا اور خدا سے دعا کی کہ اس کی عزت رہ جائے چنانچہ اس کی سچے دل سے مانگی ہوئی دعا قبول ہوگئی۔ فلم ’’یوسف خان شیر بانو ‘‘ پٹھانوں کی ایک لوگ داستان پرمبنی تھی فلم کی جب نمائش ہوئی تو عوام کا رش بڑھ گیا او ریوں فلم کے ہٹ ہونے سے بدر منیر ہیرو بن گیا۔ اب بدر منیر صاحب بن گئے تھے مگر بدر منیر اپنے ساتھیوں دوستوں کے ہمراہ زمین پربیٹھ کر ہی کھانا کھاتا اوراس دور کے تمام سینئرز کے ہمراہ انتہائی عاجزی کامظاہرہ کرتا تھا۔ پہلی فلم کی کامیابی کے بعد پشتو فلمسازی میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور بدر منیر کے ہمراہ یاسمین خان کی جوڑی بھی ہٹ ہوگئی بدرمنیر کی بڑھتی ہوئی شہرت اور مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے کراچی کی ایک اردو فلم’’جانور‘‘ میں ہیرو کاسٹ کرلیا گیا فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ کچھ عرصے کے بعد ہدایت کارممتاز علی خان نے اردو فلم ’’دلہن ایک رات کی‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم میں ان کی ہیرروئن نمی تھی جبکہ آصف خان ولن تھے۔ فلم زبرست طریقے سے کامیاب ہوگئی اوریوں پشتو فلموں کے ہمراہ بدر منیر پر اردو فلموں کے بھی دروازے کھل گئے مگر اسے پٹھان لب ولہجہ کی بنا پر پٹھان کردار ہی ملتے رہے۔ جب شہرت دولت اور مصروفیات میں اضافہ ہوا تو بدر منیر سے بھی کچھ کوتاہیاں ہونا شروع ہوگئیں۔ اس نے بتدریج اپنی غلطیوں پر قابو پالیا اس دورا اس کے مخالفین اور حاسدین بھی پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے مگر بدر منیر کہا کرتے تھے کہ جب خدا میرے ہمراہ اور مجھ پر مہربان ہے مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔ بدر منیر مذہبی حوالے سے صوم وصلوۃ کے بہت پابند تھے۔ اورپانچوں وقت نماز پڑھتے تھے۔

