ماہانہ اربوں ٹیکس کٹوتی کے باوجود لاکھوں ملازمین رجسٹریشن سے محروم

ماہانہ اربوں ٹیکس کٹوتی کے باوجود لاکھوں ملازمین رجسٹریشن سے محروم

ملتان( طارق انصاری ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر )کی اعلیٰ افسر شاہی کی غفلت کا شاخسانہ ملتان سمت ملک بھر کے وفاقی و صوبائی اداروں سمیت پرائیویٹ سیکٹر کے لاکھوں(بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ انکم ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کی ٹیکس کٹوتی لیکن یہ لاکھوں ملازمین ٹیکس نیٹ میں رجسٹریشن سے محروم ہیں‘ جس کے باعث یہ لاکھوں ملازمین جو مجموعی تنخواہ سے انکم ٹیکس کی کٹوتی کروا رہے ہیں ‘ وہ ڈبل ٹیکسیشن کا شکار بھی ہو رہے ہیں ‘ جس میں یوٹیلٹی بلز ‘ علاج معالجہ ‘ مواصلاتی اخراجات سمیت بیسیوں سہولیات کی مد میں ٹیکس رجسٹریشن این ٹی این کے عدم اجراء کے باعث ٹیکسیشن کا شکار ہیں اور ایف بی آر سے ریفنڈز لینے سے محروم ہیں ‘ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھرکے وفاقی و صوبائی اداروں سمیت پرائیویٹ سیکٹر کے 80 فیصد سے زائد ملازمین ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ نہیں ہیں‘ تاہم ان کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کی مد میں کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے اور ٹیکس کٹوتی کے ماہانہ اربوں روپے کا مصرف کیا ہے اور انہیں کیا شناخت دی جا رہی ہے ایک ایسا معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بزنس کمیونٹی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے بارہا آگاہی مہم کے حوالے سے سیمینار منعقد کیے ہیں ‘ لیکن جن ملازمین کی تنخواہوں سے سالہاسال سے انکم ٹیکس کٹوتی کی جا رہی ہے ان کی رجسٹریشن کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور نہ ہی ان اداروں کے سربراہوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ہے ‘ سرکاری اورپرائیویٹ اداروں کے لاکھوں ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ اربوں روپے کی کٹوتی میں خود برد کے خدشات کے پیش نظر ایف بی آر کی جنب سے تمام سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے افسران و ملازمین کی تنخواہوں سمیت تمام کوائف طلب کر لیے ہیں‘ ایف بی آر کا یہ عمل ان خدشات پر مہر ثبت کرنے کے مترادف ہے کہ ایف بی آر کے پاس ان لاکھوں ملازمین کا ڈیٹا موجود نہیں ہے‘ اس انکشاف نے ملازمین کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کٹوتی اور ایف بی آر میں ادائیگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ انکم ٹیکس کی مد میں وصول کیے جانیوالے اربوں روپے ایف بی آر تک پہنچ بھی پا رہے ہیں ۔

ایف بی آر غفلت

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...