صفدر کو قادیا نی کے حساس موضوع پر تقریر نہیں کرنی چائیے تھی،رانا ثناء اللہ

صفدر کو قادیا نی کے حساس موضوع پر تقریر نہیں کرنی چائیے تھی،رانا ثناء اللہ

لاہور( ما نیٹر نگ ڈیسک)صوبائی وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے درست کہا کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے ،کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی ،احمدی خود کو نان مسلم ماننے کو تیار نہیں ،ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہیے ،یہ حساس موضوع ہے اور اسے بار بارمیڈیا پر بھی زیر بحث نہیں لانا چاہیے لیکن تقریر کے بعد گھٹیا پوائنٹ سکورننگ ہر گز نہیں کرنی چاہیے ،نوازشریف ووٹ اور اداروں کے تقدس کی بات کرتے ہیں ان کی ٹکراؤ کی سوچ نہیں ،وہ اپنے مقدمات کا سامنا کریں گے اور عدالت کے اندر اور باہر اپنا موقف رکھیں گے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا 100فیصد درست ہے کہ جہاد ریاست کا حق ہے ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ،جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے حوالے سے تقریر کے تناظر میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی ، اس کی ضرورت نہیں تھی اور اس بات کو ہمیں زیادہ ڈسکس کرنا اس لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کیمونٹی کے لوگ یہیں پاکستان میں ہی رہتے اور بستے ہیں ،ان کی حفاظت اور جان مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے ،ان کے متعلق ہمارے علما انہیں نان مسلم تسلیم نہیں کرتے اور اگر آپ انہیں تفصیل میں دیکھیں تو یہ بالکل وہ تمام عقائد جیسے ہماری نماز ہے ،روزہ ہے دوسری چیزیں ہیں یہ سب چیزوں پر عمل بھی کرتے ہیں ،یہ اپنی مساجد بھی بناتے ہیں ،ازان بھی دیتے ہیں صرف آکر اس پوائنٹ پر اختلاف کرتے ہیں تو اس لئے ان کے متعلق جو جذبات اور فتویٰ ہیں وہ بالکل الگ ہیں ،اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کو ہم ڈسکس کریں گے کہ انہیں فوج میں بھرتی کیا جانا چاہئے تو اس کا بھی بڑا ری ایکشن ہو گا ،اس لئے میرا خیال ہے کہ اس بات کو اتنی تفصیل میں جا کر ڈسکس نہ کریں کیونکہ ان کے بارے میں جو جذبات ہیں وہ اور زیادہ ابھریں گے اور یہ چیز اور زیادہ اشتعال کا باعث ہو گی۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ قادیانی خود کو نان مسلم قرار نہیں دیتے ،یہ اپنی مساجد میں اذان دیتے ہیں جبکہ علما کہتے ہیں کہ یہ مسجد بنا نہیں سکتے ،یہ نماز پڑھ نہیں سکتے ،یہ اذان نہیں دے سکتے ،اس قسم کی بہت زیادہ کمپلیکیشن ہیں ،اگر یہ معاملہ ڈسکس بھی ہونا ہے تو ایسے لیول پر ہونا چاہئے اس میں پوری قوم کو ملوث نہیں کرنا چاہئے ۔

رانا ثناء اللہ

مزید : صفحہ اول


loading...