جنرل پرویز مشرف نے 2002ء کے الیکشن سے پہلے عوامی نمائندگی کا قانون تبدیل کیا

جنرل پرویز مشرف نے 2002ء کے الیکشن سے پہلے عوامی نمائندگی کا قانون تبدیل کیا

تجریہ: قدرت اللہ چودھری

12 اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر گرفتار کیا تو ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ وہ قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط کر دیں۔ اگر نواز شریف دستخط پر مان جاتے تو یہ ایڈوائس صدر مملکت (اس وقت صدر رفیق تارڑ تھے) کو پیش کر دی جاتی، جو 48 گھنٹے کے اندر اس پر عمل کرنے کے آئینی طور پر پابند تھے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو قومی اسمبلی یہ مدت گزرنے کے بعد خود بخود تحلیل ہو جاتی۔ ایسا ہو جاتا تو جنرل پرویز مشرف کے لئے اپنے منصوبے کے اگلے مراحل آسان ہو جاتے، لیکن نواز شریف نے ایسی کوئی ایڈوائس دینے یا وزارت عظمیٰ سے استعفا دینے سے انکار کر دیا تو پھر انہیں اپنے پلان پر نظرثانی کرنا پڑی۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی بار یہ بات کہی تھی کہ نواز شریف نے مجھے دھکا دیا جواب میں، میں نے انہیں دھکا دے دیا۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ ہے کہ اگر نواز شریف دھکا نہ دیتے تو کیا پھر وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریز کرتے؟ اس کا جواب جنرل پرویز مشرف کے ایک ساتھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب ’’یہ جرم خاموشی کب تک‘‘ میں دیا ہے، جو جنرل (ر) پرویز مشرف کے دعوے کی توثیق نہیں کرتا۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ جو کچھ پرویز مشرف نے کیا وہ تو ہونا ہی تھا اور اس کے لئے پہلے سے تیاری تھی۔ گویا وہ ’’دھکے‘‘ والی تھیوری سے اتفاق نہیں کرتے یعنی ’’دھکا‘‘ نہ بھی دیا جاتا تو بھی جنرل پرویز مشرف نواز شریف کو ہٹانے پر تلے ہوئے تھے، البتہ پھر یہ علیحدگی کسی اور طریقے سے ہوتی۔ جنرل (ر) شاہد عزیز بھی محرم راز تھے، اس لئے ان کی معلومات کو جھٹلانا آسان نہیں ہے، لیکن ہم بات شروع کرتے ہیں 2002ء کے انتخابات سے، جو انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم سے کرائے۔ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی بن مانگے دے دیا۔ چنانچہ انہوں نے الیکشن سے پہلے بہت سی آئینی ترامیم کیں اور الیکشن کے ضابطے بدلے، جن کا مقصد سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا کہ اپنی مرضی کے ’’مثبت نتائج‘‘ حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے رکن کے لئے ضروری قرار دے دیا کہ وہ گریجوایٹ ہو، اس شرط کا نتیجہ یہ ہوا کہ سو کے لگ بھگ متوقع امیدوار انتخاب لڑے بغیر ہی انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے، اس شرط کا مقصد بھی یہی تھا۔ گویا ہینگ لگی نہ پھٹکری اور بہت سے ’’ناپسندیدہ‘‘ سیاستدان الیکشن لڑنے کے نااہل ٹھہرے۔ بہت سے دوسرے اقدامات بھی کئے گئے، نواز شریف کی مسلم لیگ کے دو ٹکڑے کئے گئے، جس ٹکڑے نے نواز شریف کی محبت کا دم بھرنے پر اصرار کیا وہ ہار گیا اور دوسرا ٹکڑا جیت گیا جس کے صدر پہلے تو میاں محمد اظہر تھے، لیکن الیکشن ہارنے کے بعد ان کا منصب بھی چودھری شجاعت حسین کے حصے میں آگیا، جو آج تک صدر ہیں اور کسی نے ان سولہ برسوں میں ان کی قیادت کو چیلنج نہیں کیا۔ پرویز مشرف کی البتہ خواہش تھی کہ انہوں نے جو مسلم لیگ تخلیق کروائی تھی، اقتدار سے علیحدگی کے بعد اس کی صدارت کا تاج ان کے سر پر سج جاتا لیکن یہ نہ ہوسکا۔ چنانچہ انہیں اپنی ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ بنانی پڑی، جس کے وہ آج تک صدر ہیں، حالانکہ وہ تاحیات الیکشن لڑنے کے نااہل قرار پائے ہیں۔ نااہل نواز شریف کی صدارت پر تو اعتراضات جڑے جا رہے ہیں، لیکن ان کے حوالے سے کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا جا رہا، نہ الیکشن کمیشن کو اس پر کوئی اعتراض تھا، کیونکہ اگر اعتراض ہوتا تو اس سارے عرصے میں پرویز مشرف کی صدارت پر کوئی اعتراض تو ہوتا، لیکن کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، اب بھی تمام تر اعتراضات نواز شریف کے حوالے سے ہو رہے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہیں کوئی ذکر ہی نہیں۔ عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا معاملہ ہو تو بھی ایک ہی شخص گردن زدنی، پرویز مشرف، عمران خان اور طاہر القادری عدالتوں میں پیش نہ ہوں تو بھی کسی کو کوئی پریشانی نہیں، حالانکہ قانون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے، بہت سی پابندیاں لگانے کے باوجود اور کئی نئے ضابطے متعارف کرانے کے باوجود جنرل پرویز مشرف کی تخلیق یعنی مسلم لیگ (ق) 2002ء کے الیکشن میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرسکی۔ ایسی صورت میں حکومت کیسے تشکیل پاتی؟ چنانچہ یہ کام بھی طاقتوروں کے ذمے لگایا گیا کہ پیپلز پارٹی میں سے بھی ایک دوسری پارٹی اسی طرح تخلیق کر دی جائے جس طرح مسلم لیگ کے دو حصے کئے گئے تھے۔ چنانچہ پیپلز پارٹی میں سے پیٹریاٹس نکالے گئے اور بہت سے آزاد ارکان کو گھیرگھار کر ایک ووٹ کی اکثریت سے میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنوایا گیا۔ یہ وہی جمالی صاحب ہیں جو آج کل قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے لئے بھاگ دوڑ کر دہے ہیں، حالانکہ جب ان سے استعفا طلب کیا گیا تھا تو وہ انکار کی جرأت نہیں کرسکے۔ یہ جرأت بھی بعد میں جسٹس افتخار چودھری نے دکھائی اور شوکت عزیز کا سارا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

