ٹرمپ ایٹمی ہتھیاروں میں 10گنا اضافہ چاہتے ہیں ، این پی سی نیز کا دعویٰ ، رپورٹ غلط ، چینل بند ہونا چاہیے : امریکی صدر

ٹرمپ ایٹمی ہتھیاروں میں 10گنا اضافہ چاہتے ہیں ، این پی سی نیز کا دعویٰ ، رپورٹ ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)امریکہ کے سکیورٹی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کررہا ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ شمالی کوریا پر ایٹمی حملے کی تیاری میں مصروف ہے اگرچہ وہ اس امر کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ روکنے کے عالمی معاہدے ( ا ین پی ٹی) پر دستخط کرنیوالے ممالک میں شامل امریکہ مسلسل اپنے ایٹمی ذخیرے میں کمی کررہا ہے، اسلئے ان حلقوں نے ’’این بی سی نیوز‘ذ کے اس دعوے پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اب اپنے موجودہ ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں دس گنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں، اگر یہ اطلا ع درست ہے تو کیا وہ شمالی کوریا کو جارحانہ عزائم سے روکنے اور اس کی ایٹمی صلاحیت ختم کرنے کیلئے وہ ایٹمی حملہ کرنے کی خفیہ تیاری میں مصروف ہے۔صدر ٹرمپ نے ’’این بی سی‘‘ کی رپورٹ نشر ہونے کے فوراً بعد اپنے ایک پیغام میں اس کی سختی سے تردید کی ہے اور میڈیا کیساتھ ایک نیا محاذ کھولتے ہوئے کہا ہے اس چینل کا ’’لائسنس‘‘ منسوخ کردینا چاہئے، حالانکہ امریکہ میں ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کر نے کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ۔’’این بی سی نیوز‘‘ نے بدھ کی صبح یہ چونکا دینے والی رپورٹ نشر کی تھی کہ صدر ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل اپنے اعلیٰ ترین سکیورٹی مشیروں سے کہا تھا وہ اپنے ایٹمی ذخیرے میں دس گنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں، ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ملا قا ت کے وقت کمرے میں موجود تین حکام نے اسے یہ خفیہ اطلاع فراہم کی ہے۔ صدر ٹرمپ کو اس موقع پر ایٹمی ذخیرے کا چار ٹ دکھایا جارہا تھا جس کے مطابق 1960ء کے عشرے سے شروع ہوکر امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں میں بتدریج کمی ہورہی ہے، امریکی سائنسدانوں کی فیڈ ریشن کے مطابق تمام تر کمی ہونے کے بعد اسوقت بھی امریکہ کے ذخیرے میں تقریباً چار ہزار ایٹم بم موجود ہیں۔ ’’این بی سی نیوز‘‘ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے مشیروں سے یہ ملاقات 20 جولائی کو تھی جہاں موجود وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے خاص طور پر صدر کو بتایا تھا کہ قانونی اور عملی وجوہات کی بناء پر اس ایٹمی ذخیرے میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ چینل نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو ’’بیوقوف‘‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے یکم جو لا ئی 1968ء میں اس وقت کی تمام ایٹمی طاقتوں سمیت 190 ممالک نے ایٹمی ذخیرے میں تخفیف کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جو 5 مارچ 1970ء میں موثر ہوا تھا۔معاہدے پر بھارت، اسرائیل، شمالی کوریا، جنوبی سوڈان اور پاکستان نے دستخط نہیں کئے۔

این بی سی نیوز

مزید : صفحہ اول


loading...