سائنسدانوں کو فاقہ کشی سے بچنے اور پانی کی قلت دور کرنے کیلئے ’’مسیحا پودوں‘‘کی تلاش

سائنسدانوں کو فاقہ کشی سے بچنے اور پانی کی قلت دور کرنے کیلئے ’’مسیحا ...

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)ہماری زندگی پیڑ پودوں سے گھری ہوئی ہے ان کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ہم انھیں کھاتے ہیں، پہنتے ہیں اور گھروں کی تعمیر میں استعمال کرتے ہیں۔ بیماریوں کے علاج سے لے کر گھر کی آرائش اور تحائف دینے تک میں ان کا استعمال ہوتا ہے۔لیکن سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہم اب تک پیڑ پودوں کا مکمل طور پر استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔ برطانیہ میں قائم بوٹینیکل گارڈن میں محققین پودوں کی ایسی خاصیت تلاش کر رہے ہیں جن سے انسانی زندگی بہتر ہو سکے۔اب پودوں کی مدد سے، خشک سالی، سیلاب اور جنگل کی آگ سے نمٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ فاقہ کشی سے بچنے اور پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے سائنسدان 'مسیحا پودوں' کی تلاش میں ہیں۔ہم جس قسم کی فصلیں اگاتے ہیں ان کی جنگلی یا خودرو اقسام بھی دنیا میں موجود ہیں۔بوٹینیکل گارڈن میں اسی مناسبت سے 'فصلوں کے جنگلی رشتہ داروں' کی تلاش جاری ہے۔ یہ جنگلی اقسام کیڑوں، بیماریوں اور پانی کی قلت کے حساب سے خود کو ڈھال چکے ہیں یا یہ کر? ارض کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حساب سے خود کو ڈھال چکے ہیں۔ اس لیے ان کی تمام خوبیاں ہمارے کام آ سکتی ہیں۔سائنسدان یہ چاہتے ہیں کہ مشکلات پر فتح پانے والے ان پودوں کے خواص ان کے رشتہ دار پودوں میں ڈال دیے جائیں جنھیں ہم کاشت کرتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق آج علاج میں 28 ہزار پودوں کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان پودوں میں سے صرف 16 فیصد کا ذکر ملتا ہے۔پودوں یا جڑی بوٹیوں پر مشتمل دواؤں کا دنیا بھر میں تقریباً 83 ارب ڈالر کا کاروبار ہے۔

۔ دنیا بھر میں قدرتی طریقہ علاج دن بدن مقبول ہو رہا ہے۔ جرمنی میں 90 فیصد لوگ پودوں پر مشتمل دوائیں استعمال کرتے ہیں جن میں لہسن، ادرک، لونگ وغیرہ شامل ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...