جنس تبدیل کرنے پر بھارتی نیوی نے اہلکار کو برخاست کر دیا

جنس تبدیل کرنے پر بھارتی نیوی نے اہلکار کو برخاست کر دیا

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی نیوی نے اپنی جنس تبدیل کرانے والے ایک اہلکار کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیوی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اہلکار کی جانب سے مستقل طور پر جنس کی تبدیلی کے بعد محکمے کے قوائد و ضوابط اسے نوکری جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتے۔سابی نامی یہ اہلکار جن کا اس سے قبل نام منیش گیری تھا، کا کہناتھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف فوجی عدالت میں اپیل دائر کریں گی۔اس واقعے کے بعد انڈیا میں ایک بار پھر ٹرانسجینڈر افراد کے حقوق کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔خیال رہے کہ انڈیا میں ٹرانسجینڈر افراد کو قانونی طور پر تیسری جنس کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔سابی نے 2010 میں انڈین نیوی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انھوں نے گذشتہ برس نوکری سے چھٹّی کے دوران جنس کی تبدیلی کا آپریشن کروایا تھا۔انھوں نے الزام لگایا کہ جب وہ نوکری پر واپس آئیں تو انھیں پانچ ماہ تک ایک نفسیاتی وارڈ تک محدود رکھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں رہنے کے مترادف تھا۔انڈین نیوی کی جانب سے ان الزامات کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...