شیشے کے پل پر تھری ڈی افیکٹ،سیاحوں کے اوسان خطا ہوگئے

شیشے کے پل پر تھری ڈی افیکٹ،سیاحوں کے اوسان خطا ہوگئے
 شیشے کے پل پر تھری ڈی افیکٹ،سیاحوں کے اوسان خطا ہوگئے

  


بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین دنیا کا وہ ملک ہے جہاں شیشے سے بنے پلوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ان کی بلندی اس قدر زیادہ ہے کہ اس پر چلنے والوں کے رونگٹے ضرور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان پلوں میں ایک اور اضافہ شمالی چین میں واقع ہیوبی صوبے میں بنایا جانے والا ’’ایسٹ تائی ہانگ‘‘ پل ہے جو 3 ہزار 800 فٹ بلند ہے اور اس پر چلنے والے سیاحوں کے اس وقت اوسان خطاء ہو گئے جب ان کے قدموں کے نیچے موجود شیشوں پر دراڑیں پڑ گئیں اور سب کی اپنی جان کے لالے پڑے گئے۔اس پل پر چلنے والے ایک سیاح کے قدموں کے عین نیچے موجود شیشے میں دراڑیں پڑنے کا عمل شروع ہو کر آگے بڑھا تو وہ چیخنے چلانے لگا اور پل پر لیٹ سا گیا۔ وہاں موجود دیگر لوگ بھی شدید پریشان ہو گئے مگر یہ پریشان اس وقت حیرت اس وقت سکھ میں بدل گئی جب یہ پتہ چلا کہ چین نے سیاحوں کو مزید ’’لطف اندوز‘‘ کرنے کیلئے اس پر لگے شیشوں میں 3D افیکٹ شامل کئے ہیں۔اس پل میں حرکت کا پتہ چلانے کیلئے انفراریڈ سینسر نصب کئے گئے ہیں اور اس کے علاوہ اس میں ساؤنڈ افیکٹ بھی شامل کئے گئے ہیں تاکہ جب دراڑوں والا افیکٹ ظاہر ہو تو اس کیساتھ ایسی آوازیں بھی آئیں کہ جیسے واقعی شیشہ کریک ہو رہا ہے اور یہ جلد ٹوٹنے والا ہے۔سیاحوں کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ دراڑوں والا افیکٹ صرف پل کے آخر میں لگے شیشوں میں ہی شامل کیا گیا ہے اور اس کا ’’شکار ‘‘ ہونے والے سیاح کوشش کر کے بھاگ کر پل سے گزر جاتے ہیں لیکن اگر یہی افیکٹ پل کے درمیان میں شامل کر دیا جاتا تو کسی نہ کسی سیاح کو ہارٹ اٹیک ضرور آ جاتا۔

مزید : صفحہ اول


loading...