مسلم لیگ (ن) کی تقسیم کیسے؟

مسلم لیگ (ن) کی تقسیم کیسے؟

کراچی میں چلنے والی سمندر ی ہواتو قدرتاً بند ہے تو جی ٹی روڈ پر چلنے والی سیاسی ہوا شل ، بوجھل اور غصے سے بھرپور ہونے کے باوجود بند ہے اورلگتا ہے کہ پورے پاکستان کی سیاسی ہواا سمٹ کرخیبر پختونخوا میں اکٹھی ہو گئی ہے ۔جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تو وہاں سیاسی ہوا پیپلز پارٹی کے حق میں چل تورہی ہے مگر بے فائدہ ہے کہ اگر اسے پنجاب کی سیاسی ہوا میں سانس لینے کا موقع نہ ملا تو سندھ سے بھی دیس نکالا مل جائیگا۔ایسے میں بلوچستان میں چلنے والی سرکش اور علیحدگی پسند ہوا کی آرمی چیف کے سوا کسی کو فکر نہیں ہے۔

نواز شریف کے خلاف مقدمات، نواز شریف کے خلاف میڈیا، نواز شریف کے خلاف عدلیہ، نواز شریف کے خلاف عوامی حلقے، نواز شریف کے خلاف پی ٹی آئی، نواز شریف کیخلاف پیپلز پارٹی، نواز شریف کے خلاف رینجرز، نواز شریف کے خلاف ریاض پیرزادہ، نواز شریف کے خلاف چوہدری نثار، نواز شریف کے خلاف شہباز شریف ، نواز شریف کے خلاف حمزہ شہباز، یوں کہئے کہ یہ نواز شریف مخالف دور ہے ، پیپلز پارٹی تواس قدر نالاں ہے کہ نواز شریف کو یہ بھی نہیں کہنے دے رہی کہ بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا کیونکہ یہ کہنے کے بعد وہ اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ عدالتی زیادتی کا راگ چھیڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔

دوسری جانب عمران خان ہیں جو نواز شریف کے مخالف، نون لیگ کے مخالف، آصف زرداری کے مخالف، پیپلز پارٹی کے مخالف، نیب کے مخالف، نیب چیف کے مخالف، الیکشن کمیشن کے مخالف، چیف الیکشن کمشنر کے مخالف، اگر نہیں ہیں تو آرمی، سپریم کورٹ کے مخالف نہیں ہیں۔خاص طور پر سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کے حق میں تو سب سے بڑھ کر ہیں جنھوں نے نوازشریف کو نکالا!....عمران خان کے حامیوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ سچے ان کا لیڈر سچا، باقی سارا جہان جھوٹا !

آصف زرداری سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کاکریڈٹ یہی ہوگاہے کہ وہ نواز شریف اور عمران خان کو ڈس کریڈٹ ثابت کردیں، لیکن زرداری کی سیاست بھی ٹی وی کیمروں سے خطاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، عوامی جلسے ، عوامی جلوس ، لڈی ہے جمالو اور دما دم مست قلندر اب پیپلز پارٹی کا خاصہ نہیں رہا ہے ، اب یہ عمران خان کا خاصا سمجھا جاتا ہے ، تبھی تو وہ ہر آن سڑکوں پر آنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

نون لیگ البتہ کبھی سڑکوں کی سیاست کی حامی نہیں رہی ہے ، نواز شریف ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ چلنے والے ایسی سیاست کو گالی سمجھتے ہیں جس میں مخالف کو گالی دینا پڑے ، کبھی یہ سیاست پیپلز پارٹی کا خاصہ تھی ، اب پی ٹی آئی کا ہے ۔ اس لئے آصف زرداری سیمولیٹر میں بیٹھ کر سیاست کے مزے لے رہے ہیں ، عوام سے ان کا رابطہ کٹ چکا ہے کیونکہ عوام ان سے کٹ چکے ہیں ، جیالے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں بٹ چکے ہیں ، اگر حلقہ 120پورے ملک میں دہرادیا گیا تو اگلا الیکشن نون لیگ یا پی ٹی آئی میں سے کسی کا بھی ہو ، کم از کم پیپلز پارٹی کا نہیں ہوگا۔

لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست بعد از نواز شریف صورت حال میں ایڈجسٹ ہونے کے مرحلے سے گزر رہی ہے ۔ نون لیگ کے مطابق 2018میں نواز شریف کی دوبارہ واپسی ہوگی ، جب کہ مخالفین انہیں ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ چکے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب وزیر خزانہ اسحٰق ڈار مستعفی ہوں۔ ان حلقوں کو نواز شریف کے دوبارہ نون لیگ کے صدر بننے پر بھی سخت اعتراض ہے مگر یہ حلقے خاموش اس لئے ہیں کہ سپریم کورٹ سے ممکنہ نااہلی پر قانون میں کی گئی تبدیلی سے عمران خان بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔

بعد ازنواز سیاست بھی نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے ، سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد ان کی پارٹی نے اپنی صدارت کے لئے انہیں اہل بنالیا ہے ،اب وزارت عظمیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس اثناء میں نون لیگ میں تقسیم کی باتیں عام ہیں ، ہر کوئی منتظر ہے کہ کب نون لیگ سے ایک دھڑا علیحدہ ہو اور پھر نون لیگ کا بحیثیت سیاسی جماعت کے دھڑن تختہ ہو جائے۔ حیرت یہ ہے کہ میڈیا پر کھلے بندوں بات ہوتی ہے کہ نون لیگ کو بہت جلد تقسیم کردیا جائے گا، ان سے پوچھیں کہ کون کرے گا تو ہنس کر کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں۔ اس اعتبار سے جی ایچ کیو کا پاکستانی سیاست میں عمل دخل جزو لاینفک بن چکا ہے ، ایسا ہے تو نواز شریف کی تجویز پر ایک گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز ہونا چاہئے اور فوج کے سیاسی کردار کا تعین کیا جائے،اس بات کا تعین کیاجائے کہ ریاست پاکستان کے کون کون سے امور میں فوج براہ راست سٹیک ہولڈر کے طور پر کردار ادا کرے گی اور کون کون سے ایریاز اس کے لئے نو گو ایریاز ہوں گے ۔اگر قوم کا ایک حصہ فوج کے سیاسی کردار پر بضد ہے تو اسے قانونی اور آئینی شکل دینی چاہئے تاکہ ہماری اعلیٰ عدالتیں ہر دس برس بعد بدنامی کمانے سے محفوظ رہ سکیں ۔

مزید : کالم


loading...