سینیٹ ، پارلیمان کارکن بننے سے نا اہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے قانون کیخلاف قرار داد منظور

سینیٹ ، پارلیمان کارکن بننے سے نا اہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کے قانون ...

اسلام آباد (صباح نیوز،آن لائن) سینٹ نے پارلیمان کارکن بننے سے نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے قانون کے خلاف قرارداد پاس کرلی، سینٹ میں قراردادکے حق میں 52اور مخالفت میں 28ووٹ پڑے،قرارداد پی پی پی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے پیش کی بدھ کو سینٹ کا اجلاس چیرمین میاں محمد رضاربانی کی صدارت میں ہواجس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے قراد ادا سینٹ میں پیش کی جس میں کہاگیاہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس میں ایسا شخص جو پارلیمان کا رکن بننے کے لیے نااہل ہو وہ کسی بھی سیاسی جماعت کاسربراہ بن سکتاہے غیر منتخب فردسیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے ،جس نے پاکستا ن کی شہریت ترک کردی ہو ، عدالت نے اس کے بارے میں غیر صادق کا اعلان کیاہو، عدالت کی طرف سے نااہل کیا گیاہو، ایسا شخص پارلیمنٹ کی پالیسیوں پراثر اندازہوسکتا ہے اور پارلیمان سے باہر ر ہ کر فیصلے کراسکتا ہے اس سے پارلیمنٹ اس شخص کی یرغمال ہوجائے گی جو خود پارلیمنٹ کے اندر نہیں جاسکتا ہے یہ سینیٹ یہ قرارداد پیش کرتا ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کاممبر بنے کے لیے نااہل ہواور پارلیمنٹ کے ممبر ہوتے ہوئے نااہل کردیاگیا ہو وہ کسی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ہے۔سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہاکہ اپوزیشن اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ قرارداد پاس کررہی ہے اس کا کوئی فائد نہیں ہے اور نہ ہی اس سے قانون تبدیل ہو گا ایوان میں اس قرارداد کو پیش کرنے کی گنجائش نہیں ہے وزیر قانون زاہد حامدنے کہاکہ قانون بن چکا ہے اب اس قرارداد کو ایوان میں لانے کا کیا مقصدہے اس قراردادمیں مفروضوں پر بات کی گئی ہے اور یہ ہوامیں بات کرنے کے مترادف ہے یہ قرار داد پاس ہونے والے قانون کے خلاف بھی ہے ،بعد میں قرار داد کی منظوری کے لئے رائے شماری کرائی گئی اور یہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی۔اعتزاز احسن نے کہا کہ کالعدم تنظیموں سے رابطے رکھنے والے افراد کی لسٹ میں ظاہر کرنا قابل اعتراض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیوں کے ممبران پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو اس لسٹ کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تحقیقات کرے۔ بند کمرے میں کام کرنے والی کسی کمیٹی پر یقین نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لسٹ میں ہمارے ملک کے وزیر قانون کا نام بھی موجود ہے۔ جو کہ میری نظر میں قطعاً ایسے شخص نہیں جو دہشت گردوں سے رابطے میں ہوں۔

سینیٹ

اسلام آباد (این این آئی) چیئر مین سینٹ نے کہاہے کہ جمہوریت سے متعلق مواد تمام تربیتی اداروں میں نصاب کا حصہ ہونا چاہیے ٗ قائداعظم یونیورسٹی کے طلباء کی طرف سے ہڑتال کے معاملے کا نوٹس لیا جائے ۔ بدھ کو سینٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سعود مجید نے کہا کہ ہم اپنا مذاق خود بنوا رہے ہیں، جو قانون ہم خود بناتے ہیں اس کے خلاف ہم خود قرارداد پیش کر رہے ہیں۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں شہری تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے، میں نے اس حوالے سے قرارداد دی تھی اسے ایجنڈے پر لایا جائے۔ چیئرمین نے کہا کہ جمہوریت سے متعلق تمام تر تربیتی اداروں میں نصاب ہونا چاہیے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کئی دن سے بند ہے، طلباء ہڑتال پر ہیں، ان سے مذاکرات کئے جائیں تاکہ طلباء کے جائز مطالبات پورے ہو سکیں اور ان کا مسئلہ حل کیا جائے۔ چیئرمین نے قائد ایوان کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو دیکھا جائے۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ اگر کوئی پٹرولیم اتھارٹی بن رہی ہے تو اس میں صوبوں کو نمائندگی دی جائے، مردم شماری سے اعداد و شمار صوبوں کو نہیں دیئے جا رہے، سی سی آئی کا اجلاس نہیں بلایا جا رہا۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال کی حالت بہتر بنائی جائے۔ عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ غیر ملکی شہریوں کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا اس حوالے سے ہم نے مختلف عالمی معاہدے کر رکھے ہیں، پاک ترک سکولوں سے وابستہ لوگوں کو بغیر قانونی تقاضے پورے کئے ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نے یہ معاملہ سینٹ کی داخلہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

چیئرمین سینیٹ

مزید : صفحہ اول


loading...