عدالتی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی بہتر ی کیلئے وکلاء کاتعاون درکارہے،جسٹس علی اکبر

عدالتی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی بہتر ی کیلئے وکلاء کاتعاون درکارہے،جسٹس علی اکبر

لاہور(نامہ نگارخصوصی ) لاہور ہائی کورٹ کے آئی ٹی سسٹم کے انچارج مسٹرجسٹس علی اکبر قریشی نے کہا ہے کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے، آئی ٹی کا علم نہ رکھنے والا کوئی بھی شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ گزشتہ روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات پرزیر التواء مقدمات کا فزیکل آڈٹ کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ مینوئل نظام کی وجہ سے بہت سارے مقدمات سالہاسال سے زیر التواء تھے۔سائلین اور وکلاء کی پریشانیوں کے پیش نظر مینوئل نظام کو ختم کرتے ہوئے جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم لایا گیا ہے۔فاضل جج نے کہا کہ ہرنئے نظام میں شروع شروع میں مسائل ہوتے ہیں لیکن ہماری25 سے 30 افراد پر مشتمل آئی ٹی ٹیم نے بہت کم وقت میں سسٹم میں موجود خامیوں کو درست کیا ہے اور وکلاء کی جانب سے آنے والی شکایات 75 فیصد تک کم ہوئی ہیں لیکن ہم ان تمام شکایات کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے وکلاء کاتعاون درکارہے۔

جسٹس اکبر

مزید : علاقائی


loading...