قومی اسمبلی، وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج

قومی اسمبلی، وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے سے پہلے قبائل سے پوچھا جائے اور اس معاملے پر عوام سے جھوٹ نہ بولیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی صوبہ بننے پر قومی اسمبلی میں مکمل نمائندگی ہوگی، قبائلی صوبہ ہوگا تو انہی کا وزیراعلیٰ اور انہی کا صوبہ ہوگا، قبائل کو مستقل صوبہ دیں تو تمام صوبوں کے برابر سینیٹ میں نمائندگی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج خود حکومت کہہ رہی ہے نئی بات ہونی چاہیے، جب رواج ایکٹ کی مخالفت کی تو ہمیں سخت باتیں سنائی گئیں، 14 اکتوبر کو پشاور میں قبائلی اجتماع ہوگا، فاٹا انضمام سے اختلاف کرنیوالوں کو دشمن کہا تو ردعمل آئے گا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو پاناماکے بجائے اقامہ پرسزا معاملات کو دھندلاتا ہے، نا اہلی کا فیصلہ آیاتو امریکا نے امداد بند کرنے کی دھمکی دی، 12جولائی کو بیان دیا تھا کہ مسئلہ وزیر اعظم کا نہیں، پاناما کامعاملہ ہی جرم ہے تو سزا بھی پاناما پر ملنی چاہیے۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملے میں تقاضوں کو مشکل بنانے کی کوشش ہورہی ہے، ختم نبوت کے حوالے سے چیزیں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، ہرممبر کا فرض ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے معاملے کا نوٹس لے، اس میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی اس لیے ذمہ دار کوتلاش کرنا چاہیے، جو چاہے کلرک ہو یا وزیر اس کا احتساب ہونا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے مسئلے کا ذکر تو کیا جارہا ہے لیکن اس پر ایوان کے موڈ کا کچھ پتا نہیں، فاٹا کے معاملے پر ہمارا مؤقف 2012 سے ایک ہے، 2012 کے جرگے میں تین مختلف تجاویز سامنے آئی تھیں لیکن 16 دسمبرکو 5 ہزار قبائلی نمائندوں نے گرینڈ جرگے میں فیصلہ کیا کہ قبائل کے مستقبل کافیصلہ یہ جرگہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جرگے میں قرارداد منظور کی گئی کہ قبائل کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ قبائل خود کریں گے اس لیے قبائل کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کے لیے قبائل سے پوچھا جائے، قبائل سے ان کی خواہش پوچھنے میں کیا گناہ ہے۔جے یو ا?ئی (ف) کے امیر کا کہنا تھا کہ اگر قبائل کی مرضی سے فیصلہ ہوا تو عالمی فورم پر بھی کسی تنازع کی صورت میں مضبوط حوالہ موجود ہوگا، ہم اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے سوچ رہے ہیں، ہمارا زاویہ الگ آپ کا زاویہ الگ ہوسکتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ آپ نے ابھی انضمام نہیں کیا لیکن وہ اقدامات کررہے ہیں جس کا مطلب انضمام ہی ہے، اگر اس حوالے سے فیصلہ کرلیا ہے تو لوگوں کو بتائیں اور عوام سے جھوٹ نہ بولیں۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے سوالات کے جواب دینے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایوان کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے انہوں نے ایس او کونسل کو فوری معطل کرنے کی ہدایت کردی ہے جس پر ایس او کونسل کو معطل کردیا گیا ۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ 27 سے 28سوالوں کے جوابات وزارت داخلہ کی طرف سے نہیں دیئے گئے اس سے پہلے چوہدری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے تو جواب آتے تھے لیکن اب وزیر مملکت بھی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی جواب نہیں آرہے پارلیمانی سیکرٹری بھی ہیں وہ بھی نہیں آتے اس ایوان کی توہین اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے اس پر وفاقی وزیر شیخ آفتااب نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے لیٹر بھی لکھے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی آنے کو تیار نہیں میں اب خود جا کر بات کرتا ہوں اس پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ایس او کونسل کو فوری معطل کرکے فوری رپورٹ دی جائے جس پر ایس او کونسل کو معطل کردیا گیا۔پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا افضل نے کہا ہے کہ مالی سال 30 جون 2016-17ء تک زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ نے 92 ارب 45کروڑ سے زائد کے قرضے دیئے ہیں جن میں سے 75 ارب 72کروڑ 34لاکھ سے زائد کے قرضے صوبہ پنجاب کو دیئے گئے ہیں 2013ء میں بینک کے کل 148ارب 44کروڑ 80لاکھ روپے کے اثاثہ جات ہیں 2016ء میں بڑھ کر 21ارب 55کروڑ 61لاکھ روپے کے ہوگئے ہیں جون 2017ء کے آخر تک ملک کے بیرونی اور ملکی قرض 19ارب 63کروڑ 35لاکھ روپے ہیں ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات راجہ اخلاص نے کہا کہ سن گس تھرپارکر سے زیر زمین گیس نکالنے کا منصوبہ پر 3ارب 71 کروڑ 38لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ ہوئی ہے اس منصوبے میں تمام ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں اور ان کی تعداد 385 ہے ،85فیصد ملازمین تھر اور اندرون سندھ سے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران کیا ۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا افضل نے شاہد رحمانی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایگری کلچر بینک کا طریقہ یہ ہے جہاں ریکوری زیادہ ہوئی ہے وہاں زیادہ قرضہ دیا جاتا ہے لون لیا جاتا ہے دیا نہیں جاتا اگر قرضہ دیا جاتا تو واپس نہیں ملے گا تو قرضہ کیسے دیا جائے گا 2016-17ء میں زرعی ترقیاتی بینک نے 92ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ دیا جن میں سے 75ارب 72 کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ صوبہ پنجاب کو دیا گیا 460 میں سے 260 زرعی ترقیاتی بینک کی برانچیں نقصان میں جارہی ہیں بلوچستان میں سو فیصد بینک نقصان میں جارہا ہے جہاں سے ریکوری نہیں ہوتی وہاں بینک قرضہ نہیں دے گا صوبائی حکومت سے مل کر ریکوری کی جائے گی زرعی بینک کے لون چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں سب سے بڑا لون ساٹھ لاکھ ہے چھوٹے لون پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں عبدالستار بچانی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا افضل نے کہا کہ بعض علاقوں میں یہ ہوتا ہے کہ سود ادا کرکے دوبارہ قرضہ لیا جاتا ہے بینک کے اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اگر صوبائی حکومتیں بینک سے تعاون کریں تو بینک کی ریکوری ہو جائے گی اور زراعت کا بھی فائدہ ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 788 افسران بشمول پریذیڈنٹ اور سی ای او کام کررہے ہیں بینک کے 2013ء میں کل اثاثہ جات 148ارب 44 کروڑ 80لاکھ تھے 2016ء میں بڑھ کر 1215 ارب 56کروڑ 10لاکھ روپے ہوگئے ہیں 2013ء سے 2017ء تک افسران کی تنخواہوں کی مد میں خرچ ہونے والے اخراجات تین ارب 32کروڑ پانچ لاکھ روپے ہیں ۔ رکن اسمبلی عبدالقہار خان کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبعہ بندی و ترقی اصلاحات راجہ اخلاص نے کہا کہ سن گیس ( آئی جی سی سی 2009) تھرپارکر سے زیر زمین گیس نکالنے کا منصوبہ سو میگا واٹ پاور پلانٹ کی 8ارب 89 کروڑ 87 لاکھ روپے بشمول 5 ارب 84 کروڑ 73لاکھ روپے ہے ایف ای سی لاگت سے 9دسمبر 2010ء کو ای سی این ای سی نے منظوری دی اس منصوبہ پر کام 2012 میں کام شروع ہوا اس منصوبے میں تمام ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں 85فیصد ملازمین تھر اور اندرون سندھ سے ہیں انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کام بہت سست روی سے ہورہا ہے اور یہ منصوبہ مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا اس منصوبے کیلئے 2013ء سے لیکر اب تک 3ارب 31 کروڑ 38لاکھ سے زائد کی رقم خرچ کی گئی ہے ۔ رکن اسمبلی مزمل قریشی کے سوال کے جواب میں رانا افضل خان نے کہا کہ ہمارے قرضے 62.5 ارب روپے کے ہیں آج بھی ہمارے قرضے ایک حد کے اندر ہیں اگر کہتے ہیں کہ قرضے زیادہ لیئے گئے ہیں تو ان کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے جون 2017ء تک ملک کیبیرونی اور ملکی قرض 19,633.50 ارب روپے کے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری امپورٹ سی پیک کی وجہ سے امپورٹ کی تعداد بڑھ رہی ہے آج بیس ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں ستائیس فیصد قرضوں پر سود دیا جارہا ہے آج ملک مستحکم ہے سی پیک کیلئے مشینری امپورٹ ہورہی ہے اس کی ادائیگی کیلئے ایل سی چائنہ میں بھی کھل رہی ہے رانا افضل نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت بہتر ہیں جب ہم نے حکومت سنبھالی تھی اس وقت آٹھ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر تھے اب بڑھ کر بیس ارب ڈالر ہوگئے ہیں انڈیا کی پاکستان کیخلاف دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے یہ افغانستان کے ذریعے ہمارے ملک میں سازشیں کررہا ہے ۔ رکن اسمبلی شمس النساء کے سوال کے جواب میں کہاکہ 2013ء میں جی ڈی پی کے 8.2فیصد کا مالیاتی خسارہ تھا اور مالی سال 2016-17ء میں خسارہ جی ڈی پی کے 5.8 تک پہنچ گیا ہے شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ کوئلہ اور پاور پراجیکٹ لگائے جارہے ہیں وہ سپر کوالٹی کے لگ رہے ہیں ایسے کوئی پروگرام نہیں جس سے ماحولیاتی تحفظات کو نقصان ہو ۔اسمبلی میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کر دی گئیں ۔بدھ کو اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی جنوری سے جون 2017 کی مدت کے لئے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار اسد عمر نے جنوری سے جون 2017 کی مدت کے لئے کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی معیادی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی جنوری تا جون 2017 کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی سید نوید قمر نے جنوری سے جون 2017 کی مدت کے لئے ریلوے کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی جنوری تا جون 2017 کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی میں رانا محمد حیات نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی جنوری سے جون 2017 کے دوران کی معیادی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی جنوری تا جون 2017 کی میعادی رپورٹ پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی میں رانا محمد حیات نے قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی جنوری سے جون 2017 کی مدت کے لئے کمیٹی کی معیادی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل کی جنوری تا جون 2017 کی مدت کی رپورٹ پیش کردی گئی۔قومی اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل سراج محمد خان نے کمیٹی کی جنوری سے جون 2017 کی مدت کے لئے کمیٹی کی معیادی رپورٹ پیش کی۔قومی اسمبلی میں اسلام آباد کی مارکیٹوں کے اچانک معائنے کے نام پر سی ڈی اے کے ملازمین کی جانب سے خواچہ فروشوں کے استحصال سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس موخر کردیا گیا۔اجلاس کے دور ان شکیلہ لقمان اور زیب جعفر کی جانب سے اسلام آباد میں مارکیٹوں کے اچانک معائنہ کے نام پر سی ڈی اے کے ملازمین کی جانب سے خوانچہ فروشوں کے استحصال سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ یہ چیف کمشنر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یہ وزارت داخلہ کا شعبہ ہے۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ہمارے سیکرٹریٹ نے وزارت داخلہ کو آگاہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر


loading...