کسی نے دیانت داری پر انگلی اٹھائی تو عہدہ چھوڑ دوں گا ، شریف خاندان کے مقدمات میرٹ پر چلیں گے ، معافی یا سزا سب قانون کے مطابق ہو گی : چیئر مین نیب

کسی نے دیانت داری پر انگلی اٹھائی تو عہدہ چھوڑ دوں گا ، شریف خاندان کے مقدمات ...
 کسی نے دیانت داری پر انگلی اٹھائی تو عہدہ چھوڑ دوں گا ، شریف خاندان کے مقدمات میرٹ پر چلیں گے ، معافی یا سزا سب قانون کے مطابق ہو گی : چیئر مین نیب

  


اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228اے این این )قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شریف خاندان پر مقدمات میرٹ پر چلیں گے،معافی ہوئی یا سزا سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔ توقعات قانون کے مطابق رکھی جائیں، خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتا۔کسی نے میرے کردارپر انگلی اٹھائی تو عہدہ چھوڑ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں پراسیکیوشن کی مانیٹرنگ خود کروں گا، یقین دلاتاہوں پاناما کیس میں خامیاں دورکروں گاعہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں شرکت کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا قانون کے مطابق ہرممکن کام کروں گا، کسی کو معافی ملے یا سزا ہو سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔انھوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے میری تقرری کو تسلیم کیا جنہوں نے نہیں کیا انہوں نے کہا کہ کڑی نظر رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تھا تو میں نے کہا تھا انصاف سب کے لیے، اب میں کہتا ہوں احتساب سب کے لیے، کسی کو بھی شکایت نہیں ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ابھی صرف چارج سنبھالا ہے کوئی بریفنگ نہیں لی، آئندہ ایک دو روز میں بریفنگ لوں گا اور اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو میں کسی دبا ؤمیں ہوں اور نہ ہی میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہے، اس سے پہلے پرویز مشرف کا دباؤ بھی برداشت کرچکا ہوں،اس سے بڑا دبا ؤکوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ میں نیب کے اندر بڑی تبدیلیاں دیکھیں گے جب کہ شریف خاندان کے خلاف استغاثہ کی خود مانیٹرنگ کروں گا۔ ان سے سے لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہا، لاپتہ افراد کمیشن میں 3 سال بہت محنت کی ہے، اس کی رپورٹ حتمی مرحلے میں ہے، اب اس رپورٹ کو انجام تک پہنچا کر ہی کمیشن کی سربراہی چھوڑوں گا ،پھر پوری توجہ نیب پر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی معاملے کو التوا کا شکارنہیں بننے دیں گے، ایبٹ آباد کمیشن کا نتیجہ نکلا اب نیب کیسز کا بھی نکلے گا۔اسامہ بن لادن کمیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیرمین نیب نے کہا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کمیشن کا نتیجہ نکال کر دے دیا تھا اب حکام کا کام ہے اس پر کام کریں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیں گے۔جاوید اقبال نے کہا کہ قانون کے مطابق کام کرتے ہوئے اپنی بہترین قابلیت کو بروئے کار لائیں گے اور انشااللہ نیب کیسز کا بھی نتیجہ نکلے گا۔ چیئرمین نیب قمر زمان چو دھری مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہو گئے ہیں اور جسٹس(ر) جاوید اقبال نے نئے چیئرمین نیب کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔قومی احتساب بیورو آٖفس پہنچنے پر نیب کے عملے نے ان کا استقبال کیا۔واضح رہے کہ جسٹس(ر)جاوید اقبال کی تقرری 4 سال کے لئے کی گئی ہے ۔

چیئر مین نیب

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228 نیوز ایجنسیاں)لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اعدادو شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ، اس حوالے سے ماما قدیر کی 25 ہزار افراد کی فہرست جھوٹ پر مبنی ہے۔سینیٹر نسرین جلیل کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیرمین نیب اور لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بلوچستان میں گمشدہ افراد کے اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، صوبے میں ماما قدیرکو بہت پراجیکٹ کیا جاتا ہے، میں ان سے خود ملا، ماما قدیر سے پوچھا کہ آپ نے 25 ہزارافراد کا ذکر کیا ہے مجھے فہرست دے دیں۔جاوید اقبال نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئی ملکی ایجنسی نہیں جو کمیٹی میں پیش نہ ہوئی ہو، بلوچستان میں غیر ریاستی عناصر اور غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔ لوگوں کو بغیر کسی قانون کے حراست میں رکھنا ناقابل برداشت ہے، پاکستان کوئی بنانا ریاست نہیں کہ لوگوں کو لاپتہ کیا جائے، لاپتہ افراد کے 218 کیسزچل رہے ہیں اور بلوچستان کے صرف 15 کیسز کمیشن کے پاس ہیں جب کہ ہیومین رائٹس کونسل نے کہا کہ 723 لاپتا کیسز ہیں۔ 29 کیسز 90 کی دہائی کے ہیں جو سیٹل ہوچکے، انکوائری کمیشن کے پاس لاپتہ افراد کے 1386 کیس زیر التوا ہیں، اقوام متحدہ کی کمیٹی کے پاس پاکستان کے صرف 723 کیسز ہیں، 14 افغان بھی پاکستانی لا پتہ افراد میں شامل تھے، 14 افغان نیشنل ٹریس نہیں ہو سکے، ہیومن رائٹس کونسل سے کہا ہے کہ وہ افغان شہریوں کو پاکستان کے کھاتے میں نہ ڈالے۔جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کمیشن تمام صوبوں میں جاتا ہے، کمیشن کو قائم کرنے سے عوام کو اخراجات فری ادارہ ملا، لوگ بھاری فیسیں ادا نہیں کر سکتے۔ بلوچستان میں لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہے، ہمارے ہمسایہ ممالک بھی بلوچستان میں ملوث ہیں، اپنا گھر کمزور ہو تو ہمسائے گزرگاہ بنا لیتے ہیں۔ پوری زندگی پارلیمنٹ اور آئین کو اہمیت دی، پارلیمنٹ سپریم ہے ہمیشہ سپریم رہے گی، پارلیمنٹ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 359 سے 369 تک نظر ثانی کرنا ہو گی، لاپتہ افراد کمیٹی کی رپورٹ الماری میں نہیں جائے گی، کمیٹی حکومت سے سفارش کرے گی کہ رپورٹ عام کی جائے۔

لا پتہ افراد

مزید : صفحہ اول


loading...