سرکاری کالجوں کے کمپیوٹر سنٹروں سے جعلی ایم سی ایس ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف

سرکاری کالجوں کے کمپیوٹر سنٹروں سے جعلی ایم سی ایس ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف

ملتان (سٹاف رپورٹر )ایم سی ایس کی جعلی ڈگریاں جاری کرنے والے گروہ کے خلاف کارروائی ٹھپ ہو کررہ گئی ۔سیکڑوں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو گیا۔تفصیل کے مطابق 2000میں حکومت پنجاب نے کالجز میں کمپیوٹر سنٹرز کے قیام کا اعلان کیا جو صرف کمپیوٹر کورسز کرا سکتے تھے۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ( حالیہ ایمرسن کالج) ملتان میں حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرنسپل گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ڈاکٹر محمد احسان کے بطور نمائندہ ہائر ایجوکیشن(بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

حکومت پنجاب اور خالد محمود قریشی ایم ڈی پریسٹن کمپیوٹرز علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت پرائیویٹ پارٹی 2013تک کمپیوٹر سنٹر چلاتی رہی ۔کمپیوٹر سنٹر پرائیویٹ پارٹی قانونی معاہدے کے تحت کمپیوٹر کے شارٹ کورسز کرانے اور صرف اسی سے متعلقہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی مجاز تھی اور کسی یونیورسٹی سے الحاق کے بغیر اس کے علاوہ کوئی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر سکتی تھی ۔ یہ کمپیوٹر سنٹرز گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان ‘گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ملتان کے ساتھ ساتھ دیگر کالجز میں بھی قائم کئے گئے اور6ماہ کے شارٹ کورس میں صرف ایک کالج میں تقریباً 100طلبہ داخل کئے گئے مگر ڈاکٹر احسان اور خالد قریشی کی معاونت سے کمپیوٹر سنٹرز پرپرائیویٹ پارٹی کی طرف سے خلاف ورزی کرتے ہوئے ماسٹر سطح کے کورسز ( ایم سی ایس) کرانے اور ایم سی ایس کی سیکڑوں جعلی ڈگریاں جاری کر دی گئیں۔انکشاف اس وقت ہوا جب ایک طالب علم محمد قیصر مصطفی کو جعلی ڈگری کی بنا پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ۔ قیصر کو جاری کیا گیا سرٹیفکیٹ نمبر بی ۔1۔0068ماسٹر لیول کا ہے ۔ اس فراڈ میں خالد محمود قریشی ایم ڈی پریسٹن کمپیوٹرز علامہ اقبال ٹاؤن لاہور‘عبدالرزاق ارشد پروفیسر آف کیمسٹری ( حال ریٹائر) ایمرسن کالج ‘ محمد عثمان سابق کنٹرولر امتحانات (حال تعینات ایسوسی ایٹ پروفیسرآف سیاسیات ) ایمرسن کالج ملتان شامل ہیں ۔ متاثرہ قیصر مصطفی کی درخواست پر پرنسپل گورنمنٹ ایمرسن کالج ڈاکٹر محمد سلیم نے25ستمبر 2017کو تھانہ بی زیڈ یو میں ایف آئی آر بحوالہ رپٹ نمبر14درج کرائی لیکن تاحال کسی ملزم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ مدعی قیصر مصطفی کے مطابق وہ تھانے کے چکر پر چکر لگانے پر مجبور ہے مگر پولیس کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ قیصر مصطفی نے اعلی ٰحکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزموں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ایم سی ایس کی جعلی ڈگریاں جاری کرنے کے عوض فیس کی مد میں لئے گئے لاکھوں روپے بھی واپس دلوائے جائیں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...