شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف ملناچاہئے ،طاہر القادری

شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف ملناچاہئے ،طاہر القادری

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) سانحہ ماڈل ٹاؤن اوپن سیکرٹ ہے ،حکمران تاخیری ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں۔عدالت عالیہ سے ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کی استدعا ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا فیصلہ جلد سنایا جائے، حکمرانوں کے ایماء پر ان کے وکلاء قانونی دلائل کی آڑ میں عدالت کے فیصلوں کی تضحیک کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے گزشتہ روز عوامی تحریک کے وکلاء رہنماؤں کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ قانون شہادت آرڈر 1984 ء کے آرٹیکل 85 کے مطابق ٹربیونلز، عدالتی اور ایگزیکٹو کی کارروائی پبلک ڈاکومنٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ 2013 ء کے سیکشن 13 کے مطابق ایسی معلومات روکی جا سکتی ہیں جن کے اجراء سے قومی دفاع اور سکیورٹی کو خطرات لاحق ہوں، نقص امن کا خطرہ ہو یا بین الاقوامی تعلقات کے متاثر ہونے کا احتمال ہو مگر جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے،اس کے باوجود پنجاب حکومت تین سال سے جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ پبلک کرنے سے انکاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کے پبلک ہونے سے صرف حکومت میں بیٹھے ہوئے طاقتور قاتلوں کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہجسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ ایک پبلک ڈاکومنٹ ہے اور اسے حاصل کرنا شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کا آئین کے آرٹیکل 19-A کے تحت تسلیم شدہ بنیادی حق ہے جسے قاتل حکومت نے غصب کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء انصاف کے بنیادی حق کیلئے عدالت کی طرف دیکھ رہے ہیں ،انہیں بلاتاخیر انصاف دیا جائے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...