اداکار بدر منیر نے زیادہ سے زیادہ پشتو فلموں میں کام کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا۔ بدر منیر سوات کے ایک قصبے بدین میں ایک مسجد امام کے گھر پیدا ہوئے تھے انہوں نے محنت، رزق حلال کمانے کیلئے زندگی بھر بے پناہ مشقت کی وہ فلمی دنیا میں خطرناک فلمی مناظر میں بھی خود رسک لے لیتے تھے اور اکثر انہیں حادثات سے بھی دوچار 23دسمبر1970ء میں ریلیز ہوئی تھی بدر منیر کو نگار گریجوایٹ سمیت دیگر بہت سے ایوارڈ ملے۔ بدر منیر نے بطور فلمساز پشتو فلم’’دھستان‘‘ پر پہلا نگار ایوارڈ1974ء میں ملا تھا۔ بدر منیر کی پشتو فلموں میں احسان، بدعملہ، درہ خیبر، طور کالے، لوگے اور لمبے، باز اور شہباز، ارمان، الزام، انصاف ، داگزدا، میدان، جرم وسزا، فلم اور کلاشنکوف، بنگڑی اور ہتھکڑی، باد آسمان اوردیگر بہت سی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔ اداکار بدر منیر کے ہمراہ ہیروئنوں میں یاسمین خان، ثریا خان، مسرت شاہین، شہناز اوردیگر شامل ہیں۔ بدر منیر نے اردو فلموں جانور، دلہن ایک رات کی ، آخری حملہ، جہاں برف گرتی ہے، میری دشمنی، دل والے، محبت اوردوستی، انتقام کے شعلے، چیخ، بلیک کیٹ، روٹی کپڑا اورمکان ، جان بازی، گہرے زخم، کالا دھندا، گورے لوگ ، اک دوجے کیلئے اور دیوانے تیرے پیار کے میں پرفارمنس کے انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ بدر منیر کو اپنے دور کے نامور ہیرو اداکار سدھیر بھی بہت پسند تھے۔ انہوں نے زندگی میں ایک ملاقات کے دوان بتایا تھا کہ ان کے والد مرحوم مسجد کے پیش امام تھے لہٰذا انہوں نے مجھے بچپن سے ہی نماز پڑھنا سکھائی اور قرآن شریف ختم کراکر مجھے ایک مذہبی مدرسہ میں داخل کرادیا۔ والد کی خواہش تھی کہ ان کی وفات کے بعد میں امام مسجد بن جاؤ مگر میرے اندر ایک اداکار پرورش پارہاتھا۔ پشاور سینما گھروں کا گڑھ تھا چنانچہ میں مدرسہ سے بھاگ پشاورسینما گھروں کا گڑھ تھا چنانچہ میں مدرسہ سے بھاگ پشاور جاکر سدھیر اور دیگر فنکاروں کی فلمیں دیکھا کرتاتھا۔ میں سینماؤں کے اندر پوسٹرز پر اداکار سدھیر، سنتوش کمار اوردیگر فنکاروں کی تصاویر دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ کاش کسی روز میری تصاویر خواتین کے ہمراہ دیکھ کر مذہبی حوالے سے لاحول ولاقوت پڑھتا تھا مگر دل میں لالہ سدھیر جیسا بننے کی آواز بڑھتی رہتی۔ مدرسہ میں ہمیں سینما کے نزدیک سے بھی گزرنے کی اجازت نہ تھی لیکن ہم کسی نہ کسی بہانے سے سینما کے قریب سے گزرتے تھے ایک دن میرے ایک دوست نے مجھے سدھیر کی ایک فلم دیکھنے کی دعوت دی میں فلم دیکھنے چلا گیا میرا بچپن اور لڑکپن پہلے گاؤں اور پھر پشاور میں گزرا پھر میں ایک دن چپکے سے پشاور کراچی پہنچ گیا مجھے کراچی میں سخت محنت اور جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ پھر قدرت نے مجھے ہیرو اور بعدازاں کریکٹر بنادیا۔ بدر منیر نے عمر کے آخری حصے میں زوال کو بھی دیکھا انہیں اردو ، پشتو فلموں میں کم کاسٹ کیا جانے لگا بدر منیر اس صورتحال میں مطمئن اور خدا کا شکراداکرتے رہے وہ 30برس کا طویل عرصہ فلمو ں میں کام کرنے کے بعد بھی ہردم خدا کاشکر کرتے رہتے۔ ان کے پرستار ہمیشہ ان کے ساتھ رہے وہ کراچی کے فٹ پاتھ پربھی سوتے رہے۔ بوٹ پالش بھی کئے۔ سامان میں ایک تھیلا جس میں چادر، پانی کی بوتل اور بوٹ پالش کا سامان ہوا کرتا تھا پھر سمندر پر چلے جاتے مرحوم کو سمندر میں کھڑے جہاز بھی بہت پسند تھے۔بدر منیر نے اپنے فلمی کیرئر میں650فلموں میں کام کیا جن میں اردو پنجابی فلموں کی150کے قریب ہے۔ مرحوم نے اپنے دور کے نامور ہدایت کاروں نذر الاسلام مرحوم، حیدر چوہدری مرحوم، پرویز ملک مرحوم، پرویز رانا مرحوم، اسلم ڈار، سید نور، سنگیتا، سعید علی خان عزیز تبسم، مسعود بٹ شمیم آرا سمیت ہر بڑے ہدایت کاروں کے ہمراہ کام کیا۔بدر منیر نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ان کے دو بیٹے تین بیٹاں جبکہ دوسری بیوی سے تین بیٹے فرحان منیر، دلبر منیر اورعدنان منیر ہیں۔مرحوم نے زندگی میں اپنے بچوں کی ذمہ داریاں پوری کردی تھیں۔ مرحوم کا ایک بیٹا دلبرمنیر ان دنوں پشتوفلموں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔بدر منیر نے اپنے دور کے نامور اداکاروں اعجاز، حبیب ندیم، وحید مراد، شاہد، محمد علی مرحوم، طارق شاہ مرحوم، آصف خان، آغا طالش مرحوم، بیدار بخت مرحوم، لیاقت میجر، یوسف خان مرحوم،مصطفی قریشی سمیت دیگر کے ہمراہ کام کیا اور تمام فنکاروں کو ہمیشہ عزت اور احترام دیا۔بدر منیر10اکتوبر2008ء کو دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی باتیں، یادیں آج بھی فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں۔ ان کے دوست آصف خان انہیں شدت سے یاد کرتے ہیں۔ بدر منیر پشتو فلموں کے لیجنڈ اور منفرد فنکار تھے۔ زمانہ بوسول انہیں یاد رکھے گا۔ آج تک ان کا نعم البدل ہیرو پشتو فلموں کو نہ مل سکا خدا مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے کہاں گئے ایسے لوگ !! اب شہروں شہروں ڈھونڈے گا زمانہ

مزید : ایڈیشن 2


loading...