پرویز مشرف نے عوامی نمائندگی کے قانون کی متعلقہ شق میں، جو سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور ان کی سربراہی سے متعلق ہے، یہ اضافہ کر دیا تھا کہ جو شخص قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا، وہ سیاسی جماعت کا صدر بھی منتخب نہیں ہوسکتا۔ یہ قانون 2002ء کے الیکشن سے پہلے نافذ ہوا تھا۔ اب اس قانون میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ ترمیم کے بعد وہی قانون بحال ہوگیا ہے جو جنرل پرویز مشرف کی ترمیم سے پہلے موجود تھا۔ اس لئے جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ کوئی نیا قانون نہیں بنایا گیا بلکہ ترمیم کے ذریعہ وہ حصہ ختم کیا گیا ہے جو پرویز مشرف نے اضافہ کیا تھا، ان کا موقف درست ہے۔اب قانونی ترمیم کا فائدہ اٹھا کر نواز شریف چونکہ اپنی مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوگئے ہیں، اس لئے ان کے مخالفین معترض ہیں، حالانکہ ترمیم کے ذریعے 2002ء سے پہلے والی پوزیشن بحال ہوئی ہے، کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی جس طرح 2002ء سے پہلے وہ شخص بھی کسی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا تھا جو قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا، اسی طرح اب بھی وہی پوزیشن بحال ہوگئی ہے۔ اب بعض ماہرین قانون عوامی نمائندگی کے قانون کی اس شق کو آئین کی روح کے خلاف کہنے پر مصر ہیں اور اگلے ہی سانس میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس ترمیم کو ختم کر دے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب 2002ء سے پہلے والے قانون کو سپریم کورٹ نے ختم نہیں کیا تو اب کس بنیاد پر اسے ختم کیا جائیگا؟ لگتا ہے ماہرین قانون اور سیاستدان دانستہ طور پر اس معاملے کو الجھا رہے ہیں، حالانکہ اگر تازہ قانون خلاف آئین تھا تو 2002ء سے پہلے والا قانون عین آئینی کیسے ٹھہرا، حسین لوگ اپنے حسن کے زور پر یہ کرشمہ سازی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟

عوامی نمائندگی کا قانون

مزید : تجزیہ


loading...