شجاع آباد‘ متوقع انتخابات کیلئے جوڑ توڑ شروع‘ لیگی ارکارن اسمبلی میں چپقلش نمایاں

شجاع آباد‘ متوقع انتخابات کیلئے جوڑ توڑ شروع‘ لیگی ارکارن اسمبلی میں چپقلش ...

شجاع آباد (نمائندہ خصوصی)متوقع عام انتخابات سیاسی جوڑ توڑ شروع سابق رکن قومی اسمبلی نواب لیاقت علی خا ن سے لیگی وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ کی ملاقات کے بعد نواب لیاقت علی خان کی بھی تحریک انصاف کے مرکزی رہنما محمد ابراہیم خان سے بھی ملاقات سیاسی صورتحال بارے تبادلہ خیال (بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ نواب لیاقت علی خان تحریک انصاف کو سپورٹ کریں گے گزشتہ انتخابات میں نواب لیاقت علی خان اور اس کے گروپ کی سپورٹ سے سید جاوید علی شاہ لیگی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور منتخب ہوتے ہی نواب لیاقت علی خان کے سیاسی ورکروں کو دیوار سے لگائے رکھا جس سے نواب لیاقت علی خان کا گروپ سید جاوید علی شاہ سے سخت نالاں ہیں جس سے سید جاویدعلی شاہ کی ملاقات بے سود رہی دوسری جانب سید جاوید علی شاہ کے تینوں ایم پی ایز رانا اعجاز نون، رانا طاہر شبیر،محمد علی کھوکھر بھی سیاسی چپقلش جاری ہے یہ تینوں لیگی ایم پی ایز ہونے والے متوقع عام انتخابات میں نواب لیاقت علی خان کواین اے 152سے (ن) لیگ کا ٹکٹ دلوانے کیلئے سر گرم ہیں جبکہ وفاقی وزیر سید جاوید علی شاہ نے اپنے راستہ سے رکاوٹ ختم کرنے کیلئے نواب لیاقت علی خان کو آفر کرکے رام کرنے کا کوشش کی گئی نواب لیاقت علی خان اس وقت تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں حلقہ این اے 152سے متوقع عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ، تحریک انصاف کے محمد ابراہیم خان،(ن) لیگ کے سید جاوید علی شاہ، سرائیکی پارٹی سے ملک اللہ نواز وینس ، اور اسی این اے حلقہ سے سابق رکن قومی اسمبلی نواب لیاقت علی خان بھی متوقع امیدوار ہیں جو ابھی سیاسی حالات کے منتظر ہیں سیاسی حلقوں میں تا ثر ہے کہ این اے 152 سے سید یوسف رضا گیلانی کے الیکشن لڑنے کی صورت میں سید جاوید علی شاہ مدمقابل نہیں ہوں گے اور ان کی ترجیح پی پی 204سے سید مجاہد علی شاہ کو الیکشن لڑانا ہے تا ہم ان کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے جبکہ اسی پی پی حلقہ 204سے (ن) لیگ کے رانا اعجاز احمد نون امیدوار ہیں جو گزشتہ 2013کا الیکشن (ن) لیگ کے پلیٹ فارم سے سید مجاہد علی شاہ ، رانا سہیل احمد نون کے مدمقابل لڑ کر جیت چکے ہیں رانا اعجاز نون ا س وقت (ن) لیگ میں ایک خاص اہمیت حاصل کر چکے ہیں اس وقت پی پی 204میں (ن) لیگ کے اعجاز نون، رانا سہیل نون، سید مجاہد علی شاہ ، میاں ساجد بودلہ، جبکہ پی پی 203سے (ن) لیگ کے رانا طاہر شبیر، رانا اشتیاق، میاں عرفان مڑل، تحریک انصاف کے میاں طارق عبداللہ،پی پی پی کے میا ں کامران مڑل،عبدالقدیر خان عرف افسر خان چاکرانی متوقع امیدوار ہیں پی پی 199سے پی پی پی کے سید ناظم شاہ، (ن) لیگ کے محمد علی کھوکھر، تحریک انصاف کے خالد کھوکھر، طاہر کھوکھر، مونی شاہ بھی متوقع امیدوار ہیں مگر تا ہم این اے 152 میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ، سرائیکی پارٹی کے امیدوارحصہ لیں گے مگر تاہم کچھ سیاستدان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے سیاسی حالات کے منتظرہیں اور اس ضمن میں سیاسی قیادتوں سے خفیہ رابطہ رکھا ہوا ہے ۔

جوڑ توڑ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...