جہانگیر ترین کے ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں فرق کیوں ہے ؟ چیف جسٹس

جہانگیر ترین کے ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں فرق کیوں ہے ؟ چیف ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن ) سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کی جو کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔دوران سماعت جہانگیر ترین کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ریفرنس لاہور ہائیکورٹ میں زیرالتوا ہے، سپریم کورٹ کی سماعت سے جہانگیرترین کے حقوق متاثر ہوں گے، ہم وہ ریفرنس واپس لے سکتے ہیں۔جہانگیر ترین کے وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا، اگر معاملہ کسی اور جگہ زیر التوا ہے تو بھی عدالت کو غور سے نہیں روکا جاسکتا۔عدالت نے جہانگیرترین کی نااہلی سے متعلق کیس میں ان کے وکیل سے تحریری معروضات طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت آج جمعرات تک ملتوی کردی دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا ہے، زرعی ٹیکس کے اطلاق پرکوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ جہانگیرترین کے الیکشن کمیشن اورایف بی آر کے گوشواروں میں فرق کیوں ہے؟بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمرعطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جہانگیرترین کی نااہلی کیلئے حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی،چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا ہے،زرعی ٹیکس کے قانون کی تشریح کرنے کی کوشش کروں گا، ہم ابھی زرعی ٹیکس کے قانون کی شق کے اطلاق کو سمجھ رہے ہیں۔زرعی ٹیکس کے اطلاق پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،قانون کا سیکشن 3 زرعی زمین سے آمدن پر ٹیکس عائد کرتا ہے،زمین لیزپر ہو یا ذاتی زرعی آمدن پر ٹیکس ہوگااس پر جہانگیرترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ زرعی ٹیکس کی ایک شق کیمطابق لیز کی زمین پرٹیکس مالک ادا کرتا ہے، پنجاب کی نسبت سندھ کا زرعی ٹیکس قانون زیادہ واضح ہے،مجموعی زرعی آمدن اور آمدن میں فرق ہوتا ہے اس جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیرترین کو لیز والی زمین پر ٹیکس دینا تھا،یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیز زمین پر ٹیکس اصل مالک دے گا اس پر سکندر بشیر نے کہا کہ اس طرح تو ایک زمین پر دوہرا ٹیکس چارج ہوگا، قانون کی نظر میں یہ درست نہیں ہے جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ زمین کا مالک اپنی آمدن پر، لیز زمین پر کاشتکار اپنی آمدن پر ٹیکس دے گا، 18 ہزار ایکڑ زمین سے بڑی آمدن ہوتی ہے، اس زمین پرٹیکس کیلکولیٹ کیا گیااس پرجہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ یہ ٹیکس کے معاملات متعلقہ فورم پر زیرالتوا ہیں، عدالت نے تشریح کی تو متعلقہ فورم پر میرے مقدمات پر اثر پڑے گا، عدالتی تشریح سے متعلقہ فورم پر ٹیکس کے معاملات متاثر ہونگے،، عدالت ٹیکس آڈٹ کے معاملات میں مداخلت نہ کرے، چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس قانون کی تشریح سے ہمیں کوئی فورم نہیں روکتا، الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کے گوشواروں میں فرق کیوں ہے؟ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت نااہلی کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے، الیکشن کمیشن میں بظاہر زرعی آمدنی چھپائی گئی، دیکھنا یہ ہے کہ لیز زمین کی آمدن کو ظاہر کیا گیا؟سکندر بشیر نے کہا کہ ایف بی آر کے گوشواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف کیا گیا،جہانگیرترین نے بدنیتی نہیں، نیک نیتی سے سب چیزیں ظاہر کیں۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ جہانگیرترین نے کتنا ٹیکس دیا، ہم نے کالا دھن زرعی آمدن سے سفید کرنے کا الزام کو دیکھنا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر معاملہ متعلقہ فورم پرزیرالتوا ہو تواس وقت کیا کیا جائے؟ کیا متعلقہ فورم سے فیصلے کا انتظار کیا جائے؟ کیا درخواستگزار متعلقہ فورم کا فیصلہ آنے پر دوبارہ نااہلی کیلئے عدالت سے رجوع کرے؟ ہمیں کیسے مطمئن کریں گے کہ لینڈ ہولڈنگ کا مطلب صرف ذاتی زمین ہے؟ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ الیکشن فارم میں مکمل آمدن پوچھی گئی ہے جو نہیں بتائی گئی، الیکشن فارم میں مکمل زرعی آمدن چھپائی گئی بعدازاں عدالت نے جہانگیرترین کے وکیل سے تحریری معروضات طلب کرتے ہوئے سماعت آج جمعرات تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول


loading...